بائیڈن نے اپنی ٹیم میں ایک اور عرب خاتون دانا شباط کو شامل کیا

واشنگٹن:(منصور ندیم) امریکہ میں منتخب صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں اپنی ٹیم کے لیے ایک اور مسلم عرب اردنی خاتون دانا شباط کو قانونی مشیر کی ٹیم کے ممبر کے طور پر شامل کیا ہے۔اردنی نژاد دانا شباط وائٹ ہاؤس میں پچاس سے زیادہ نئے افسران میں قانونی امور کی مشیر ہوں گی، اور قانون سازی امور کی سٹریٹیجک رابطہ کار کے طور پر کام کریں گی۔
عرب نژاد دانا شباط دوسری عربی امریکی خاتون ہیں جنہیں جو بائیڈن نے اپنی انتظامیہ کا حصہ بنایا ہے۔ اس سے پہلے فلسطینی نژاد امریکن ریما ڈوڈن کو وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے قانون سازی امور نومبر 2020 میں متعین کیا گیا تھا۔ اصلا آ بائی طور پر ریما ڈوڈن اسرائیل کی طرف سے فلسطین کے مقبوضہ علاقے درہ سے تعلق رکھتی ہیں۔
دانا شباط کیلیفورنیا میں پیدا ہوئیں اور کولوراڈو میں پرورش پائی، دانا شباط نے علم النفس اور منی لیڈر شپ کے مضمون میں کولوراڈو یونیورسٹی سے گریجویشن 2018 میں کیا ہے۔ دانا شباط کے والد اردن سے آنے والے مہاجرین میں سے ہیں، دانا شباط قانون سازی کے میدان میں 2017 کے دوران امریکی سینیٹ میں ٹرینر کی حیثیت سے قدم رکھا تھا تاہم صحیح معنوں میں 2018 میں ٹرینر کی حیثیت سے فرائض انجام دینا شروع کیے۔ دانا شباط امریکی کانگریس میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے اہلکاروں کی سوسائٹی کی ڈپٹی چیئرمین بھی ہیں۔
جو بائیڈن نے اپنی ٹیم کے افراد کا انتخاب نظریاتی اور نسلی تنوع کی بنیاد پر کیا ہے۔ امریکہ میں پیچیدہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باصلاحیت افراد کو بائیڈن کی ٹیم کا حصہ بنایا جارہا ہے۔ ابتدا میں وائس پریزیڈنٹ کے لئے کملا ہیرس کا انتخاب کیا ، اگست 2020 میں جو بائیڈن نے "Plan for Partners” دیا تھا، عرب اور امریکن کا ملک کر امریکا کی ترقی میں کردار بطور "essential to the fabric of our nation” تھا۔
نومبر 2020 کے امریکی الیکشن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی فلسطینی نژاد امیدوار ایمان جودہ بھی Colorado House of Representatives منتخب ہوئی ہیں اس کے علاوہ امریکن مسلم ، کانگریس سے الہان عمر اور راشدہ طلیب نے بھی US House of Representatives کی اپنی سیٹیں برقرار رکھی ہیں ۔ ان مسلمان خواتین نے نے ہمیشہ فلسطین کے حقوق کے لئے اور اسرائیل کے غاصب رویوں کے خلاف امریکا کے پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی ہے۔