بہار اسمبلی انتخابات ۲۰۲۰اور ہمارا لائحۂ عمل-ڈاکٹر حسن رضا

ڈائرکٹر و چیرمین انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، نئی دہلی

جھارکھنڈ اور دہلی کے بعد اب بہار اسمبلی کا انتخاب سامنے ہے۔ بعض پہلو سے یہ انتخاب خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ فرقہ پرست قوّت کے خلاف بہار نے کبھی زبردست مورچہ لیا تھا اور آج بھی سیاسی صف بندی اور گٹھ جوڑ میں کوئی زیرک اور ہوش مند قیادت سامنے آجائے تو یہ ریاست ہندتوا پالیٹکس کے لیے بہت زرخیز نہیں ہے۔ یہاں کے سماجی تانے بانے ،کاروباری زندگی ،تعلیمی و ادارہ جاتی سرگرمی اور سیاسی داو -پیچ میں کاسٹ کا کلیدی رول ہے ۔ لہٰذا الیکشنی سیاست میں بھی اونچی نیچی ذات کے ساتھ ایس ۔سی۔، ایس۔ ٹی اور دلت طبقے، ان کی آپسی رقابت اور بنتے بگڑتے سمی کرن کی بنیادی اہمیت ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے اندر بھی یہ رشتے نازک وقت پر معاون و مددگار ہوتے ہیں۔ مسلمان بھی اپنی علاحدہ سیاسی پارٹی کے بغیر اقتدار کے بنانے اور سنوارنے میں ہمیشہ ایک رول ادا کرتے رہے ہیں۔ ایک زمانے میں انجمن ترقیِ اردو، بہار نے ڈاکٹر عبد المغنی صاحب مرحوم کی قیادت میں لسانی بنیاد پر اردو آبادی کو منظم کرکے پریشر پالیٹکس کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ امارت شرعیہ بھی مسلم ووٹرس اور حکومت کے درمیان روایتی انداز سے رابطے کا کام کرتی رہی ہے۔ ادارۂ شرعیہ بھی مسلکی بنیاد پر یہ فرض انجام دے رہی ہے۔ جماعت اسلامی ہند نے جب سے الیکشنی سیاست پر اَثر انداز ہونے کا فیصلہ کیا ہے ،تب سے مسلمانوں کی مختلف جماعتوں اور انجمنوں کا متحدہ پلیٹ فارم بناکر انتخاب پر اثر انداز ہونے کا ایک نیا تجربہ جاری ہے۔ مسلمانوں میں برداری کی بنیاد پر سیاسی تجربے بھی ہو رہے ہیں۔ انصاری لابی کے علاوہ پسماندہ محاذ بھی الیکشنی سیاست میں ایک حد تک اپنا رول ادا کرتا ہے۔ ایک زمانے میں کیرالا کی مسلم لیگ نے بھی اپنی شاخ یہاں قائم کی تھی لیکن وہ تجربہ کامیاب نہیں ہوسکا ۔اب ایم آئی ایم، حیدر آباد الیکشن میں اپنے امیدوار کھڑا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہر انتخابی سیاست کی طرح اس مرتبہ بھی وہ سارے کو ٗکرم، جوڑ توڑ، لین دین، خرید وفروخت اور جھوٹ سچ ہوں گے جو ہوتے رہے ہیں بلکہ کچھ زیادہ ہوں گے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس وقت کرپشن اور کوٗ کرم کی سب سے زیادہ طاقت بی جے پی کے پاس ہے۔ اس لیے اس کا اور اس کے حلیف کا کارنامہ اس معاملے میں دوسری پارٹیوں سے زیادہ’ روشن‘ ہوگا۔ بہار میں الیکشن کے موسم کی ابتدا ہوچکی ہے ۔