بہار الیکشن میں مجلس کی کامیابی کاسبب (اداریہ روزنامہ ہندوستان ٹائمس)

ترجمہ:نایاب حسن

بہار الیکشن کے نتائج کا ایک حیرت انگیز پہلویہ ہے کہ اسدالدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ،جو اصل میں حیدرآباد کی اولڈ سٹی سے تعلق رکھنے والی ایک چھوٹی سیاسی جماعت ہے ، اس نے اسمبلی کی پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ مسٹر اویسی بہار کے سیمانچل خطے ،خصوصا کشن گنج (جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے) میں اپنی پارٹی کی گرفت مضبوط کرنے کے لئے مسلسل کوشش کر رہے ہیں ۔ مجلس نے پچھلے سال اس خطے میں ضمنی الیکشن کےدوران ایک سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی؛ لیکن اِس بار ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔
مسٹر اویسی بھارتی سیاست کی ایک متنازع فیہ شخصیت ہیں۔ اگرچہ وہ دستورکی زبان بولتے ہیں اور مسلمانوں اوردیگر پسماندہ طبقات کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں؛لیکن ان کی جماعت اکثر انتہا پسندانہ بیان بازی اور نفرت انگیز تقریروں کی وجہ سے زیر بحث رہتی ہے۔ مگر پہلے مہاراشٹراور اب بہار جیسی ریاستوں میں مجلس کی نمود اور اس کی کامیابی کی وجہ کیا ہے؟یہ ایک اہم سوال ہے۔
بات یہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے صدمے کے بعد ہندوستانی مسلمان مخصوص مذہبی شناخت پر مبنی سیاسی جماعت بندی کے تئیں طویل عرصے تک مشکوک ومتذبذب رہے اور انھوں نے اپنا سارا مادی، ذہنی و فکری سرمایہ سیکولر پارٹیوں پر خرچ کیا اور جمہوری قومی دھارے سے وابستہ رہے؛ لیکن ۲۰۱۴میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا عروج نئے سرے سے سیاسی سطح پر ان کی حاشیہ نشینی و بے گانگی کا باعث بنا ہے۔ بی جے پی سے لڑنے میں پرانی "سیکولر” جماعتوں کی نا اہلی اور ان قوتوں کی جانب سے ہاتھ آنے والی مایوسی و نامرادی بھی متبادل کی تلاش کا باعث بنی ہے۔ پس مسٹر اویسی پر حزبِ اختلاف کے جو لیڈران ووٹ کٹوا ہونے کا الزام لگارہے ہیں ،وہ دراصل ہندوستانی جمہوریت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی رہے ہیں ؛ کیوں کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرح مجلس کو بھی حق ہے کہ وہ ملک کے کسی بھی الیکشن میں حصہ لے۔ البتہ اس کے ساتھ ساتھ مسٹر اویسی کو ہر حال میں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی پارٹی تکثیریت ،امن پسندی ، جمہوریت اور آئینی و دستوری راستے پر گامزن ہے اور وہ اقلیتی فرقہ پرستی میں شامل نہیں ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*