بہارالیکشن، مسلمان اور نیو ہندوتوا کے عہد میں "اپنی قیادت” کا مسئلہ- پروفیسر محمد سجاد

(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ)

سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے مڈل کلاس کا ایک بڑا حصہ ان دنوں "اپنی قیادت” کی بات کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ فیس بک کے مقابلے مسلم نوجوانوں کے واٹس ایپ گروپس پرایسی باتیں نسبتا زیادہ کھل کر ہو رہی ہیں۔ بعض مسلمان تو اس سوال کو لے کر محض جذباتیت ہی سے لبریز نہیں ہیں، بلکہ شدت پسندی کی طرف بھی مائل نظر آ رہے ہیں۔ اقتدار میں مسلمانوں کی متناسب حصے داری ہونی چاہیے، یہ بات اب زیادہ زور پکڑنے لگی ہے۔ لہذا اس مسئلے پر گفتگو سے گریز کرنا شاید غیر مناسب ہوگا۔ اس مسئلے کی میرٹ اور نقص دونوں پرکئی پہلووں سے تبادلۂ خیال کرنا مناسب معلوم پڑتا ہے۔
اس کے لیے یہ غور کرنا بھی ضروری ہوگا کہ جو لوگ زیادہ زور سے ایسے سوال اٹھا رہے ہیں، وہ خود نظریاتی اعتبار سے کہاں کھڑے ہیں؟ اگر وہ انڈین سیکولرزم ،پلو رلیٹی یعنی کثیر مذہبی و تہذیبی رواداری کی تعبیر و تشریح کی معرفت ایسے مطالبات پیش کر رہے ہیں توان کا مودودی کی سیکولرزم اور ڈیموکریسی کی مخالفت پر کیا کہنا ہے؟ اور جماعت اسلامی ہند کے اندر 1970 کی دہائی کے بعد آنے والی خاموش نظریاتی تبدیلیوں کی وجوہات کیا ہیں اور ان تبدیلیوں پر ان کا واضح موقف اب کیا ہے؟ مزید یہ کہ ان کا موقف مولانا حسین احمد مدنی (1879-1957) کے نظریۂ متحدہ قومیت (1938) پر کیا ہے؟ اور مولانا مودودی و مولانا مدنی، دونوں کے تصورِ قومیت میں تضادات کیوں اور کیسے ہیں؟ ان تضادات پر ایک سیر حاصل بحث کیے بغیرکسی مخصوص نتیجے پر پہنچنا موقع پرستی اور منافقت کے مترادف ہے یا نہیں؟ قابل غور ہے کہ انڈین سیکولرزم اور سیکولر نظام میں لادینیت اور طاغوتی نظام دیکھنے والی جماعت اسلامی کا قیام مولانا مودودی (1903-1979) نے1941 میں کیا؛ یعنی مولانا مدنی کے متحدہ قومیت کی تھیسس (1938) کے تین برس بعد ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ متحدہ قومیت (صوبہ بہار کے کانگریسی فریڈم فائٹر شاہ محمد عمیر نے اسے مشترکہ وطنیت کہا تھا) کی مخالفت ہی کے لئے اس تنظیم کا قیام 1941 میں کیا گیا تھا؟
نیئو ہندوتوا کے موجودہ عہد میں اس نظریے کے عروج کی بہت بڑی وجہ 1985 اور 1986 کی کچھ باتیں ہیں، مثلا شاہ بانو کے حق میں آئے سپریم کورٹ کے فیصلے (اپریل 1985) کے خلاف راجیو حکومت کو گمراہ کرکے ایک قانون بنوانا (مارچ 1986) اور اس کے عوض بابری مسجد کے مقامی یا علاقائی قضیے کو ملک گیر قضیہ بنوانا،جس سے بھگوا طاقتوں کو توانائی فراہم ہوئی۔ اس غلطی کا اعتراف آج بھی بر جستہ طورپر علما اور اس قسم کی مسلم قیادت کی جانب سے کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟ مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی (1914-1999) نے خود اپنی آپ بیتی’ کاروان زندگی‘ (1988) کی تیسری جلد کے چوتھے باب میں صفحہ 157 پر اعتراف کیا ہے کہ :
