بہار کا اسمبلی انتخاب:سیاسی بداندیشیوں کا عروج-صفدر امام قادری

صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس،آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
پہلے یہ محسوس ہورہا تھا کہ اقتدار کی جنگ میں نتیش کمار بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد سے منزل تک پہنچ جائیں گے؛ اسی لیے دونوں پارٹیاں وبائی ماحول کے بیچ ہی انتخاب کرانے کے لیے اتاولی تھیں۔ باقی تمام سیاسی جماعتوںنے الیکشن کو موخر کرنے کی گزارشات الیکشن کمیشن کے روبرو رکھی تھیں ۔ اسی لیے اکتوبر نومبر میں الیکشن کرانے کی حتمی تاریخیں بھی آگئیں مگر مختلف پارٹیوں میں ٹوٹ پھوٹ اور چھوٹی بڑی پارٹیوں کے مل جل کر نئے نئے فرنٹ قائم کیے جانے کے بعد اب یہ بات سمجھ میں آنے لگی ہے کہ حالات اتنے واضح نہیں ہیں جیسے پہلے نظر آرہے تھے۔
ہر سیاسی جماعت نے دل کھول کر اپنی سیٹیں بیچی ہیں۔ کون ایسی سیاسی جماعت ہے جو داغ دار لوگوں، گھوٹالے بازوں اور جرائم پیشہ شہ سواروں کو فیض پہنچانے سے پیچھے رہی؟سب سے پہلے صاحبِ اقتدار کے حلقے میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہوئی۔ کئی برس پہلے اوپندر کشواہا الگ ہوکر این۔ڈی۔اے۔ کی مخالف جماعت کا حصہ بن گئے۔ اس بار رام ولاس پاسوان اور چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی نے الگ طرح کے سُر الاپنے شروع کیے اور ایک وقت آیا کہ مرکز میں حلیف جماعت رہتے ہوئے اس نے بہار کے فرنٹ سے علاحدہ ہوکر نتیش کمار کے امیدواروں کے خلاف اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔ یہ عام فیصلہ نہیں تھا مگر یہ ہوا ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے اس سلسلے سے نہ کبھی منانے کی کوشش ہوئی اور نہ ہی پاسوان کے خلاف کوئی سخت بیان سامنے آیا۔ وزیرِ اعظم بھارتیہ جنتا پارٹی صدر یا وزیرِ داخلہ جیسے افراد نے اس سوال پر خاموشی اختیار کی۔ اس بیچ یہ خبر بھی لوگوں کے سامنے آئی کہ اوپندر کشواہا نے کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کے فرنٹ سے خود کو الگ کرلیا۔ پپو یادو کا جن ادھیکار منچ بھی این۔ڈی۔اے۔ یا یو۔پی۔اے۔ کسی فرنٹ میں شامل نہیں ہوا۔ اس دوران اسد الدین اویسی کی پارٹی نے بھی اپنے امیدواروں کا سلسلہ قائم کیا اور صرف مسلم اکثریتی علاقے میں ہی نہیں بلکہ بہار کے مختلف علاقوں میں اپنے امیدوار سامنے لانے کی مہم شروع کردی۔
راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یونائیٹڈ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس پچھلی اسمبلی کے سب سے زیادہ ارکان تھے مگر انھوںنے اپنے امیدواروں کی ادلا بدلی، ٹکٹ کاٹنا اور خرید و فروخت کے سلسلے کو حد درجہ آگے بڑھایا۔ اس کام میں کوئی بھی پارٹی خود کو دھلا ہوا نہیں کہہ سکتی۔ سڑکوں پر قصے کہانیاں عام ہیں اور لاکھوں اور کروڑوں میں سیٹیں لوگوں کی مٹھی میں قید ہوںگی۔ اس گرانی میں اقلیت آبادی اور سیاسی جماعتوں کے سچے خادم میدان سے دور ہوتے گئے اور دلال قسم کے لوگ، جرائم پیشہ افراد دولت اور طاقت کے کھلاڑی میدان میں ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں اور سب سے زیادہ ایسے ہی لوگوں کو ہر سیاسی جماعت نے امیدوار بنایا ہے۔ ظاہر ہے یہی لوگ جیتیں گے یا جتائیں گے اور ہاریں گے یا ہرائیں گے۔ ان سے بہار کیوں کر بدل پائے گا؟ بہار میں غربت ، بے روزگاری، ناخواندگی ، غیر صنعتی نظام ، انتظامی ڈھانچہ میں بگاڑ ، مالی بے ضابطگی، جرائم پیشہ افراد کی طاقت میںاضافہ اور جمہوری اداروں کی کمزوری حقیقی مسائل ہیں مگر اس لوٹ کھسوٹ میں جو امیدوار فاتح ہوںگے اور اسمبلی تک پہنچ کر اپنی سرکار بنائیںگے، انھیں کیا معلوم کہ نئے بہار کا کون سا خواب لوگوں نے دیکھ رکھا ہے اور اس کی تعبیر کے لیے کیسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہوگی۔
