بھارت میں جمہوریت و آزادی کا مسئلہ-ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

بھارت دنیا کے وسیع جمہوری نظام والے ممالک میں سے ایک ہے، جو اپنی روداری اور انیکتا میں ایکتا کے لیے مشہور ہے،لیکن گزشتہ سالوں میں رونما ہوئے واقعات سے بھارت کی جمہوریت پر سنگین سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ پریس آزادی کے انڈیکس میں وہ 180 ممالک میں 142 ویں اور انسانی آزادی کے معاملے میں 162 ملکوں میں 111 ویں نمبر پر ہے۔ مگر حکمراں جماعت نے اپنی تعریف کے شور میں کمزور ہو رہی جمہوریت کو لے کر اٹھ رہی آوازوں کو نظر انداز کر دیا۔ اب امریکی تھنک ٹینک "فریڈم ہاو ¿س” نے اپنی رپورٹ میں بھارت کو "جزوی آزاد” ممالک کے زمرے میں رکھا ہے۔ فریڈم ہاوس دنیا بھر کے ممالک میں انسانی حقوق، جمہوری قدروں اور آزادی کے معیار کی پڑتال کرتا ہے۔ اس بنیاد پر ملکوں کو "آزاد، جزوی آزاد اور آزاد نہیں” کی رینک دیتا ہے۔ بھارت اس بار 100 میں سے 67 نمبر ہی حاصل کر سکا ہے جبکہ پچھلے سال اسے 71 نمبر ملے تھے۔ یعنی حالات بہتر ہونے کی امید اب بھی باقی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس امید کو پورا کرے گی؟
فریڈم ہاؤس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف 20 فیصد ممالک ہی ایسے ہیں جہاں جمہوریت بچی ہے۔ 80 فیصد میں جمہوریت کمزور ہوئی ہے اس میں امریکہ بھی شامل ہے۔ اس کے باوجود بھارت کا شہری ہونے کے ناطے یہ بات پریشان کرنے والی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں شہریوں کی آزادی کو جزوی بتایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس رپورٹ کی اپنی سوچ کے مطابق الگ الگ وضاحت کی جا رہی ہے۔ نظریاتی طور پر عوام دو خانوں میں بٹے ہیں۔ بہر حال ایک شہری کے طور پر ہمیں سمجھنا ہوگا کہ رپورٹ یا رپورٹ لانے والے ادارے کے ارادوں پر شک کر کے بے چین کرنے والے سوالوں پر آنکھیں موند لیں یا پھر سیاسی اقتدار، سماجی گراوٹ اور جمہوری قدروں کی پامالی کی دلیلوں کو مسترد کرنے کے بجائے ان پر سنجیدگی سے غور و فکر کر کے اسے روکنے کی کوشش کریں۔ کیوں کہ اس کا اثر کروڑوں لوگوں کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں کچھ پوائنٹ سبجیکٹیو لگتے ہیں مثلاً کورونا بحران کے دوران ضرورت سے زیادہ سخت لاک ڈاؤن پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ تیاری کے بغیر اچانک لاک ڈاؤن سے مہاجر مزدوروں اور عام لوگوں کی تکلیفیں ہر حساس طبیعت رکھنے والے شخص کو پریشان کرتی رہی ہیں۔ لیکن کورونا سے نبٹنے کے لیےاس سخت لاک ڈاؤن کی ضرورت تھی۔ لیکن رپورٹ میں کچھ ایسی آبجیکٹیو باتیں بھی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جیسے پولیس کے ذریعہ درج کیے گئے غداری کے معاملوں میں تیزی سے بڑھوتری، صحافیوں کے خلاف جابرانہ کاروائی میں اضافہ، کورونا جہاد کہہ کر ایک مذہب کے لوگوں کو اس مہلک بیماری کا مجرم بتانا وغیرہ۔ میڈیا پر دباؤ بنا کر اس کی خود سپردگی کرائی گئی اور اس کا بڑا طبقہ برسراقتدار جماعت، حکومت کا بھونپو بن گیا۔ وہ اپنی ذمہ داری بھول گیا جبکہ بھارت میں سیاسی اقتدار کی تبدیلی میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
فریڈم ہاؤس نے بھارت میں بڑھتی عدم رواداری، ہجومی تشدد، خواتین، مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور درج فہرست ذاتوں کے خلاف بڑھتے جرائم کو خاص طور پر اپنی رپورٹ میں جگہ دی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اس طرح کے جرائم کو انجام دینے والے سزا معاف ہیں؟ بلکہ برسراقتدار جماعت کے وزرائ پھولوں کی ملائیں پہنا کر ان کی عزت افزائی کرتے ہیں۔ دہشت گردی سے لے کر کورونا وائرس پھیلانے تک کے لیے مسلمانوں کو بلی کا بکرا بنایا گیا۔ حکمراں پارٹی کے ممبران کے ذریعہ کھلے عام دیے گئے فرقہ وارانہ نفرت پیدا کرنے اور سماج کو مذہب، ذات اور طبقہ کی بنیاد پر بانٹنے والے بیانات نے مجرموں کے حوصلے بلند کیے۔ اس معاملے میں آئینی اداروں کے ذمہ داران بھی پیچھے نہیں رہے۔ وہ بی جے پی کے ترجمان کی طرح بات کرتے ہوئے دکھائی دیے۔اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی شبیہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