’’تحفظِ شریعت مہم کا "نتیجہ یہ ہوا کہ یہ مسئلہ [قضیۂ بابری مسجد] پیچیدگی اختیار کرتا گیا، اس نے فضا میں اشتعال و اضطراب پیدا کر نے میں بہت بڑا حصہ لیا”۔
علی میاں مرحوم مزید فرماتے ہیں (ص۔ 134):
’’مجھ سے جناب ابراہیم سلیمان سیٹھ یہ کہہ چکے تھے کہ راجیو جی سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس بل کے پیش ہونے اور پاس ہونے سے پہلے مختلف مسلم ممالک کا طرز عمل بھی معلوم کر لیا جائے کہ انھوں نے اپنے یہاں کے مسلم پرسنل لا میں کوئی تر میم کی ہے یا نہیں ؟ اگر انہوں نے کی ہے تو پھر ایک سیکولر اسٹیٹ کو اس میں کوئی تا مل نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے سمجھ لیا کہ اگر انہوں نے اس مشورہ کو قبول کر لیا تو مسئلہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ میرے ذہن میں خدا نے ایک بات ڈالی اور وہ تیر اپنے نشانے پر بیٹھا، ہم لوگ جب جمع ہوئے تو وہ میرے سامنے ہی بیٹھے تھے میں نے کہا کہ راجیو جی! اگر آپ سے کوئی کہے کہ دوسرے مسلم ممالک بھی تو ہیں، وہاں سے معلوم کرنا چاہیے کہ انہوں نے اپنے عائلی قانون Personal Law میں کوئی ترمیم کی ہے یا نہیں ؟ پھر آپ ان کی تقلید کر سکتے ہیں تو آپ کو یہ پوزیشن ہر گز قبول نہیں کرنا چاہیے، ہم ایک مر تبہ اگر انکار کریں تو آپ کو چار مرتبہ انکار کرنا چاہیے۔ یہ بات جو نفسیاتی اثر رکھتی تھی اپنا اثر کر گئی اور راجیو جی نے پھر دوسرے ممالک کا حوالہ نہیں دیا”۔
یعنی کئی با خبر لوگوں کا یہ کہنا بے جا نہیں کہ مذکورہ نام نہاد تحفظ شریعت قانون 1986 کے عوض بابری مسجد کا سودا اس وقت کی بھگوا طاقتوں کے ہاتھوں راجیو حکومت کی معرفت کر لیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ راجیو بہت بڑی طاقت بن کر پارلیمنٹ میں آ چکے تھے اور اگلا چناؤ ابھی چار سال دور تھا۔ پھر بھی ہمارے اکابر نے راجیو سے ایسا سودا کیا۔ یعنی کہا جا سکتا ہے کہ کانگریس سے زیادہ بے قراری اس سودے کے لئے ملی اکابرکو تھی۔
اس سودے بازی کا راز مزید عیاں ہو جاتا ہے جب آپ کانگریس اور مومن کانفرنس کے رہنما ضیاء الرحمن انصاری (1925-1992) کی بایوگرافی پڑھتے ہیں۔ 15جنوری 1986 کو سری فورٹ آڈیٹوریم، دہلی میں مومن کانفرنس کے جلسے میں راجیو گاندھی سے یہ اعلان کروایا گیاکہ شاہ بانو کے خلاف ایک قانون بنایا جائے گا اور پہلی فروری 1986 کو فیض آباد کی نچلی عدالت سے بابری مسجد کا تالا کھلوانے کا فیصلہ آ گیا اور اسی دن سرکاری چینل دور درشن پر اس فیصلے کے نفاذ کا ملک کو نظارہ کرایا گیا۔
