بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کی سرپرست بن گئی،73.5کروڑ ڈالرکااسلحہ بیچنے کی منظوری

نیویارک:امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے اسرائیل کو ساڑھے 73 کروڑ ڈالر مالیت کے گائیڈڈ ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اس کے ایک ہفتے کے بعد اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان مسلح تصادم کا آغاز ہوگیا تھااوراسرائیلی فوج نے 10 مئی کو غزہ کی پٹی اور غربِ اردن میں تباہ کن فضائی حملے شروع کردیے تھے۔امریکا کے مؤقراخبار واشنگٹن پوسٹ نے سب سے پہلے اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرنے سے متعلق اس سودے کی اطلاع دی تھی۔اس نے ڈیمو کریٹک پارٹی کے ایک رکن کا نام ظاہر کیے بغیر بیان نقل کیا تھا۔انھوں نے بائیڈن انتظامیہ کے اس اقدام پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اگرجنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالے بغیراسرائیل کو اسمارٹ بم فروخت کیے جاتے ہیں تو اس سے مزید قتل عام ہی ہوگا۔اس وقت بائیڈن انتظامیہ خود دوعملی کا شکار ہے اور صدر بائیڈن مشکل میں کھڑے نظرآتے ہیں۔ وہ انسانی اور جمہوری حقوق کے علمبردار رہے ہیں اور انھیں اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار دیتے ہیں لیکن دوسری جانب اسرائیل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تشدد کے خاتمے سے متعلق بیانات کو امریکا سے بلاک کرانے میں کامیاب رہا ہے۔امریکی قانون کے مطابق مشرقِ اوسط کے خطے میں اسرائیل کی فوجی بالادستی قائم ہونی چاہیے اور صہیونی ریاست کو اس مقصد کے لیے امریکا کی ہنوز سرپرستی حاصل ہے۔مگر حالیہ ہفتوں میں صدرجوبائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان اسرائیل کے شدید ناقد کے طور پر سامنے آئے ہیں۔اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت کا نیا سودا منظرعام پر آنے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے تو تنقید کی ہے جبکہ ری پبلکن ارکان نے اس کی حمایت کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل نظام کو تقویت پہنچانے کے لیے ہتھیار مہیا کیے جانے چاہیے۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی قانون سازوں نینئے مجوزہ سودے اور اس کے وقت کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں۔انھوں نے یہ تجویز کیا ہے کہ اس سودے کواسرائیل کو جنگ بندی پرآمادہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔اخبار کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کانگریس کو ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق سرکاری طور پر مطلع کرتی ہے تو اس کے قانون سازوں کے پاس اس سودے پر معترض ہونے کے لیے 20 دن ہوں گے۔وہ ایک غیرپابند قرارداد کے ذریعے اس کو نامنظور بھی کرسکتے ہیں۔