بہار الیکشن:ہماری سیاسی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟ ـ ڈاکٹر حسن رضا

بہار الیکشن: ہماری سیاسی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟ ـ ڈاکٹر حسن رضا

بہار اسمبلی انتخاب اب ہمارے سروں پر آلگا ہے ۔پچھلا تجربہ بتاتا ہے کہ الیکشن کے موسم میں سیاسی فیور اتنا تیز چڑھتا ہے کہ دور اندیشی ،سیاسی شعور سب کو معطل کر دیتا ہے بلکہ فضا میں جذباتیت ،عصبیت اور مفاد پرستی کا وائرس ایسا پھیلتا ہے کہ بیشتر لوگوں پر جوش و جذبات کے ساتھ ، وقتی اور الیکشنی ہار جیت کا بھوت پوری طرح سوار ہوجاتا ہے ۔حالانکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب کہ جوش وجذبات سے مغلوب ہونے کے بجائے ہر شہری کوپورے ہوش گوش کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کی فکر ہونی چاہئے اور اپنے ووٹ کی امانت کواچھی طرح سوچ سمجھ کر استعمال کر نا چاہئے ۔اس کے لئے ملکی وملی مفاد کا صحیح میزانیہ تیار کرکے ہی صحیح فیصلے پر پہنچا جاسکتا ہے ۔
اس سلسلے میں پہلی اہم بات سیاسی ترجیحات کا تعین ہے ،اور دوسری بات بر وقت واضح اور دو ٹوک فیصلے پرپہنچنا ہے ۔اگر کوئی گروہ وقت ،حالات مشکلات و مسائل کی نزاکت اور امکانات کی روشنی میں اپنی انتخابی سیاسی حکمت عملی کووضع اور ترجیحات کا تعین نہیں کرے گا اورپھر اس کی روشنی میں بر وقت فیصلہ نہیں لے گا وہ لازما الیکشنی ہنگامے میں وقتی حالات اورجذباتی ماحول کا شکار ہو جائے گا اور غلط فیصلے کر بیٹھے گا ۔اسی طرح قوم کے لیڈران اگر جذبات میں آکر وقتی حالات،اپنے ارد گرد کی بھیڑ بھاڑ ،نعرے اور عوامی جوش ولولے سے متاثر ہوجائیں گے تو اپنی قوم کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیں گے۔سیاست الیکشنی ہو یا غیر الیکشنی ،اقتدار کے حصول کی ہو یا اقتدار پر اثر انداز ہونے کی ،پارلیمان اور اسمبلی ہاؤس کے اندر فلور کی ہو یا عوام اور سماج کے ساتھ دھرنا پردرشن روڈ مارچ کرنے کی،ایشوز کی ہو یامسائل کی ،ہر جگہ دو ٹوک فیصلے، ترجیحات کے تعین، حال و مستقبل پر پوری نظر کا تقاضہ کرتی ہے ۔افسوس ،اپنی مسلمان قوم پر ہے کہ ملک کے پورے سیاسی عمل میں شریک نہیں ہوتی ہے اور صرف الیکشنی سیاست کو اصل سیاست سمجھتی ہے ،حالانکہ الیکشنی سیاست قومی سیاست کا ون تھرڈ سے زیادہ نہیں ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی کم ہوسکتا ہے اور کبھی بہت زیادہ بھی ہوجاتا ہے جیسے ۲۰۲۰ کا حالیہ انتخاب۔بہرحال بہار اسمبلی کا الیکشن نومبر ۲۰۲۰ کے پہلے عشرے میں اپنے نتائج کے ساتھ مکمل ہوجائے گا اور اس پہلو سے اب وقت بہت کم ہے ۔