ان تمام تاریخی حقائق کے باوجود اپریل 2018 میں پٹنہ میں "دین بچاؤ دیش بچاؤ” ریلی کر کے حکمراں اتحاد این ڈی اے کی حلیف جنتا دل یونائٹیڈ سے کسی مشکوک شبیہ کے مسلم شخص، جو اس دین بچاؤ ریلی کا کنوینر بھی تھا، کے لئے ایم ایل سی کی سیٹ بھی لے لی گئی۔ تاریخی اور تاریخ ساز ادارہ امارت شرعیہ کی شبیہ کو اس حرکت سے جس قدر مجروح کیا گیا، ابھی اس کا احتساب اورانکشاف بھی باقی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے صرف دو ماہ قبل فروری 2018 میں حیدرآباد میں مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کی مدد سے پرسنل لا بورڈ نے بھی اپنا جلسہ کیا تھا۔
لہذا سوال یہ ہے کہ "اپنی قیادت” کی بات کرنے والے لوگ ان سوالات پر اپنا موقف کب واضح کریں گے؟ اگر نمائندوں سے ان کے اصول و نظریات کو لے کر کوئی بحث نہیں کی جا سکتی، تو پھر "اپنی قیادت” کس لئے اور کیوں؟ قابل غور بات یہ ہے کہ بہار کا چناؤ 2020 نیو ہندوتوا کے عہد میں ہو رہا ہے، جب لبرل سیکولر ہندو تو دور کی بات، نرم ہندوتوا والوں کا بھی کئی جگہ سے منتخب ہونا مشکل ہے۔ ہم صرف مسلم نام کے نمائندہ ہونے کو مسلم نمائندگی کیوں مانتے ہیں؟نمائندہ کا نام مسلم ہونے سے کیا فرق پڑا، اس پر بھی بات ہو؟ کیا انہوں نے ایسے سوالات ایوان کے اندر اٹھائے؟ مسلمانوں کے علاوہ اور دیگر کن سوشل گروپس کا ووٹ لینے کی صلاحیت مجوزہ مسلم امیدواروں میں ہے اور ان کے لئے کتنے مسلمان امیدواروں نے کیسی سیاسی تحریکی کوششیں کی ہیں؟ کیا مسلمان خود اپنے اندر کے under represented اور marginalized گروپس، یعنی پسماندہ برادریوں کی متناسب نمائندگی کی لڑائی کو مضبوط کرنے کے لئے ایمانداری اور سنجیدگی کا اظہار کرنے کو آمادہ ہیں؟
چند لوگوں نے 1997 میں آواز بلند کی تھی کہ رابڑی دیوی کے بجائے غلام سرور، جابر حسین، عبدالباری صدیقی وغیرہ کو وزیر اعلی کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟ مجھے اس وقت کے راجد کی حمایت کرنے والے مسلمانوں کا جواب اب تک نہیں ملا ہے۔ آخر اس وقت ہندوؤں کا اتنا بڑا حصہ مسلم مخالف کونسولیڈیشن(جتھہ بندی) کا شکار نہیں ہوا تھا اور راشٹریہ جنتا دل کا انحصار مسلم ووٹ پر تب بہت زیادہ تھا۔
سیاست صرف چناؤ نہیں ہے۔ سیاست اور بھی بہت کچھ ہے، ان میں مسلمانوں کی شرکت کتنی رہی ہے؟ جس شدت سے شاہ بانو کے خلاف سڑکوں پر جلوس نکلا تھا کیا اسی شدت سے سڑک، بجلی، پانی، قانون و انتظام اور روزگار کے لئے جلوس ہم نکالتے ہیں؟ یعنی ہم شہری (سیٹیزن) بھی ہیں یا صرف مسلمان ہیں؟ اگر ہم صرف مسلمان ہیں تو ہم ہر نہج پر اقلیت اور ہر نہج پر کمزور۔ اگر ہم شہری بھی ہیں، صرف مسلمان نہیں ہیں، تو پھر مساوی حقوق کی لڑائی لڑ سکتے ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں میں اپنے قانون ساز رہنماؤں کا احتساب کرنے کی روش کیوں نہیں راہ پاتی؟ [جب کہ روایت تو یہ ہے کہ سنہ 1878 میں جب سر سید احمد خاں کو وائسرائے کونسل کا ممبر بنایا گیا تو دو برس کی قلیل مدت میں ہی انہوں نے کئی بل کا مسودہ ڈرا فٹ کر کے پیش کیا تھا۔ ان میں زرعی ترقی کے لئے بینکوں کے قیام کا بل (ستمبر 9، 1879) اور چیچک کے لئے لازمی ویکسینیشن کا بل (ستمبر 30، 1879) اہم ترین ہیں]۔
