Home تجزیہ بہار الیکشن:مسلمان جائے تو جائے کہاں ؟ ـ مسعود جاوید

بہار الیکشن:مسلمان جائے تو جائے کہاں ؟ ـ مسعود جاوید

by قندیل

یہ تو ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہار کے مسلم ووٹرز نے ہمیشہ اپنے شعور کی پختگی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی صوابدید پر ووٹ کیا ہے کبھی کسی شاہی امام یا جماعت و جمعیت کے ” حضرت” کے ” فتووں” کو قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ ان کی صوابدید ہمیشہ مقامی ایشوز پر مبنی ہوتی تھی جس سے ضروری نہیں بہار کے باہر والے تجزیہ نگار مکمل اتفاق کریں۔ تاہم اب حالات بدل چکے ہیں اور مقامی کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت اور پارٹی کی پالیسی کل ہند سطح پر مسلمانوں کے ملی قومی ثقافتی اور لسانی مفادات کو متاثر کرنے والی ہے۔ ایسے میں محض سڑک چیک ڈیم تالاب بجلی اور پانی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ووٹ کرنے کا فیصلہ عقل پر مبنی نہیں ہوگا۔
اس وقت بہار اسمبلی الیکشن میں صورت حال بہت سیال diluted ہے، بی جے پی کے ایک حلیف نے اعلان کیا ہے کہ وہ مودی حکومت کے ایجنڈے کو اپنا ایجنڈا بنائے گی اور مودی کے نام پر الیکشن لڑے گی اس لئے کہ این ڈی اے کے دوسرے حلیف جدیو اور اس کے لیڈر نیتیش کمار لائق اقتدا نہیں ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر بی جے پی اور مودی حکومت کا ایجنڈا ہی اس کے انتخابی منشور کا محور ہوگا تو ماضی کا دیا اور حال کا کمل ہی کافی ہے چراغ کی ضرورت کیا ہے ؟ کیا پچھڑی جاتیوں کے ووٹ بٹورنے کے لئے؟ نتیش کمار کی جدیو اور این ڈی اے کی دوسری حلیف پارٹیاں کامن مینیمم ایجنڈا کے تحت مکمل عملی طور پر نہ سہی زبانی ہی سہی اقلیت مخالف پالیسیوں پر کھل کر رضامندی سے کتراتی تو تھیں اگر مرکز اور بی جے پی کے دباؤ میں منظوری دے بھی دی تو شرما شرمی میں تاویل اور رفو تو کرتی تھیں۔ ظاہر ہے ہارڈ ہندوتوا کو یہ پسند نہیں اس لئے بہت ممکن ہے بی جے پی نیتیش کمار سے خلاصی کا سوچ رہی ہو۔ بالفاظ دیگر نیتیش کمار کے برے دن آنے والے ہیں۔ پچھلے الیکشن میں بی جے پی مخالف نعروں کے سہارے اقلیتوں کا ووٹ بلکہ مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانا بہار کی اقلیت نہیں بھولی ہو گی اس لئے امید تھی کہ بڑے بھائی بی جے پی ڈوبتے کو سہارا دیتی۔ لیکن نیتیش اور جدیو بی جے پی کے لئے مفید تھی اس لئے کہ اقلیتوں کا ووٹ اسے ملتا تھا اب نیتیش پر سے چونکہ اقلیتوں کا اعتماد اٹھ گیا تو وہ بی جے پی کے لئے بھی غیر مفید ہے۔
یہ تو ہوئے سیاسی امکانات مگر جو سوال بہار کی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے تعلق سے اہم ہے وہ یہ کہ ان کے پاس متبادل کیا ہے؟ یہ جائیں تو جائیں کدھر؟ لالو پرساد یادو کی کرشماتی شخصیت کی عدم موجودگی اور آج کے تناظر میں ایم وائی سمیکرن کا کھوکھلا پن ، کانگریس اور راجد کی مسلم چہروں کو نمایاں کرنے میں جھجک اور مسلم ایشوز پر بات کرنے میں اکثریتی طبقے کی ناراضگی کے ڈر نے دراصل مسلمانوں کو ڈرا دیا ہے کہ شاید اب ایم وائی سمیکرن کی بات کبھی نہ ہو۔ ہاں ٹکٹ کچھ مسلمانوں کو مل جائے لیکن ان کی پالیسی کیا ہوگی یہ واضح نہیں ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ کہ ووٹرز اپنے اپنے حلقۂ انتخاب میں پارٹی اور امیدواروں سے مطالبہ کریں کہ وہ انتخابی منشور میں اقلیتوں کے مفادات کو یقینی بنائیں۔ اور انتخابی منشور محض کاغذ کا ٹکڑا ثابت نہ ہو اس پر عمل کرنے کا عہد کرائیں۔
اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے اہم ترین مفادات اس ملک کے دستور ، مذہب اور جات برادری کی تفریق کیے بغیر ہر طبقہ کی شمولیت inclusiveness سیکولر اقدار کا تحفظ اور پسماندہ طبقات کی سماجی سیاسی معاشی اور تعلیمی ترقی کے لئے روڈ میپ، ان امور پر کاربند ہونے کا عہد commitment ان کا بنیادی مطالبہ ہونا چاہیے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like

Leave a Comment