چراغ پاسوان تو ’پدرنہ تواند پسر تمام کند ‘کی مہم میں ایک برس پہلے سے لگے ہوئے ہیں ۔جیتن مانجھی، اُپیندر کشواہا سب کی لَو اَب تیز ہوگی۔ جگدا نند اور للّن جی نے کھیل شروع کردیا ہے۔ ہر برادری میں شخصیت کا ٹکراو بھی سامنے آئے گا۔ پارٹی کے اندر کی لابی بھی کام کرے گی۔ پرشانت کشور اپنے گنا بھاگ میں لگے ہوئے ہیں اور ادھر کنھیّا کمار لیفٹ میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ذات پات کی سیاست میں طبقاتی کشمکش نے بہت پہلے پتوار ڈال دیے ہیں۔ شاید طوفان کے نئے تھپیڑوں میں کچھ تبدیلی آئے۔ جھارکھنڈ میں تو زیادہ سیٹوں کی ڈیمانڈ کی وجہ سے سیکولر گٹ بندھن کے ساتھ ان کا سودا نہیں ہوسکا تھا۔ بہار میں شاید نوجوان قیادت کی وجہ سے کچھ عملی حقیقت پسندی آئے ۔اصل میں ہاتھی دُبلا ہوجاتا ہے لیکن جگہ گھیرنے میں اپنی سونڈھ تک اسپیس لینا چاہتا ہے۔
اسی طرح آخر آخر وقت تک لوگ پارٹیوں کی وفاداریاں بدلتے، خریدتے اور بیچتے رہیں گے۔ ٹکٹ ملنے کی امید اور نہ ملنے پرنا امید ہوکر کون کہاں، کب اور کیسے جائے گا یہ کہنا مشکل ہے۔ اقتدار کا کھیل اور کوٹھے کا تماشا دونوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ ایک میں جسم کے گندے پانی کا نالا بہتا ہے، دوسرے میں دماغ کے گندے کوٗڑے کا ڈھیر لگتا ہے۔ ابھی ابھی جھارکھنڈ میں کیا ہوا سب جانتے ہیں۔ کتنے فیک امیدوار کھڑے کیے گئے اور سیاسی پارٹیوں سے زیرِ زمین کس طرح سودے ہوتے ہیں ۔اگر کوئی پارٹی تین امیدوار کھڑے کرسکتی ہے تو اس سے کہا جائے گا کہ تیس امیدوار کھڑے کیجیے۔ ہر امیدوار پر پانچ سے دس کروڑ دیں گے۔ اس طرح آم کے آم گٹھلیوں کے دام پر معاملہ ہوتا ہے۔ لوگ’ قوم‘کے درد میں ’نعرۂ تکبیر اللہ اکبر‘ کہہ کر الیکشن میں نہیں جنگِ بدر میں شریک ہونے کا ثواب حاصل کریں گے۔ کھوٗنٹی میں ایک عوامی خاتون دَیامُنی بِرلا اُمّیدوار کو سارے وعدے وعید کے بعد کانگریس نے ٹکٹ نہیں دیا اور بی جے پی امّیدوار کو جیتنے کے لیے کمزور امّیدوار کھڑا کردیا۔ تمام سیاسی پارٹیوں کی اپنی اپنی سیاسی مصلحت، تجارت اور پارٹی کی مجبوری اور ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نیک دل اور سادہ لوح عوام ہمیشہ ’دام ہم رنگ زمین‘ کے شکار ہوجاتے ہیں۔ ہندو مسلمان پر مت جائیے ،مولوی اور پنڈت مت کیجیے ،عالمِ اسلام میں اقتدار کے کھیل کو دیکھ لیجیے کیسے کیسے ’مولانا ڈیزل اور حسینائیں‘اپنے اپنے جلوہ ہاے صد رنگ دکھا تی رہتی ہیں۔ پاس پڑوس کی بات ہے لہٰذا جمہوری سیاست کے چال پینترے اور قلا بازی کو سمجھیے، اقتدار کی ہوس اور اس کے حصول کا نشہ اگر چڑھ جاتا ہے توانسان ’ظلوماً جہولا‘ کی بلند ترین چوٹی پر پہنچ جاتا ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ناامید ہوجائیں فرشتوں کے اعتراض پر اللہ کا ارشاد ’اِنّیِ اَعلم مالا تعلموٗن‘ کے راز کو ہم سمجھتے ہیں۔ ’وَجْعلنی مِن لّدُنکَ سُلطاناً نصیراً‘ کی دعا کی مقبولیت کا راز بھی ہم کو معلوم ہے اس لیے ہم کنارے نہیں لگ سکتے۔ وُسعتِ افلاک میں تکبیر مسلسل کا عہد کیا ہے لہٰذا کیا کرنا چاہیے؟ یہ بہت اہم ہے جس پر بات ہوگی۔ نتیجہ اور بے معنی کام نہیں کریں گے۔ مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈساجاتا۔اس لیے ہمیں اس بات پر توجہ دینی ہوگی کہ ایک اچھے انسان، معقول شہری اور خیرِ اُمّت کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے ہمیں کیا کچھ کرنا چاہیے اورہم کیا کچھ کر سکتے ہیں؟ جھارکھنڈ کے حالیہ تجربے کی روشنی میں چند نکات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے:
۱۔جماعت اسلامی، بہار کی تنظیمی شاخ اور معاون ادارے کی سطح پر جماعت کے الیکشنی فیصلے کی بحسن وخوبی بجا آوری تو ہوسکتی ہے اور خانہ پری کے سب کام انجام بھی پاسکتے ہیں لیکن ریاستی انتخاب پر اَثر انداز ہونے کا دائرہ محدود سے اوربھی محدود تر ہوجائے گا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک نیا فورم، گروپ، زمینی سطح پر کام کرنے والوں کا ڈیولپ کیا جائے۔ جس میں مختلف سماجی گروپس کے ہندو مسلمان اور دیگر نظریاتی گروہ کے وابستگان ہوں۔ بس اتنا نقطۂ اتّحاد واضح ہو کہ ہونے والے انتخاب میں وہ این ڈی اے کو شکست دینا چاہتے ہوں۔ فرقہ پرستی کے مخالف اور جمہوری قدروں کے طرف دار ہوں۔ اس گروپ کی تشکیل مرحلہ وار ہوگی اور عملی میدان میں کام کے رشتے کے ساتھ بڑھتی جائے گی۔ اُنھی میں سے ایک کُور گروپ بھی تیّار ہوگا۔ بہار میں آسانی یہ ہے کہ ایف ڈی سی آئی کی تشکیل کے وقت سے ہی وہاں ایک گروپ تشکیل پاتا رہا ہے۔ نئے حالات میں وسیع تر بنیاد پر اس کی تجدید کی جاسکتی ہے۔ بیش تر افراد موجود ہیں۔ بس پروفیسر سہیل صاحب مرحوم اللہ کو پیارے ہوگئے ،اس وقت کام آتے۔ پھر ادھر کچھ نئے نوجوان بھی سامنے آئے ہیں۔ نیّر الزّماں صاحب، سابق امیر حلقہ نے بھی ایسے ایکٹوسٹ لوگوں سے رشتہ بحال رکھا تھا اور موجودہ امیر حلقہ بھی سماجی روابط اور سیاسی تعلق کے معاملے میں چست درست ہیں۔ البتہ یہ ٹیم اور گروپ کس طرح پھر روٗبہ عمل ہو؟ اس کے لیے کیا فطری پروسس اختیار کیا جائے ؟یہ بات پٹنہ اور آس پاس کے احباب کے مشورے سے طے کرلینا چاہیے۔ جھارکھنڈ سے بھی ورما جی پرانے جے پی موومنٹ کے آدمی ہیں اور اس وقت تو گویا ہمہ وقتی طور پر کمیونلزم کے خلاف زمینی لڑائی لڑ رہے ہیں، جانے کے لیے تیار ہوسکتے ہیں۔