لہذا قیادت کی کوالٹی پر تبادلۂ خیال کی ضرورت ہے۔ کئی اور اہم سوالات بھی ہیں۔ مثلا اتر پردیش کے68 مسلم ایم ایل اے 2012 میں منتخب ہوئے جو مظفرنگر اور شاملی کے 2013 کے فسادات پر خاموش رہے ۔ اس پر قوم نے تفصیلی گفتگو اب تک کیوں نہیں کی ہے؟ جنوری 2007 کے گورکھ پور فساد میں یوگی ملزم تھا، ثبوت کی سی ڈی پورے طور پر سیل ہی رہ گئی، کسی مسلم قانون ساز نے کچھ نہیں بولا۔ آج تک نہیں بولا۔ ملائم، مایاوتی، اکھلیش، تینوں کی حکومتیں گزر گئیں، ان سوالات کو اٹھائے بغیربہار میں اسد الدین اویسی نے مایاوتی سے اتحاد بھی کر لیا ۔ یہ بھی واضح رہے کہ اگر جولائی- اگست 2013 کے مغربی اتر پردیش اور نوئڈا وغیرہ کے حالات اور خبروں کا جائزہ لیں، تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سماج وادی پارٹی خود فرقہ وارانہ پولرائزیشن کروا رہی تھی تاکہ اس کا فائدہ وہ 2014 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں اٹھا سکے۔ کیوں کہ اس پولرائزیشن سے وہ کانگریس، بی ایس پی اور لوک دل تینوں کو کمزور کرنا چاہ رہی تھی۔ لیکن سماج وادی پارٹی کو تب اندازہ نہیں تھا کہ بھگوا آنتیں تب تک کتنی مضبوط ہو چکی تھیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ تب مظفرنگر معاملات کے وزیرخود اعظم خاں تھے۔ اس پر راقم نے دو سے زائد انگریزی کالم لکھ کر لوگوں کو متنبہ بھی کیا تھا۔ پھر بھی آج تک سماج وادی پارٹی اور اعظم خان سے ایسے سوالات پوچھے ہی نہیں گئے ہیں۔
بہار کے حوالے سے تھوڑا پیچھے چلتے ہیں۔ بہار میں اردو ملازمت کو لے کرسابق چیئرمین بہار لیجسلیٹیو کونسل پروفیسر جابر حسین صاحب نے تنویر الحسن کمیٹی بنائی تھی۔ اس کی رپورٹ پر اگر میری جانکاری غلط نہیں ہے تو خود تنویرالحسن صاحب نے ہی آج تک منہ نہیں کھولا۔
ایک بات اور! جس لالو رابڑی عہد حکومت کی تعریف ہم فسادات روکنے کے لئے کرتے ہیں، اس عہد میں دلتوں پرجو زیادتیاں ہوئیں ان کا کتنا درد ہے ہمارے اور ہمارے رہنماؤں کے دل میں؟ ہم بھاگل پور(1989، 1990) کو جس طرح یاد کرتے ہیں، کیا اسی درد اور شدت کے ساتھ لکچھمن پور باتھے اور بیتھانی ٹولہ کے قتل عام کو بھی یاد کرتے ہیں؟
ریگا اور سیتا مڑھی فسادات (اکتوبر 1992) میں اب تک انصاف نہیں ملا، ایس آر اڈیگے کمیٹی نے انکوائری ہی نہیں کی۔ کسی تنویر الحسن، کسی اختر شاہین نے اپنا منہ نہیں کھولا، کیوں؟ عام مسلمان بھی اس سوال کو لے کر آج تک سڑک پر نہیں آئے، کیوں؟
