بائیڈن اردگان ملاقات: کابل ایئرپورٹ کو محفوظ بنانے کا کام ترکی کے حوالے ہو گا

نیویارک :امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ترک صدر رجب طیب اردگان کے مابین اس ہفتے ہونے والی ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق ہوا کہ کابل ایئر پورٹ کو محفوظ بنانے کا اہم کام ترکی کے حوالے ہو گا۔ امریکی اور ترک صدور کے درمیان اس بات پر اتفاق ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا جاری ہے۔ جیک سلیوان نے بتایا کہ دونوں سربراہان ترکی کی جانب سے ایس 400 قسم کے روسی ساختہ دفاعی نظام کی خریداری کے طویل مدتی معاملے کا تصفیہ نہیں کر پائے۔ ان کے بقول یہ ایک تلخ تنازع ہے جس کے باعث نیٹو ارکان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور اس معاملے پر مکالمہ جاری رہے گا۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے صحافیوں کو بتایا کہ بائیڈن اور ایردوان کی ملاقات پیر کو نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران ہوئی جس میں افغانستان کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔ سلیوان نے کہا کہ کابل ایئر پورٹ کے تحفظ کے سلسلے میں ایردوان نے مختلف قسم کی امریکی حمایت کے حصول کی بات کی اور بائیڈن نے حمایت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جیک سلیوان کا کہنا ہے کہ دونوں سربراہان کی جانب سے اس عزم کے اظہار سے یہ بات طے ہے کہ حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے تحفظ کے سلسلے میں ترکی اہم قائدانہ کردار ادا کرے گا اور اس وقت ہم یہ طے کر رہے ہیں کہ اس ہدف کو کس طرح حاصل کیا جائے۔ اس معاملے پر ترک صدارتی اہلکاروں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی جب کہ ملاقات میں ہونے والی اس بات چیت سے متعلق امریکہ کی جانب سے مذکورہ تفصیل پیش کی گئی ہے۔ دوسری جانب ترکی اور امریکہ کے مؤقف میں کئی ایک امور پر سخت اختلافِ رائے رہا ہے جن میں ترکی کی جانب سے روسی ہتھیار خریدنے کے ساتھ ساتھ شام اور مشرقی بحیرہ روم کے معاملات پر شامل ہیں۔ اسی لیے دونوں صدور کی ملاقات سے متعلق کہا جا رہا تھا کہ ایردوان اور بائیڈن کی ملاقات کے نتیجے میں کسی پیش رفت کا نہ ہونے کے برابر امکان ہے۔تاہم ملاقات کے بعد دونوں سربراہان نے خوش گوار تاثر دیا۔ حالاں کہ انہوں نے کسی ٹھوس پیش رفت کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ممکنہ تعاون افغانستان کے معاملے پر ہو سکتا ہے جہاں آئندہ چند ہفتوں کے
دوران امریکہ اور نیٹو افواج کا انخلا جاری رہے گا جس دوران ترکی نے کابل ایئرپورٹ کی حفاظت اور آمد و رفت جاری رکھنے کا کام سنبھالنے کی پیش کش کی ہے۔کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کا کام اس وقت انتہائی اہم ہوجائے گا جب مغربی افواج کا انخلا ہو رہا ہو گا اور افغانستان سے سفارتی مشنز کی واپسی کی کارروائی عمل میں آئے گی۔گزشتہ ہفتے طالبان کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ امریکی افواج کے انخلا سے متعلق 2020 کے معاہدے کی رو سے ترکی کو افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنی ہوں گی۔