ان حالات میں ملت کو چاہئے کہ موجودہ صورت حال کا صحیح جائزہ لے اور اپنی سیاسی ترجیحات طے کرلےـ اس سلسلے میں قابل غوربات یہ ہے کہ جن حالات میں بہار کا انتخاب ہورہا ہے ان کو تازہ کرلینا چاہئے تاکہ ترجیحات کے تعین میں وہ باتیں نگاہوں سے اوجھل نہ ہو جائیں ۔چنانچہ ا اس وقت سب سے اہم مسئلہ سی اے اے یعنی شہری ترمیمی قانون این پی آر این آر سی کی تلوار بے نیام کا ہے جو ملت کی گردن اور دستور کی شہ رگ مذہبی رواداری پر رکھی ہوئی ہے ۔ابھی کچھ دن پہلے شاہین باغ طرز پر پورے ملک میں ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں سڑکوں اور چوراہوں پر بیٹھی ہوئی تھیں اور کس طرح دہلی کے منصوبہ بند فسادات کے ذریعےان کو ناکام کرنے کی کوشش کی گئی اگر کووڈ ۱۹ کی عالمی وبا کا قہر نہ ہوتا تو ملک میں کتنی جگہ فسادات کرائے جاتے ۔اور اب اسی حوالے سے معصوم نوجوانوں اور بیٹیوں کو حراست میں بھی لیا جارہا ہے ۔اسلام کے آخری قلعے یعنی خاندانی نظام کو منہدم کرنے کی ابتدا ٹریپل طلاق بل سے ہو چکی ہے ۔علی گڑھ ،جامعہ ملیہ ،جے این یو تعلیمی نظام کا بھگوا کرن اور مادری زبان کا کیا ذکر کیا جائے پوری ملت اسلامیہ کی جان مال عزت آبرو کھیت کھلیان دوکان مکان محلے آبادیاں کھان پان مسجد مدرسے سب اس وقت ہندتوا سیاست کی زد میں ہیں اسی طرح بھارت ماتا کی بھکتی راشٹر ہت اور ہندو راشٹر کے قیام کے لئے تمام مذاہب کے ساتھ رواداری کے جذبے کو پہلے بھینٹ چڑھایا جانے والا ہے اس کے لئے جمہوریت کا گلا گھونٹ کر دستور کو بے روح کرنے کا منصوبہ اپنی آخری منزل پر پہنچ چکا ہے تاکہ شہری آزادی مساوات بھائی چار گی اور سماجی عدل کے بدلے آسانی سے دستور میں ھندو راشٹر کو داخل کیا جا سکے ۔ان تمام پہلؤون سے اگر بہار کے الیکشن پر غور کیجئے تو صاف نظر آئے گا کہ اس الیکشن میں تمام باشعور ،آزاد جمہوریت پسند ہندوؤں اور مسلمانوں کی اولین ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ موجودہ این ڈی اے حکومت کو ہر حال میں جانا چاہئے اور دوسرے تمام ایشوز سیاسی شکوے اور محرومی کے گلے کو دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہونا چاہئے ۔اس ترجیح کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے سیکولر ووٹ منقسم ہو اور فرقہ پرست امیدوار کے جیتنے کا ذرا بھی امکان پیدا ہوجائے ۔عملی طور پر دیکھیں تو ایک طرف این ڈی اے ہے دوسری طرف یو پی اے ۔ایک تیسرا حلقہ بھی ہے جو ملا جلا ہے الیکشن میں کچھ پارٹیاں محض اپنے پارٹی کے وجود اور کچھ قانونی مصلحت کے طور پر کھڑی ہوجاتی ہیں کچھ پارٹیاں اور افراد ووٹ کاٹنے کی تجارت کرتے ہیں اور ہر الیکشن میں اپنی کمائی کا ایک انتظام کرلیتے ہیں ۔کچھ کالا دھن کو وھائٹ کرنے کے لئے بھی یہ جوکھم آٹھاتے ہیں کچھ بلیک لسٹیڈ افراد اپنا نامہ اعمال الیکشن کے بہانے درست کرلیتے ہیں چند اپنی ضمانت ضبط کرا کے سہی کچھ شہرت تو حاصل کر لیتے ہیں الیکشن بہتی ہوئی گنگا ہے بہت لوگ اس میں اشنان کر کے پن کماتے ہیں یا پاپ دھوتے ہیں ۔ہمارے یہاں الیکشن تماشہ بھی ہے کچھ اپنے نام سے بھالو بندر نچانے کے لئے امیدواری کا پرچہ بھر دیتے ہیں ۔کچھ سرپنچ بننے کے لئے ام آل اے میں امیدوار ہوجاتے ہیں ان لوگوں کا ذکر فضول ہے ہر حلقہ انتخاب میں اصلا مقابلہ دو کے درمیان ہوگا اور موجودہ صورت حال میں دو کے درمیان ہونا بھی چاہئے جہان جہاں مقابلہ سہ طرفہ ہوگا وہاں این ڈی اے یا این ڈی اے نواز کی جیتنے کا چانس بڑھ جائے گا ۔