اس بار کا بہار الیکشن صرف انتظامیہ کے لیے چیلنج نہیں ہے بلکہ حکومت سازی میں بھی اس بار نہ جانے کتنے کھیل تماشے سامنے آئیںگے، یہ کوئی نہیں جانتا۔ گذشتہ کئی مہینوں سے دلی سے لے کر عظیم آباد کے سیاسی گلیاروں تک یہ بات کھلے بندوں کہی جاتی رہی ہے کہ نتیش کمار کو بھارتیہ جنتا پارٹی آنے والے وقت کے وزیرِ اعلا کے طور پر قائم رکھنے کی خواہش نہیں رکھتی ہے مگر وزیر اعظم بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر اور وزیر داخلہ نے مختلف مواقع سے خاص طور پر ایسے اعلانات کیے جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ این۔ڈی۔اے۔ کا سیاسی چہرہ نتیش کمار ہی ہیں۔ اس وجہ سے نہ نتیش کما رکھل کر بھارتیہ جنتا پارٹی سے الجھ سکتے ہیں اور نہ شکایت کرسکتے ہیں۔ یہ بات بھی دھیرے دھیرے سیاسی ماہرین کی سمجھ میں آنے لگی ہے کہ لوک جن شکتی پارٹی نے جس شدت کے ساتھ صرف نتیش کمار کی پارٹی کی مخالفت اور وزیر اعلا کے طور پر ان کی نااہلی پر روزانہ بیان جاری کرنا روا رکھا ہے، اسی کے ساتھ اچانک اوپندر کشواہا کا یوپی اے سے الگ ہونا بھی تازہ سیاسی مفاہیم رکھتا ہے۔ پپو یادو کا فرنٹ میں طاقت ور ہونا اور زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو میدان میں اتارنا بھی ملے جلے ماحول کا اشارہ ہے۔ سیاسی مبصرین ان تمام سرگرمیوں کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی یا مرکزی حکومت کی براہ راست یا بالواسطہ توجہ کو اہمیت دے رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ اسد الدین اویسی کی پارٹی کے امیدواروں کی تعداد میں اضافہ اور دال روٹی کی طرح ہر علاقے میں ان کے امیدوار وں کو میدان میں اتارنا بھی میل جول کی سیاست کی ایک نئی کہانی کہتا ہے۔
اس ٹوٹ پھوٹ میں مہاگٹھ بندھن یا یو پی اے کو یہ موقع ملا کہ نئے سرے سے اپنے ارکان کو چنے۔ مانجھی، اوپندر کشواہا پہلے سے بھی این ڈی اے کا حصہ تھے۔ ان سے جیسے ہی دامن آزاد ہوا، کمیونسٹ پارٹیوں کی یوپی اے کے فرنٹ میں شمولیت سے اس کا پرانا انداز واپس آیا۔ لالو یادو جس غیر فرقہ وارانہ سیاست سے ابھر کر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے، وہ کانگریس ، راشٹریہ جنتا دل اور کمیونسٹ پارٹیوں کا مشترکہ منچ ہی تھا۔ مگر یہاں اصولی اعتبار سے جو فائدہ نظر آتا ہے، اس اعتبار سے ان پارٹیوں کے امیدواروں کی شناخت شاید نہیں کی گئی۔ آرجے ڈی نے تو اور بھی اپنی سیاسی ناتجربہ کار ی اور کنبہ یا قبیلہ پروری کو نشانِ راہ بنایا جس کی وجہ سے اقلیت آبادی او ردوسرے کمزور طبقے کے لوگوں کی امیدیں پسپا ہوئیں۔ ہار جیت کا فیصلہ ابھی چوتھے ہفتے میں آئے گا مگر تجربہ کار سیاست دانوں کی نگرانی میں اگر مہا گٹھ بندھن نے سیاسی فراست اور بہا رکی مستقبل شناس سیاسی سرگرمیوں میں توجہ کی ہوتی تو نتائج بہتر ہونے کی توقع کی جاسکتی تھی۔