بیتے کچھ عرصہ میں کشمیر، شاہین باغ، سی اے اے، لوجہاد،انسانی حقوق اور زرعی قوانین کے مدوں کو لے کر بھی حکومت کے رویہ پر تنقید ہوئی ہے۔ دنیا کے معزز اداروں نے سرکار کی تنگ نظری پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کیوں کہ اس سے جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔ غیر ملکی اعتراضات پر حکومت نے سخت رویہ اپنایا، ملک کی جانی مانی ہستیوں نے بھی اعتراضات کی نفی کرتے ہوئے اسے اندرونی معاملہ بتایا۔ مگر ہر بار یہ کہہ کر بچا نہیں جا سکتا کیونکہ جب بات شہری حقوق، انسانی وقار، انسانوں کے درمیان تفریق اور نابرابری کی ہو تو پھر ملکوں کی سرحدیں انہیں کسی دائرے میں باندھ کر نہیں رکھ سکتیں۔ یہ مسئلے عالمی ہیں اور ان پر وسیع نظریہ ہی اپنانا پڑتا ہے۔ یہ بات اب فریڈم ہاو ¿س کی تازہ رپورٹ سے بھی ظاہر ہوئی ہے۔
دہلی فساد اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف پولیس و جانچ ایجنسیوں کی کاروائیوں پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ عدلیہ، انتخابی کمیشن اور آئینی ادارے بھی سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔ کسی بھی طرح کی بے ضابطگیوں پر کاروائی کرنا سی بی آئی، ای ڈی اور انکم ٹیکس کا کام ہے لیکن یہی ادارے جب حکومت کی خامیاں گنانے والوں کو دشمن مان کر ان پر چھاپہ ماری کرتے ہیں تو اس کے پیچھے سیاسی منشاءیا بدلے کی کاروائی کا شک ہونا فطری ہے۔ جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ لیڈران، صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان، فلمی ہستیوں کی گرفتاری اور ان پر چھاپہ کی کارروائی سے یہ شک اور پختہ ہوتا ہے۔ دشاروی، نودیپ کور، شیو کمار جیسے نوجوانوں کی گرفتاری کو لے کر سوال اٹھے تھے۔ کئی ہونہار نوجوان حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے جیلوں میں بند ہیں۔ تاپسی پننو، انوراگ کیشپ پر انکم ٹیکس کے چھاپے اور گجرات میں سیکورٹی حاصل ہونے کے بعد بھی ایک دلت آر ٹی آئی کارکن کا قتل اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
یہ سب تب ہو رہا ہے جب سپریم کورٹ کہہ چکا ہے کہ حکومت پر تنقید کرنا ملک سے غداری نہیں ہے۔ تشدد نہ پھیلانے والوں کے خلاف ملک سے غداری کے معاملے درج نہ کئے جائیں۔ ملک میں جو حالات پیدا ہوئے یا ہو رہے ہیں اس کی ذمہ داری سرکار کو ہی اٹھانی پڑے گی کیونکہ ملک میں آئینی اداروں کی غیر جانبداری اور خود مختاری کو برقرار رکھنے کا ذمہ بھی اسی کا ہی ہے۔ یہ تبھی ممکن ہوگا جب خود حکومت جمہوریت کےلیے ذمہ دار بنے۔ انصاف پر مبنی جمہوری نظام کو بنائے رکھنے کے لیے شہری کے طور پر ہر شخص کو حکومت کی مدد کےلئے آگے آنا ہوگا۔ بھارت جمہوری قائد کے طور پر دنیا کی قیادت کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ مگر یہ تبھی ممکن ہے جب اس کے اپنے ملک میں مضبوط جمہوری نظام قائم ہو۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اکثریت وادی سوچ سے باہر نکل کر حکومت یہ دیکھے کہ اقلیت (یعنی جو آبادی ،نظریات یا ایوان میں تعداد کے لحاظ سے کم ہوں) کیا محسوس کرتے ہیں۔ کیوں کہ آج سماجی انصاف، انصاف کی حکومت کا جو بحران پیدا ہو گیا ہے وہ اسی سے دور ہوگا۔ جمہوریت میں عوام کا اعتماد بحال کرنا اور آزادی کے احساس کو زندہ رکھنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر بھارت اس میں کامیاب ہوتا ہے تو فریڈم ہاؤس جیسی رپورٹوں کا کوئی مطلب ہی باقی نہیں رہے گا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)