کانگریس +راجد +لیفٹ +جے ایم ایم جھارکھنڈ یعنی یو پی اے مہاگٹھ بندھن سب سے بہت ساری شکایتیں ہوسکتی ہیں بلکہ ہیں لیکن جب موجودہ صورت حال میں ہم تقابل کرتے ہیں تو متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ این ڈی اے کو بہر حال جانا چاہئے اور اس کےمتبادل کے طور پر یہی مہاگٹھ بندھن ہماری ترجیح ہونی چاہئے الا یہ کہ کسی حلقہ انتخاب میں کوئی استشنائی صورت پیدا ہوجائے لیکن ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو ہماری حکمت عملی اور متفقہ ترجیح اوّل کے خلاف ہو اور این ڈی اے کو فائدہ پہنچانے والا ہو ۔
اس سلسلے میں ہم مسلمانوں کی جو سیاسی پارٹیاں ہیں خصوصا آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اورایس ڈی پی ،سے پورے احترام کے ساتھ یہ عرض کر نا چاہتے ہیں کہ وہ بہار میں کوئی ایسا رول ادا نہ کریں جو بہار کے مسلمانوں کی ترجیحات کو مجروح کردے اور نہ کوئی ایسا بیانیہ پیش کریں جو ہمارے مشترکہ اور متحدہ سیاسی عمل کے اعتماد کو متاثر کرے ہر سیاسی پارٹی کے کچھ اپنے حدود اور سیاسی اھداف ہوتے ہیں ان کے حلیف اور حریف بھی ہوتے ہیں اوراس پہلو سے ان کی ترجیحات بھی ہوتی ہیں ان حالات میں مسلم سیاسی پارٹیاں اپنے وجود اور بقا کے لئے سیکولر پارٹیوں کی کوتاہیوں کمزوریوں اور ناانصافیوں کا ذکر کرتی ہیں ہم دیکھ رہے ہیں یہ پارٹیاں اپنے روئیے سےبہار الیکشن ۲۰۲۰ کے متفقہ ترجیح کو مجروح کر رہی ہیں۔انہوں نے جو بیانیہ تشکیل دیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت میں مسلمانوں کی متناسب حصے داری ان کے لئے ترجیح اوّل ہے اور این ڈی اے کی شکست ثانوی ہے لھذا اپنے ترجیح اول یعنی مسلم امیدوار کے کھڑا کرنے سے اگر این ڈی اے کا امیدوار جیت جائے تو بھی وہ اپنے امیدواری پر نظر ثانی نہیں کرین گےکیونکہ یہ مسلم پارٹیان پارٹی کے مفاد کو ملی مفاد پر ترجیح دینے پر اپنے کو مجبور کر لیتی ہیں اس لئےمسلم پارٹیان آپس میں بھی اتحاد پیدا نہیں کر پاتی ہیں وہ ہندوستان میں قومی کشمکش کے خاتمے کو بنیادی اہمیت نہیں دیتی ہیں بلکہ کبھی کبھی اس کشمکش کو اپنی پاور پالیٹکس کے لئے جوابی طور پر استعمال کرلیتی ہیں ۔اس لئے ان کے بیانئے کا اکثر جزو کا ڈانڈا سیاست میں ہندو مسلم قومی کشمکش سے مل جاتا ہے ۔اس وقت ان سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی گفتگو اور بیان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے خیال میں مسلمانوں کے سیاسی مسائل کا حل اور اس کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب مسلمانوں کی ایک اپنی قومی پارٹی ہو مسلمان کو اس معاملے میں غیر مسلموں کی پارٹی اور قیادت پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے ۔البتہ مسلمانوں کی قومی پارٹی ھندؤں اور دلتوں کی قومی پارٹی سے اقتدار میں اپنے اپنے قومی مفاد کی بنیاد پر سمجھوتہ کرسکتی ہے۔تب ہی مسلمانوں کو انصاف مل سکتا ہے۔ غیر مسلم جماعت پر مسلمانوں نےبھروسہ کیا تو انہیں جس طرح ستر برس سے دھوکہ ہورہا ہے ویسے ہی وہ دھوکا کھاتے رہیں گے یہ پوری لوجیک۷۰سالہ سیاسی تاریخ کی غلط تعبیر کا نتیجہ ہے آزادی کے بعد ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ ایک الگ موضوع ہے اس سلسلے میں مولانا ابولکلام آزاد کے چند جملے بہت معنی خیز ہیں
