بہار الیکشن اور موجودہ سیاسی منظر نامہ – احمد نہال عابدی 

 

جب سے بہار میں انتخابات کا اعلان ہوا ہے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں ۔ تمام پارٹیاں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے گویا اپنی اپنی کمر کس چکی ہیں اور ہر ایک پارٹی حکومت سازی کے لئے اپنے آپکو دعویدار اور عوام کی پسند بتا رہی ہیں ۔ آج تک کسی بھی سیاسی پارٹی کی امیج اس کے منشور کے مطابق نہیں بنی اور نہ ہی اس پر کار بند نظر آئیں ۔ کیوں کہ سیاسی منشور کے مطابق اگر فلاحی کام کاج عام رواج پا جائے تو پھر عوام کی خوشحالی اور فلاح و بہبود یقینی ہے ۔ سیاسی پارٹیوں کا نام نہاد انتخابی منشور صرف خانہ پری کےلئے مرتب کیا جاتا ہے ۔ عجب اتفاق ہے کہ منشور کے عین خلاف بہار کا الیکشن آج بھی ذات پات اور خاندان و بھائی چچا واد کی بنیاد پر لڑا جاتا ہے ۔ ٹکٹیں بھی امیدواروں کو ذات پات کی بنیاد پر ان علاقوں کے لئے ہی مختص کی جاتی ہیں جہاں امیدواروں کے ذات پات والے رائے دہندگان زیادہ تعداد میں آباد ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بہار میں سیاست کا اعلی معیار آج تک قائم نہیں ہو سکا اور موجودہ سیاست اپنی ذات پات کی خول سے اب تک باہر نکل نہیں پائی ۔ لالو پرساد یادو ایک عرصے تک بہار کے اقتدار پر قابض رہے مگر اس دوران صرف انہوں نے اپنی ذات والوں کو ہی فوقیت دی اور آج بھی تیجسوی یادو کی سیاست اسی کے ارد گرد گھوم رہی ہے ۔ پارٹی کا ہندو مسلم اتحاد تو محض ایک دکھاوا ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ ایک لمبی مدت تک اقتدار میں رہنے کے باوجود آج بھی آر جے ڈی عوام میں اپناتشخص برقرار رکھنے کے لئے ہاتھ پیر مار رہی ہے ۔ ذاتی واد کی وجہ سے آر جے ڈی کے سینیر لیڈران ماضی میں اور آج بھی پارٹی کو خیر باد کہہ کر یا تو اپنی الگ پارٹی بنا چکے ہیں یا دوسری پارٹیوں میں شامل ہو رہے ہیں ۔ بہار کی سیاست صرف ذات پات کے ارد گرد چکر کاٹنے کی وجہ سے عوام الناس کا صرف استحصال ہوتا رہا ہے اور عام غریب ہندو اور مسلمان دونوں غیر منصفانہ اور جانب دارانہ سیاست کی چکی میں آج بھی پس رہے ہیں اور ان غریب عوام کی فلاح بہبود ذات پات اور بھائی واد کی سیاست میں گم ہو چکی ہے ۔ دوسری طرف بہار کے موجودہ وزیر اعلی بھی کم و بیش اسی نہج پر گامزن ہیں اور اپنی سیا سی شطرنجی چال اعلی ذاتوں کو فروغ دینے میں استعمال کررہے ہیں ۔ جے ڈی یو میں وہ اپنے تمام پیا دوں کو موقع پرستی کے گر سکھا رہے ہیں کہ پارٹی کے ہر غیر منصفانہ فیصلے کا ساتھ دیتے رہنا ہے ،خواہ پارٹی کا فیصلہ ان کے مذہب کے خلاف ہی کیوں نہ ہو ۔ اور حرف آخر کی طرح انکے حامیوں نے اس کا مظاہرہ بھی کیا جس کی مثال سی اے بی کی شکل میں موجود ہے ۔ موقع پرستی کے دلدادہ وزیر اعلی نتیش کمار ایک زمانے میں لالو اور سونیا سے بھی ہاتھ ملا کر بہار کے عوام کو بیوقوف بنا چکے ہیں۔ موصوف نتیش کمار جی اپنا الو سیدھا کرنے کے بعد پھر ایک ایسی سیاسی پارٹی بی جے پی کو گلے لگا چکے ہیں جس کا پورا وجود اقلیت و مسلم دشمنی پر ہی قائم ہے ۔ جنتادل یونائیٹڈ کا منشور اقلیت اور مسلمانوں کے فلاح وبہبود سے بھرا پڑا ہے مگر یہاں ایک ایسی پارٹی سے سانٹھ گانٹھ کرنا مسلم اور تمام اقلیتوں کے ساتھ محض دھوکا اور مذاق ہے ۔ مثال کے طور پر نتیش کمار کی ذہنی فتینی اور اقلیت و مسلم دشمنی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا دیا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنے پیادے سمیت پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیکر متنازعہ قانون نافذ کرنے کے موجد قرار پا چکے ہیں ۔ اس موقعہ پر بہار کے وزیر اعلی سے سب کو یہ امیدیں تھیں کہ نفرتوں پر قائم مبینہ غیر آئینی بل کو پارلیمنٹ میں مسترد کرنے کا اہم ذریعہ بنیں گے مگر افسوس صد افسوس ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔ شرمندگی اور حیرت و افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ نتیش کمار کی پارٹی کے پانچ نام نہاد مسلم ارکان پارلیمان بھی سی اے بی کے نفاذ میں پیش پیش تھے ۔ جے ڈی یو اس نازک موقعے پر اگر پارلیمنٹ سے صرف واک آؤٹ کو ترجیح دیتی تو شاید بھارتی آئین کے خلاف مذکورہ متنازع بل نافذ نہیں ہو پاتا اور نہ ہی موجودہ لاک ڈاؤن میں ان بے قصور اور انصاف پسند دانشور حضرات جو سی اے بی کے خلاف پورے ملک میں صف آرا تھے ان کی گرفتاریاں عمل میں نہیں آتیں جو فی الوقت جیل کی کوٹھریوں میں قیدو بند کی مشقتیں جھیل رہے ہیں ۔ بہار میں محض اپنی سرکار بچانے کے لئے نتیش کمار نے ستر فیصد ہندومسلم قوم کو سی اے بی کی بھٹی میں جھونک دیا اور وہی نتیش کمار آج اقلیتوں کے مسیحا کہے جا رہے ہیں ۔ نتیش کمارنےبے شک بہار کے لئےکچھ اچھے کام کئے خاص کر سڑک اور بجلی گاؤں گاؤں تک پہچا ئی جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر سی اے بی کی حمایت ان کی تمام تر کار کردگیوں پر نہ صرف پانی پھیر دیتی ہے بلکہ ان کے اس عمل سے ان کے برہمن واد کی بھر پور نشاندہی بھی ہوتی ہے،وہ جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر نفرتوں کی سیاست میں بی جے پی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*