بائیسیکل کے عالمی دن پر ایک پرانی تحریر ـ مالک اشتر

آپ میں سے شائد ہی کوئی ایسا ہو جسے زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں سائیکل سے پیار نہ رہا ہو۔ بہت امکان ہے کہ میری ہی طرح آپ کی نوعمری کی یادیں بھی سائیکل کے بغیر ادھوری ہی رہیں۔ آج مہنگی بائک اور قیمتی گاڑیاں دوڑانے والے شائد اس سرور کو نہ سمجھ سکیں جو سائیکل چلانے میں آتا تھا۔ ہمارے گھر میں پہلی سائیکل مجھ سے بڑے بھائیوں کی تھی۔ وہ دونوں اس کو خوب گھمائے پھرتے۔ مجھے اس پر پیچھے بیٹھ کر سواری کا موقع تو ملا لیکن عمر اتنی کم تھی کہ اگر خود چلانے کی کوشش کرتا بھی تو ڈر تھا کہ سائیکل کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ پاؤں بھی تڑوا بیٹھتا۔ اس لئے وہ دن اسی منصوبہ بندی میں کاٹ دیئے کہ جب اپنی سائیکل آئے گی تو گھنٹوں چلایا کروں گا۔ خیر جس وقت سائیکل آئی تو پڑھائی کے سبب فرصت کم ہو گئی۔
ہمارے ایک استاد پیشے سے وکیل تھے لیکن انگریزی کا ٹیوشن دیا کرتے تھے۔ صبح کچہری جانے سے پہلے انہیں بچوں کو پڑھانا ہوتا تھا اس لیے تڑکے سے ہی بچوں کو بلا لیتے۔ ہمارے گروپ کے لیے صبح پانچ بجے کا وقت مختص تھا۔ علی الصبح سائیکل چلاکر ٹیوشن جانے کا مزہ ہی الگ تھا۔ ہر بار جھنجھلاہٹ ہوتی کہ راستہ اتنی جلدی کیوں کٹ گیا؟۔
سائیکل کا سب سے لمبا سفر سال میں ایک دن ہوتا جب میں عید پر اپنے دوست کے گھر جاتا۔ اس کا گاؤں ہمارے یہاں سے پانچ چھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ اس سفر میں ہی عید کا آدھا دن نکل جاتا تھا۔ میں جس اسکول میں سینئر سکینڈری تک پڑھا وہاں آس پاس کے گاؤں والے طلبہ کی سیکڑوں سائکلیں کھڑی رہا کرتی تھیں۔ اب سنا ہے کہ سائیکلیں گھٹ گئی ہیں اور بائکوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
اپنی سائیکل کو میں نے بڑے مان اور چاؤ سے رکھا۔ اس کے بگڑ جانے پر کبھی جھنجھلایا نہیں اور نہ ہی اس کے نخرے اٹھانے میں کوئی کسر اٹھا رکھی۔ ہینڈل پر کوور لگواتا، پہیئہ کی ایک بھی تیلی مڑ جاتی تو اسے فورا بدلواتا، گھنٹی ایسی لگوا رکھی تھی کہ ضرورت نہ ہو تب بھی بجانے کا دل چاہے، اکثر آنگن میں کھڑا کرکے اس کو غسل بھی کرا دیا کرتا تھا۔
جب تک میں وہاں رہا میری سائیکل کی خاطر داری میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ میں جب تعلیم کے لئے شہر ہجرت کر گیا تو وہ سائیکل گھر پر اکیلی ہو گئی۔ مجھے اس سائیکل سے جس قدر لگاؤ تھا اس کو دیکھتے ہوئے مجھے نہیں لگتا کہ اسے مجھ سے چاہت نہیں رہی ہوگی۔ البتہ بے زبان تھی اس لئے مجھے روکنے کے لیے کچھ کہہ نہیں سکی۔ میں گھر پر فون کرتا تھا تو شائد سائیکل کو خیال آتا ہوگا کہ وہ بھی مجھ سے بات کرے، میرا حال پوچھے اور میرے پیچھے اس کا کیا رنگ ہے یہ بتائے۔۔ لیکن وہی بے زبان ہونا آڑے آ گیا ہوگا۔
بہت دن بعد میں نے گھر والوں سے اپنی سائیکل کا حال پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ کئی ماہ تک تو یوں ہی کھڑی رہی اور پھر ایک دن ایک کباڑی کو اٹھوا دی گئی۔