“تقسیم ملک کے بعد بر صغیر کے مسلمان تقسیم در تقسیم ہوکر کمزور ہوجائیں گے اوراس طرح ہندوستان میں رہ جانے والے کروڑوں کروڑ مسلمان اب ابد تک ظلم اور انتقام کا شکار ہوتے رہیں گے ۔پاکستان میں رہنے والے مسلمان ان کی کوئی مدد نہیں کر سکیں گے “ـ
مولانا آزاد کی یہ پوری تقریر غور سے سننا چاہئے میں نے بس دو تین جملے نقل کئے ہیں تاکہ ہندوستانی سیاست کو دیکھنے کا ایک ابولکلامی نقطہ نظر بھی سامنے رہے اوراس لئے سر دست میری درخواست مسلم سیاسی پارٹیوں سے یہی ہوگی کہ جہاں مقابلہ آپس میں سیکولر پارٹیوں کے درمیان ہے اور ہار جیت دو سیکولر کے بیچ ہے وہاں وہ اپنے امیدوار کھڑے کرتے ہیں تو سر دست وہ کرسکتے ہیں ویسے جن حلقوں میں وہ زیادہ ہاتھ پیر مار رہے ہیں وہاں تو وہ اپنی ہی قوم کے امیدوار یعنی محمد میاں کی جگہ پر احمد میاں کو جیت دلائیں گے اس سے فائدہ کتنا ہوگا قابل غور ہے، نقصان یہ ہوگا کہ جو سیکولر پارٹیاں مسلم ووٹ کی وجہ سے ہندتوا سے ہاتھ ملانے میں لحاظ کرتی ہیں، وہ بھی بآسانی سیکولرزم کا چوغہ اتار کر اقتدار کے کھیل میں شریک ہوجائیں گی جس سے بی جے پی کا سیاسی میدان وسیع ہوتا جائے گا اور مسلمانوں سیاسی اعتبار سے زیادہ بے اثر ہوجائیں گے یاد رہے کہ ہندوستان میں ہندتوا فورس کوہندو اور مسلمان مل کر ہی روک سکتے ہیں اوراس کو روکنے کا عمل ہندؤن کی قیادت میں زیادہ آسانی سے ہوگا۔مجلس کا سیاسی اپروچ جنوبی ھند کے کسی خاص علاقے میں وقتی طور مسلمانوں کے درد کادرماں بن سکتا ہے لیکن پورے ہندوستان میں یہ سیاسی بلو پرنٹ کاؤنٹر پروڈکٹو ہوسکتا ہے ۔بہار کے حالیہ الیکشن میں مسلم سیاسی لیڈروں کا اس طرح کا بیانیہ ،اور ترجیحی پالیسی ایک نادان دوست کی دوستی ہی کہی جاسکتی ہے ۔ان پارٹیوں نے جھارکھنڈ کے الیکشن میں حصہ لیا ۔الیکشن ختم ہونے کے بعد ان کی سیاسی تگ دو بھی ختم ہوگئی ۔ حالانکہ مسلمانوں کے سیاسی مسائل وہاں حل طلب ہیں متحدہ مسلم مجلس کی یہ بڑی کمزوری ہے ان لوگوں نے شمالی ہند میں لمسلم سیاست کو الیکشنی سیاست تک محدود کردیا ہے ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی یہ پارٹیاں بھی مسلمانوں کو نادانستہ طور پر ووٹ بینک کے طور پر ہی استعمال کرتی ہیں ۔ان باتوں کو دوستانہ شکایت ہی سمجھنا چاہئے بہر حال بہار اسمبلی انتخاب بہت نازک وقت میں ہورہا جو لوگ اس کی نزاکت ،اہمیت اور دور رس نتائج کو سمجھ رہے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دانا دشمن کی چال ہی پر نظر نہ رکھیں بلکہ نادان دوست کی سیاسی نادانی کو بھی سمجھیں ۔
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*