اور بھی لوگ ہیں۔ جھارکھنڈ میں تو ہم لوگوں نے دو روزہ سیاسی ورک شاپ کیا تھا جس میں آدی باسی کرشچن ہندو مسلمان میڈیا پرسن عورت اور مرد شریک تھے۔ بہار سے بھی لوگ شریک ہوئے تھے جس میں ایک گروپ بناکر انتخاب پر اَثر انداز ہونے کے لیے ایک لائحۂ عمل بنایا گیا تھا۔ وہاں بہار میں کیا شکل کورونا وائرس کے اس ماحول میں مناسب ہوگی،یہ جلد طے کرلینا چاہیے۔
۲۔اسی کے ساتھ باصلاحیت نوجوانوں اور میڈیا سے وابستہ ایک ٹیم بنانا بھی ضروری ہے جونئے نئے مواد فراہم کرنے اور موثر طریقے پر عوام تک پہنچانے میں مدد کرے،یوٗ ٹیوب پر مضامین کو اَپ لوڈ کرے اور اہم خبروں پر نظر رکھے۔ اس سلسلے میں مرکز جماعت بھی مدد کرسکتا ہے۔ بعض افراد مرکز کے مشورے سے تین ماہ کے لیے بہار بھی آسکتے ہیں۔ یہ کام تو دوسری جگہ سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ داکٹرمحمد سلیم انجینئر صاحب، مجتبیٰ فاروق صاحب جناب معتصم صاحب سے رابطہ کرکے پورا ایک گروپ ڈیولپ کرنے کی کوشش کرنی ہوگی ۔ بہت سارے تجربہ کار افراد مل جائیں گے اور بہار کا تعاون کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔
۳۔انتخابی سیاست پر اثر انداز ہونے کے لیے مذکورہ دونوں باتیں ستوٗن کا کام کریں گی لیکن میدان میں کام کی ابتدا سوشل ایڈٹ کے پروگرام سے کرنا چاہیے ۔ موجودہ نتیش حکومت کا اجتماعی احتساب، عوامی عدالت ؛ مختلف ناموں سے ایک سیریز آف پروگرام کرنا ہوگا۔ جماعت بھی مدد کرے گی۔ اپنے ساتھ اس مرحلے میں امارت شرعیہ، ادارہ شرعیہ اور مختلف مذہبی حلقوں کے ساتھ سماجی انجمنیں اس کام کو کریں گی ۔ڈِسکورس صحیح سمت میں آگے بڑھے، اتحاد اورنا منٹل نہ ہو اور شو کیس کی چیز بن کر نہ رہ جائے، اس لیے عملی پروجیکٹ کو مل کر انجام دینے اور وسائل و ذرایع بھی مل جل کر خرچ کریں۔ کسی مرحلے میںکنفیوژن نہ ہو۔
۱۵؍ برس لالوٗ اور ۱۵؍ برس نتیش یہ مباحثہ بہت چالاکی سے تیّار کیا گیا ہے۔ اس جال میں نہیں پھنسنا چاہیے کہ لالو کے کارنامے کو جواباً گنایا جانے لگے ۔۲۵؍ برس کے نوجوانوں کو تیار کیجیے۔ وہ کہیں ۱۸؍ برس میں پہلی دفعہ نتیش کے وعدے پر ووٹ دیا تھا، اب بتاؤ تم نے کیا کِیا۔ میرے باپ چچا سے جو وعدہ لالو نے کیا تھا وہ انھوں نے پوچھ لیا۔ تم ہم کو حساب دو۔ ٹھیک سے تیاری ہو تو مواد بہت ہے۔ ڈوکیو مین ٹیشن بھی ہو، پھر جہاں تک ہوسکے حلقہ ہاے انتخاب میں منسٹرس اور ایم ایل اے کا بھی احتساب ہو ۔ بعض کرپٹ لوگوں کو نشانہ بنایا جائے۔ اس طرح پورے مسلم سماج کے ساتھ دوسرے سماج میں کام ہوگا اور سیاسی رابطہ بھی بڑھے گا۔ یہ کام ایسا ہے کہ این ڈی اے کے علاوہ ساری پارٹیاں کسی نہ کسی حد تک کام آسکتی ہیں۔ احتساب اور عوامی جائزے کے ذریعے عوامی تربیت بھی ہوگی اور رابطہ بھی وسیع ہوگا۔ مشترکہ فورم میں بھی وسعت آئے گی۔ نرے ٹیو(Narrative) غلط رخ نہ اختیار کرلے ،اِیشوز دوسری طرف نہ چلے جائیں ۔ کمیونلزم کا وائرس بڑھنے سے پہلے دبا دیا جائے۔ افسوس ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر نے ۱۵؍ برس نتیش اور۱۵؍ برس لالوٗ کے ساتھ ۳۰-۴۰ برس کانگریس کا بھی جوڑ دیا ہے۔ اس طویل عرصے کا کیا احتساب کریں گے۔ہسٹری پڑھانا تھوڑے ہے۔ اس سے کنفیوژن پیدا ہوگا اور فائدہ دشمن اُٹھا لیں گے۔ اے آئی ایم آئی ایم فیکٹر(Factor) پر علاحدہ سے بات ہوگی۔
الیکشن پر نتیجہ خیز اوربامعنی طور پر اَثر انداز ہونے کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ زبان وبیان اور موقع ومحل کی بڑی اہمیت ہے یعنی کب، کہاں اور کس موقعے پر کیسے اظہارِ خیال کیا جائے۔اس سلسلے میں سب سے زیادہ بے احتیاطی اور سہل انگاری مسلمانوں کے موسمی، مذہبی اور کبھی کبھی منجھے ہوئے لیڈر وں سے بھی ہوجاتی ہے۔ ردِّعمل میں جذباتیت کے شکار ہونے سے اظہار بے قابو ہوجاتا ہے۔ اس لیے حالات حاضرہ اور سیاسی اُتار چڑھاو پر الیکشن کے موسم میں اظہارِ خیال کب اور کیسے کِیا جائے ،اس پر بھی ٹریننگ کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جذباتی بیان سے پرہیز کرنا لازمی ہے اور قومی کشمکش کی فضا کوجس زبان اور ادا سے غذا ملے ،ان پر سخت پہرہ بٹھا نا بھی ضروری ہے۔ جماعت اسلامی بہار کا یہ بڑا کنٹری بیوشن (Contribution)ہوگا اگر وہ مسلم پالیٹکس کی گرامر، لینگویج ایشوز اور اسلوب کی تربیت کرنے میں اپنا رول ادا کرسکے۔آل انڈیا ایم آئی ایم کے مسئلے کا حل بھی اسی سے ہوگا۔ وہاں چھوٹے ’قطرے‘ بھی سیاست کے میدان میں ’خطرے خطرے‘ ہوجاتے ہیں۔
بہ ہرحال جہاں تک انتخابی فضا اور فیصلے پر اثر انداز ہونے کے لیے ایک لائحۂ عمل کی بات ہے۔ سمجھنے سمجھانے کی آسانی کے لیے اس کو پانچ مراحل میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے مرحلے کا ذکر اوٗپر ہو چکا ہے جس میں تفصیل سے اجتماعی احتساب اور عوامی جائزے پر گفتگو کی ہے۔ دوسرا مرحلہ عوامی منشور تیار کرنے، اسٹوڈنٹس چارٹراور مختلف سطح کے مے نی فیسٹو مل جل کر بنانے کا ہوتا ہے ۔اس سے الیکشنی سمواداور مکالمہ نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ سیاسی پارٹیوں کے مے نی فیسٹو پر تنقید اور اس میں لوگوں کو شریک کرنے سے عوامی اَثر بڑھتا ہے اور تب سیاسی لیڈروں اور امیدواروں سے باوقار رابطے کی راہ ہم وار ہوتی ہے۔ بے اَثر گروہ کی طرح ملنا اور کچھ وعظ وپند کا اثر پارٹی لیڈروں اور سیاسی امید واروں پر نہیں ہوتا ہے۔
