بہار الیکشن:جے ڈی یو اور ایل جے پی کے درمیان لفظی جنگ میں شدت

پٹنہ:بہارمیں اسمبلی انتخابات کا اعلان الیکشن کمیشن آف انڈیا ایک ہفتہ کے اندرکرنے والاہے۔اس لیے بہارکی تمام سیاسی پارٹیاں متحرک ہوگئی ہیں اورسیاسی صف بندیوں میں مصروف ہیں۔این ڈی اے کی اتحادی جماعت ایل جے پی اور جے ڈی یوکے درمیان رشتے تلخ ہوگئے ہیں اور ان دونوں پارٹیوں کے لیڈران کے زبانی جنگ میں شدت آگئی ہے۔ ایل جے پی نے کل ہوئی پارلیمانی میٹنگ میں پارٹی کے قومی سربراہ چراغ پاسوان کو اہم فیصلہ لینے کا مکمل اختیار سونپ دیا ہے۔ایل جے پی اورجے ڈی یو کے درمیان اب آر پار والی حالت ہوگئی ہے۔دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے پیچھا چھڑانے کے موڈ میں آگئی ہیں۔ لیکن بی جے پی اس پورے معاملے پر اب تک خاموش ہے سیاسی حلقوں سے یہ خبر گشت کررہی ہے کہ آئندہ 15ستمبر کو ایل جے پی کے قومی سربراہ چراغ پاسوان اس موضوع پر کوئی اہم بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ ادھرحکمراں جے ڈی یوکی طرف سے لوک جن شکتی پارٹی کو دو ٹوک لہجے میں اکیلے الیکشن لڑنے کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ جے ڈی یو کے قومی سکریٹری جنرل کے سی تیاگی نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر لوک جن شکتی پارٹی 143 سیٹوں پر الیکشن تیاری کر رہی ہے تو یہ ان کی پارٹی کا فیصلہ ہے۔ جے ڈی یو کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے کہا کہ ایل جے پی سے ہمارا اتحاد کبھی نہیں رہاہے اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ بہار میں وہ نتیش کمارکی قیادت میں الیکشن لڑیں گے۔کے سی تیاگی نے مزیدکہا کہ جے ڈی یو اور ایل جے پی کا بھی اتحاد نہیں رہا ہے، ایسے میں اگر ایل جے پی الگ الیکشن لڑنا چاہتی ہے تویہ ان کی پارٹی کافیصلہ ہے۔ لگے ہاتھوں کے سی تیاگی نے ایل جے پی کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ جے ڈی یوکے خلاف ایل جے پی امیدوار اتاریں، لیکن جے ڈی یو اور بی جے پی ساتھ مل کر الیکشن لڑیں گے۔ انہوں نے کہاہے کہ جے ڈی یو – بی جے پی مل کر الیکشن لڑیں گے، لیکن اس کا مخالف جو ہوگا وہ پورے بی جے پی اور جے ڈی یو کی اعلیٰ قیادت کا مخالف ہے۔کے سی تیاگی نے کہا کہ نریندر مودی، امت شاہ اور جے پی نڈا نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ بہار میں نتیش کمار کی قیادت میں الیکشن لڑے جائیں گے۔اس لیے نتیش کمار پر یہ سوال اٹھانے والے بی جے پی کے اس اعلیٰ قیادت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ دراصل جے ڈی یواورایل جے پی کے درمیان جاری سرد جنگ کے اشارے پیر کو چراغ پاسوان کی صدارت میں ایل جے پی کے بہار پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں ملے۔