اسد الدین اویسی کی پارٹی مجلس نے حیدرآباد میں تعلیمی ادارے بھی قائم کئے، مائکرو فائینینس کی مدد بھی پہنچائی، 1979 کے بعد سے تو اور زیادہ ایسے اقدام کئے۔ لیکن کشن گنج میں تعلیمی ادارے اور مائکرو فائینینس کا وہی ماڈل اپنانے کے بجائے، "اپنی قیادت” کی افیم کیوں چٹا دی؟ الزامات یہ بھی ہیں کہ دیگر کئی پارٹیوں ہی کی طرح مجلس کی بہار یونٹ کے ذمے داروں نے بھی امیدواروں سے ٹکٹ کے بدلے روپے مانگے۔ میرے کانوں تک بھی ایسی افواہیں پہنچیں، بالخصوص باج پٹی (سیتا مڑھی)، ڈھاکہ (مشرقی چمپارن) اور صاحب گنج (مظفرپور) کے حوالے سے۔ چند لوگوں کی معرفت اس بات کو ذمے داران مجلس تک پہنچانے کی کوشش کی۔ مجھے بتایا گیا کہ سیمانچل کے باہر ان کا کوئی امیدوار نہیں ہوگا۔ لیکن پھر بھی میں دیکھ رہا ہوں کہ صاحب گنج (مظفرپور) سے ایک امیدوار مجلس کا بھی ہے۔ اس حلقے سے این ڈی اے کا ایک راجپوت امیدوار اس بار مکیش سہنی کی پارٹی وی آئی پی سے ہے، جبکہ اس سے قبل دو بار وہ جدیو سے منتخب ہو چکا ہے اور اس درمیان کم از کم دو قتل کا ملزم ہو چکا ہے۔ عام لوگوں میں یہ تاثر ہے کہ وی آئ پی نے روپے لے کر ٹکٹ دیا ہے (ایسا الزام، مظفرپور کے ہی بو چہاں سیٹ کے بارے میں زیادہ شدید ہے) اور یہ بھی افواہ ہے کہ صاحب گنج کے اسی این ڈی اے امیدوار نے روپے دے کر مجلس سے بھی ایک مسلم امیدوار کھڑا کر دیا ہے تاکہ صاحب گنج کے مہا گٹھ بندھن امیدوار کو ہروایا جا سکے۔ ایسی افواہوں سے مجلس کے خلاف ناراضگی شدت اختیار کر رہی ہے، بالخصوص ان حلقوں میں جہاں مسلمانوں کی آبادی 20 فی صد سے کم ہے۔ صاحب گنج (مظفرپور) ایسی ہی قلیل مسلم آبادی والا حلقہ ہے۔
ان تمام سوالات پر غور کر نا کیوں ضروری ہے؟
بہار کے مسلمانوں سے متعلق کئی واٹس ایپ گروپس میں متعدد قسم کے کنفیوزن، تضاد، اور منافقت کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ مثلا شمالی بہار کے ایک حلقے سے جنتا دل یونائٹیڈ کا ایک مسلم امیدوار ہے جو دو بار لگاتار منتخب ہو کر تیسری بار امیدوار ہے۔ اس حلقے کے مسلم ووٹروں میں ایک بڑی تعداد سرکاری اسکولوں اور سرکاری دینی مدارس کے اساتذہ کی ہے۔ ان میں سے بیشتر کو اس امیدوار سے اعتراض ہے، لیکن اعتراض کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ بی جے پی کا حلیف ہے۔ چونکہ اعتراض ہے تو اسے ہروانا بھی ہے، لیکن انہیں ایک مسلم امیدوار ہی چاہیے، اپنی قیادت کے نام پر۔ تو یہ لوگ اس واٹس ایپ گروپ پر بغیر کسی شرمندگی کے ایسے مسلم امیدوار کی حمایت کر رہے ہیں، جس کی پارٹی واضح مگر بلا واسطہ طور پر بی جے پی ہی کی معاون ہے، یعنی پپو یادو کی جن ادھیکار پارٹی۔ اساتذہ اور مدرسین کے اس واٹس ایپ گروپ پر متبادل سیاست کی اس قسم کو شدت سے فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان کا صاف کہنا ہے کہ انہیں اس بات سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ ان کا یہ نیا مسلم امیدوار اب تک کے تمام سوالات، بہ شمول سی اے اے احتجاجات پر گونگا کیوں تھا؟ اس گروپ کے ایڈمن کو اس گونگے پن سے خاص طور پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سرکاری انٹر کالج کے یہ پڑھے لکھے استاد مودودی کے نام کی مسلم سیاست کرنا چاہتے ہیں، مجلس کی مسلم قیادت کے حامی ہیں اور مولانا مدنی کے سنگ بنیاد ڈالے ہوئے نصف صدی سے زیادہ پرانے سرکاری دینی مدرسے کے سکریٹری بھی ہیں۔ مودودی کی سیکولر ڈیموکریسی (اور جماعت اسلامی ہند کی انتخابی سیاست کی آزاد ہندوستان میں شروع کی دہائیوں میں مخالفت) کی نظریاتی مخالفت اور مولانا مدنی کی متحدہ قومیت اور مشترکہ وطنیت کے درمیان تضادات اور اختلافات کی وضاحت کا مطالبہ کرنے والے کو ملعون و مطعون یوں قرار دے دیا گیا کہ ایسے سوالات کے ذریعے اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، جو مغربی علوم کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اب ایسے مذہبی ٹھیکیداروں سے یہ پوچھا جائے کہ "اسلام کا مذاق ” سے ان کی کیا مراد ہے؟ کیا صرف مودودی ہی اسلام ہیں؟ یا صرف انٹر کالج کے وہ استاد ہی اسلام ہیں؟ ان سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ ان جیسے مسلمانوں کی سوچ کی بنا پر یا رد عمل کے طور پر ہر ہندو اگر یہ طے کر لے کہ وہ صرف ہندو امیدوار ہی کو ووٹ دے گا تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ تو اس سوال کا بھی تشفی بخش جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔ بس ایک دلیل یہ دیتے ہیں کہ مسلمان کو بھی ہندوؤں کی کئی جاتی کی طرح ایک جاتی مان لیجیے! جب ان سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پسماندہ برادریوں کی نمائندگی کی بھی فکر کیجیے، تب مزید دلچسپ جھوٹ بول دیا جاتا ہے: ہم لوگ ذات پات میں یقین نہیں رکھتے۔ واضح کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ وہ ذات پات میں یقین نہیں رکھنے کا جھوٹا دعوی تو کرتے ہیں، لیکن ایسی تفریق پر عمل ضرور کرتے ہیں!
اس مخصوص واٹس ایپ گروپ کی اس بحث کو محض مثال اور نمونہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ورنہ بیش تر ایسے گروپس پر ایسی ہی گفتگو ہو رہی ہے۔
یعنی مسلمانوں کے تعلیم یافتہ مڈل کلاس کا ایک حصہ ایسی ہی سوچ، فکر کا حامل ہے۔ انہیں جرائم زدہ اور استحصالی سیاست، اکثریت پرستانہ فرقہ واریت، علاقے کے عمومی ڈیولپمنٹ وغیرہ سے سروکار تقریباً نہیں کے برابر ہے، اور اپنی قیادت کی فکر عروج پر ہے۔ یہ نہ صرف فرقہ پرستی کے قریب ہے ،بلکہ اصلاحی و فلاحی ، تعلیمی و اقتصادی اقدام کو ترک کر کے، سیاسی اقتدار پانے کی عجلت اور ہوس ایک قسم کی "پاور تھیالوجی” کی غمازی کرتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی مرض کی طرح ہے، جس کا علاج ضروری ہے۔
کیا اقلیتی فرقہ واریت کو نظر انداز کر کے اکثریت کی فرقہ واریت کے خلاف لڑائی مضبوط ہو سکتی ہے؟ ایسے سوالات پر آج نہایت سنجیدہ بحث کی شدید ضرورت ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*