پارٹی لیڈروں سے ملنا امیدواروں سے تبادلہ خیال کرنا، سیاسی کارکنوں سے شناسائی ہوجانا اور مختلف حلقہ ہاے انتخاب کے حوالے سے امیدواروں کے بارے میں رائے عامہ جاننا اور بنانا، ان سے اِن پٹ(Input) لینا اس اسکیم کاتیسرا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے میں مختلف سماجی گروہ اور مذہبی حلقوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کی معنویت بڑھ جاتی ہے۔ یاد رہے اس وقت تک صوٗبے میں کام کرنے والے چھوٹے چھوٹے گروہوں اور اکٹیوسٹ حلقوں سے عملی روابط مستحکم ہوجانے چاہیے تاکہ امیدوارو ں کے بارے میں فیصلہ کرنا اور اس امیدوار کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے میں ان سب لوگوں کے تعاون سے ہی کامیابی کا امکان بڑھتا ہے اور مَین پاور اور ہر طرح کی صلاحیت سماج سے ملتی ہے۔ ہندو مسلمان اکٹیوسٹوں کی مقامی ٹیم مل کر کام کرتی ہے تو ایک فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا بنائے رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
اس مرحلے تک انتخابی عمل کلائیمکس پر پہنچ جاتا ہے۔ بہت ساری الٹی سیدھی خبریں سامنے آتی ہیں۔ کچھ منافقین کے راز کھلتے ہیں، کچھ سودا ہوتا ہے ۔واقعات برپا کیے جاتے ہیں یاگڑھے جاتے ہیں۔پُلواما ہوجاتا ہے،چھیڑ چھاڑ کی خبریں اُڑائی جاتی ہیں، مسجد مندر میں گوشت آسمان سے برس جاتا ہے۔ غرض سارے الیکشنی ہتھ کنڈے چال بازیوں اور عیّاریوں کے کھیل اور پینترے کھیلے جاتے ہیں۔ ان سب کے سلسلے میں ہرجگہ کا کُور گروپ مشترکہ فورم اور مخلص کارکنوں کا باہمی تعاون اور مچیور(Mature) رویہ حالات کو سنبھالتا ہے ۔ فرقہ پرست قوّتیں کوئی داو خالی نہیں جانے دیتیں بلکہ الیکشن کے روٗلس آف گیم میں جتنے جھوٗٹ اور فریب ہیں، سب کا استعمال پارٹیاں اور امیدوار کر لیتے ہیں۔ اس لیے قانونی اور انتظامی پہلو سے ہر پارٹی حریف کو پھنسانے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔
اس کے ساتھ چوتھا مرحلہ شروع ہوتا ہے جہاں اپنی قوّت ِکار، مواقع، حالات، آبادی اور امیدوار کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کہاں کتنی قوّت لگانے سے نتیجے پر اثر انداز ہونے کے امکانات ہیں۔ کہاں امکانات زیادہ ہیں اور کہاں کم ہیں۔ کہاں سرِدست بس مناسب امیدوار کی نشان دہی کی جاسکتی ہے۔ یہ مرحلہ بہت اہم ہوتا ہے۔ الیکشنی درجۂ حرارت بہت بڑھ جاتا ہے اور اس بخار میں صحیح اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اس معاملے میں جھارکھنڈ کا تجربہ یہی ہے کہ آدمی خوش فہمی میں بہت مبتلا ہوجاتا ہے اور ذوق و شوق بھی بہت بڑھ جاتا ہے اور ایک نشہ سا طاری ہوجاتا ہے اور پانچ حلقۂ انتخاب کی جگہ پر پندرہ کا انتخاب کرلیتا ہے۔ اس سلسلے میں جو بہت تجربہ کار اور زمینی حقائق سے واقف لوگ ہوتے ہیں وہ صحیح مشورہ دے سکتے ہیں۔ اس مرحلے میں غلطی کی بہت قیمت چکانی پڑتی ہے مثلاً آپ دس حلقۂ انتخاب میں مؤثر ہوسکتے ہیں۔ آپ نے جوشِ عمل اور کر گزرنے کے حوصلے سے بیس کا انتخاب کرلیا تو گویا آپ نے اپنی قوّت چوتھائی کردی اور دس کے بدلے پانچ نہیں اب ڈھائی حلقۂ انتخاب میں آپ موثر رول ادا کرسکیں گے اور ایک ہی امیدوار کو کامیاب کراسکیںگے۔ حلقۂ انتخاب کے ساتھ امیدوار وں میں بھی ترجیح قائم کرنی چاہیے۔ جتانے کے لیے بھی اور شکست دینے کے لیے بھی کچھ امیدوار ایسے ہوتے ہیں جن کا اسمبلی میں ہونا بہت ضروری ہوتا ہے اور کچھ ایسے ہیں جن کا ہارنا بہت ضروری ہوتا ہے اور ایسے بھی امیدوار ہوسکتے ہیں جن کی پارٹی کے ہارنے سے آپ کی دلچسپی ہے لیکن ان کے لیے سرِدست آپ نیوٹرل ہیں۔ اس طرح کچھ امیدواروں کو ہر طرح کی مدد کرنی چاہیے اور کچھ حلقہ ہاے انتخاب اور امیدوار وںکے لیے آپ کوبوٗتھ مینجمنٹ تک جانا چاہیے۔یہی پانچواں مرحلہ ہوتا ہے جہاں بوٗتھ مینجمنٹ تک آپ مدد کر رہے ہیں۔ اس کی اسٹریٹیجی(Strategy) الگ سے بنانی ہوگی ۔اس طرح عوامی احتساب سے لے کر منشورپھر مشترکہ فورم اورنِٹ ورکنگ (Networking)کے ذریعے رائے عامہ کے بنانے سے لے کر بوٗتھ مینجمنٹ تک پانچ مرحلے ہوتے ہیں۔
اس وقت جماعت اسلامی، بہار کے سامنے یہ پانچ کٹھن مراحل ہیں۔ آپ چاہیں تو کاغذ پر یہ مراحل روشنائی کی مدد سے حل کرسکتے ہیں۔ آپ چاہیںتو دفتر میں نشستن برخواستن ،آمدن رفتن اور بیان کردن کے ذریعے بھی انجام دے سکتے ہیں ۔اس کو انجام دینے کے درجات بھی بہت ہیں۔ آپ چاہیں تو پورے عزم، پالیٹیکل وِل(Political Will)، حوصلۂ ایمانی، حرارتِ ملّی، جذبۂ انسانی و خیرخواہی اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ساتھ لے کر پوری کوشش کرسکتے ہیں۔’پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے)۔ صبر اور توکل یہی دو ہتھیار ہیں۔کورونا وائرس کی طرح فرقہ پرست اور تنگ دل ہندتوا کی لڑائی اَبھی آگے بھی لڑنی ہے۔ یہ الیکشن آخری ہار جیت نہیں ہے۔ اس لیے الیکشن کو ایک طویل سیاسی جِدّوجُہد کا ایک مرحلہ ہی سمجھنا چاہیے جس میں ہار جیت کا اثر آگے کی لڑائی پر ضرور پڑے گا لیکن: ’ہم ہیں تو ابھی راہ میں سنگ گراں اور‘

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)