بھوپال ـ ضیافاروقی

بدر کامل ہے ستاروں کی ردا بھوپال ہے
اک حسیں کے دست نازک کی حنا بھوپال ہے

جس نے اس کا حسن دیکھا اس کا دیوانہ ہوا
سچ تو یہ ہے آج بھی کافر ادا بھوپال ہے

اس کے تالابوں میں جیسے شام سونا گھول دے
صبح جیسے ا یک چاندی کی قبا بھوپال ہے

خشک پیڑوں پر بھی رہتی ہیں یہاں شادابیاں
جانے کن ہونٹوں کی مانگی اک دعا بھوپال ہے

دور تک پھیلے پہاڑی سلسلوں کے زیر و بم
جیسے اک موجِ تلاطم پر بسا بھوپال ہے

ہند کے نقشے پہ اک خطہ نمایاں دیکھ کر
اس نے پوچھا کیا ہے میں نے کہا بھوپال ہے

شاعری ہو علم و حکمت ہو کہ ہو بزم طرب
سلسلہ در سلسلہ در سلسلہ بھوپال ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*