سیاست کے تجربہ کار مشاہدین کا کہنا ہے کہ بہار کے موجودہ الیکشن کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی کئی طرح کے متوازی کھیل میں مبتلا ہے۔ چراغ پاسوان کو استعمال کرکے اس نے نتیش کمار سے آمنے سامنے کی جنگ کا ایک معاملہ ظاہر کردیا ہے۔ لوک جن شکتی پارٹی نے فیاضی کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کو اپنا سمبل پیش کرکے ان اندیشوں کو حقیقت کا رنگ عطا کردیا ہے۔ چراغ پاسوان کھلے طور پر اس بات کا اعلان کررہے ہیں کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کو سرکار میں تعاون چاہیے تو نتیش کمار کے کسی بھی متبادل کے لیے وہ ساتھ دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اپیندر کشواہا، پپو یادو اور اسد الدین اویسی کی پارٹیوں کے پیچھے دولت کی جو ریل پیل نظر آرہی ہے، اس کا ایک مقصد صاف صاف معلوم ہوتا ہے ، مقامی سطح پر ووٹر میں ایک غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو اور چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں ووٹوں کا بکھرائو سامنے آئے۔ اس کا فائدہ سیدھے طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہی ہونا ہے۔ نقصان نتیش کمار کی پارٹی کو ہو یا یو پی اے کو، ان دونوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی نقصان سامنے سے نظر نہیں آتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی دو دھاری تلوار پر کھڑی ہے۔ نتیش کمار کے خلاف وہ کھل کر اس لیے بھی سامنے نہیں آ رہی ہے کیوںکہ وہ یقین کے ساتھ نہیں کہہ پارہی ہے کہ نتیش کمار کی پارٹی انتخاب میں بالکل پھسڈی ثابت ہوگی۔ حکومت سازی میں نتیش کمار نے بھی اچھی خاصی سیٹیں جیت لیں تب بھی این ڈی اے کی حکومت بن جائے گی اور اگر بھاجپا کی سازشی اسکیم کو کامیابی حاصل ہوئی اور لوک جن شکتی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ کو کمزور کرنے اور خود کچھ زیادہ سیٹیں لانے میں کامیاب ہوگئی تو بھارتیہ جنتا پارٹی اس کے ساتھ بھی میدان میں آسکتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک اور بھی آسانی ہے کہ یو پی اے کو دور رکھنے کے لیے وہ بہت آسانی سے اپنے پرانے دوست اپندر کشواہا کو این ڈی اے میں اندر یا باہر سے جوڑ سکتے ہیں۔ تھوڑی بہت کمی بیشی پوری کرنے کے لیے پپو یادو کے ساتھ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے چاہنے والے موجود ہیں۔
مہاگٹھ بندھن کی حقیقی قیادت تیجسوی یادو کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے بیانات رہ رہ کر سوچے سمجھے اور لوک لبھاونے نظر آرہے ہیں۔ کانگریس سامنے سے اپنی سرگرمیوں سے یہ ثابت نہیں کرپارہی ہے کہ وہ بہار میں الیکشن کی مہم میں کوئی موثر کام کرے گی۔ سی پی آئی ایم ایل اور کمیونسٹ پارٹی کے لوگ البتہ تھوڑی بہت سیٹوں پر اپنی موثر موجودگی درج کرانے میں کامیاب ہے۔ عوام میں نتیش کمار کی کرونا یا سیلاب کے سلسلے سے غیر موثر کارکردگی کی وجہ سے بے چینی بھی ہے ۔ جگہ جگہ ان کی حکومت نے اقلیت آبادی کے مسئلوں کو الجھا کر رکھا ہے۔ اب اقلیتوں کے کچھ شہ سواروں کو ان کی پارٹی گائوں گھر میں ووٹ لینے کے لیے گھما رہی ہے۔ جیسے جیسے ووٹ دینے کی تاریخیں نزدیک آنے لگی ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نتیش کمار کی سیٹیں گھٹنے کے واضح آثار ہیں۔ مگر وہ سیٹیں راشٹریہ جنتا دل، کانگریس یا کمیونسٹ پارٹیوں کو ملیں گی، یہ کہنا بے حد مشکل ہے۔ خوش گمانی بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی نہیں ہونی چاہیے کہ گھی کہاں گیا کھچڑی میں کے مترادف یہ سیٹیں ان کی سازشاً پیش کی گئیں پارٹیوں کو حاصل ہوجائیںگی۔ ابھی سارے معاملے ٹھوس صورت میں نہیں ہیں او ررقیق حالت ہونے کی وجہ سے گنتی بہت مشکل ہے۔ اس بار پانچ ہزار، دو ہزار ووٹ لے کر کسی بھی پارٹی کے امیدواروں کو ہرانے کے لیے لوگ میدان میں کھڑے ہیں۔ دس اور سو دو سو ووٹ سے بھی فیصلے ہوںگے۔ ووٹر ہندستان کے روشن مستقبل اور بہار میں نئی سیاست کی داغ بیل رکھنے کے لیے بہتر فیصلہ کرے تو یہ سب کے لیے اچھا ہوگا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*