بہار الیکشن:کشن گنج اے ایم یو سینٹر کے اچھے دن کب آئیں گے؟

کشن گنج:(ولی احمد)کشن گنج کے انسان اسکول میں اپنے دنوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے شفیع احمد ناسٹیلجک ہوجاتے ہیں۔ اس اسکول کو ماہر تعلیم، پدم شری سید حسن نے 1966 میں قائم کیا تھا، اس اسکول نے بہار اور اتر پردیش کے طلبا کو راغب کیا اور وہاں سے بہت سے طلبا و طالبات نے تعلیم حاصل کی۔ 50 سالہ شفیع احمد کہتے ہیں "سید بھائی نے اسکول کے لیے کشن گنج کا انتخاب اس لئے کیا تھا کہ وہ مسلم کمیونٹی کو تعلیمی پسماندگی سے نکالنا چاہتے تھے۔” نصف صدی سے زیادہ گزرنے کے بعد یہ ادارہ اب اپنے ماضی کا سایہ بھی نہیں رہا۔ احمد کہتے ہیں "فنڈ میں کمی کے علاوہ انتظامی مسائل بھی ہیں‘‘۔
کشن گنج میں 57.04٪ خواندگی کی شرح ہے ،جو قومی اوسط 77.7٪ سے بہت کم ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جب یہ اسکول ڈگری کالج میں بدل گیا تھا اس کے بعد بھی کئی سال تک اسے بہار اسکول ایگزامنشین بورڈ کی منظوری نہیں ملی تھی اور اس کے طلبا مختلف اسکولوں کے تحت بورڈ امتحانات میں شریک ہوتے رہے۔ ڈگری کورس مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی ، پٹنہ کے تحت پڑھائے جاتے تھے۔
2013 میں کشن گنج نے امید کی ایک اور کرن دیکھی ، جب سچر کمیٹی کی رپورٹ کے پس منظر میں یو پی اے حکومت نے کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے اسٹڈی سینٹر کو منظوری دی۔ یہ سینٹر برسوں کے احتجاج کا نتیجہ تھا۔ تاہم انسان اسکول کی طرح اے ایم یو سینٹر بھی اب تک اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا ہے۔ ابھی بھی عارضی عمارت سے کام چل رہا ہے، اسے فنڈ کی کمی کے ساتھ بہار حکومت کے ذریعے دیے گئے 224.02 ایکڑ رقبے پرقانونی مسائل کا بھی سامناہے۔ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن امام کہتے ہیں "یو پی اے حکومت نے 136 کروڑ روپے منظور کیے تھے ،جس میں سے صرف 10 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ اس کے بعد سے ہمیں کوئی گرانٹ نہیں ملی ہے۔2018 میں نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے مہانندا ندی کے قریب سینٹر کو الاٹ کی گئی زمین پر سوال کھڑا کیا تھا۔ حالیہ برسوں میں سینٹر کے کورسز میں بھی کمی کی گئی ہے۔ جب سینٹر نے ایم بی اے اور بی ایڈ کورسز کی شروعات کی ، تو قومی کونسل برائے ٹیچر ایجوکیشن (این سی ٹی ای) نے 2018 میں بی ایڈ کورس کو روکتے ہوئے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ نے پہلے سے منظوری نہیں لی ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین جسے امید ہے کہ کشن گنج بہار کی سیاست میں پاؤں جمانے کے لیے معاون ثابت ہوگا ،اس کا کہنا ہے کہ اے ایم یوسینٹر اس کے اہم انتخابی ایشوز میں سے ایک ہے ۔ گذشتہ سال کشن گنج اسمبلی ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے قمر الہدیٰ کا کہنا ہے کہ "مرکز اور ریاست نے سیمانچل کو بطور ووٹ بینک استعمال کرتے ہوئے جان بوجھ کر خطے کو جاہل رکھا ہے۔”کشن گنج کے ماتحت پانچ اسمبلی نشستوں پر اے آئی ایم آئی ایم ، جے ڈی (یو) اورمہاگٹھ بندھن کے مابین مقابلہ ہوگا۔ جے ڈی (یو) نے کوچا دھامن سے موجودہ ایم ایل اے مجاہد عالم اور ٹھاکر گنج سے نوشاد عالم کو دوبارہ میدان میں اتارا ہے ، جبکہ اس دوڑ میں AIMIM کے ریاستی صدر اختر الایمان بھی ہیں۔
مجاہد جنھیں دوبارہ کامیابی کی امید ہے، ان کا کہنا ہے کہ نتیش حکومت اے ایم یوسینٹرکے احیا کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہناہے کہ ’’این جی ٹی آرڈر پر بہار حکومت اور اے ایم یو نے گنگا کی صفائی کے قومی مشن میں اپیل دائر کی ہے۔ ہم نے این سی ٹی ای آرڈر کے خلاف بھی درخواست دائر کی ہے ،اگر اس جگہ کو کلیئرنس نہیں ملتی ہے توجے ڈی (یو) حکومت متبادل جگہ کی منظوری دے گی‘‘۔ شفیع احمد جنہوں نے انسان اسکول کا خواب بکھرتے ہوئے دیکھا اور اب کشن گنج سنٹر میں لائبریرین کی حیثیت سے کام کرتے ہیں ،وہ اب بھی پر امید ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "انسان اسکول تو ایک پرائیویٹ ادارہ تھا؛ لیکن کشن گنج سینٹر کو اے ایم یو جیسی بڑی یونیورسٹی کی حمایت و سرپرستی حاصل ہے۔”

( روزنامہ انڈین ایکسپریس سے ترجمہ)