بھارت میں غیر مسلم کا مسلمان بننا کتنا مشکل ہے؟ ـ آفتاب اظہرؔ صدیقی

پنجاب کی سیاسی پارٹی اکالی دل کے لیڈر منجندر سنگھ سرسا نے احتجاج درج کراتے ہوئے پریس کانفرنس کی ہے کہ سکھ بچیوں کو زبردستی مسلمان بناکر ان سے شادی کی جارہی ہے؛ منجندر سنگھ نے چار بچیوں کے غائب ہونے کی بات کہی ہے؛ لیکن منجندر سنگھ کے دعوے کو خود ان سکھ بچیوں نے جھوٹا ثابت کردیا ہے، ان میں سے دو بچیوں من میت کور اور دن میت کور نے ویڈیو بناکر اکالی دل کے منجندر سنگھ کی اس غلط فہمی کا ازالہ کیا ہے، انہوں نے ویڈیو میں صاف طور پر اقرار کیا ہے کہ انہیں کسی نے زبردستی مسلمان نہیں بنایا ہے؛ بلکہ انہوں نے خود اپنی مرضی سے اسلام کو اچھا مذہب مانتے ہوئے اسلام قبول کیا ہے اور وہ دونوں سن بلوغ کو پہنچ چکی ہیں؛ لہذا‘ انہیں اپنی مرضی سے شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان میں سے من میت سنگھ کا ویڈیو جس میں لڑکی ماسک پہن کر اپنی ”آپ بیتی“ بیان کر رہی ہے؛ دیکھنے اور سننے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت جیسے سیکولر ملک میں اسلام قبول کرنا کتنا مشکل ہے! من میت سنگھ نے 2012ء میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا اور 2014ء میں اس نے اپنے پسند کے ایک مسلمان لڑکے سے نکاح کرلیا تھا؛ اس نے اپنے تمام کاغذات بھی بنوا لیے تھے، اس کے پاس ہائی کورٹ کے ڈاکیومنٹس تھے جن سے اس کا اپنی مرضی سے مسلمان ہونا اور شادی کرنا ظاہر ہوتا ہے؛ لیکن اس کے باوجود اس کے خاندان پر دباؤ بناکر کچھ سیاسی لیڈروں نے اس کو بے وجہ پریشان کیا۔ من میت کور کا کہنا ہے کہ مجھے زبردستی لڑکے کے خلاف بیان دینے پر مجبور کیا جارہا تھا، کبھی کہتے کہ تم اسلام چھوڑ دو ورنہ ہم لڑکے کو مار دیں گے، کبھی کہا جاتا کہ تم اپنا بیان بدل دو ورنہ تمہیں زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا، کبھی کہتے کہ ویڈیو میں یہ بیان دے دو کہ تمہیں کڈنیپ کرکے جبراً تمہیں مسلمان بنایا گیا ہے، تاکہ ہم جج کے سامنے اس ویڈیو کو دکھاکر لڑکے کے خلاف کارروائی کر سکیں، مجھے اپنے ماں باپ سے بھی دور رکھا جارہا تھا، جب میں بہت زیادہ مجبور ہوگئی تو میں نے یہ حربہ اختیار کیا کہ میں ویڈیو میں تو بیان نہیں دوں گی؛ البتہ جج کے سامنے بیان دینے کے لیے تیار ہوں، اس پر انہوں نے کہا کہ اگر تم نے جج کے سامنے ہماری منشا کے مطابق بیان نہیں دیا تو ہمارے شوٹر باہر تمہارا انتظار کر رہے ہوں گے جو تمہیں باہر نکلتے ہی گولی مار دیں گے؛ لیکن میں اپنے ارادے میں مستحکم رہی اور میں نے جج کے سامنے وہی کہا جو سچ تھا کہ میں اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہوں اور اپنی پسند سے شادی کی ہے۔ ان دونوں لڑکیوں کے ویڈیو بیان کے آنے کے بعد من جندر سنگھ سرسا کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوگیا ہے اور وہ اب بچکانی حرکت کرنے لگا ہے، اس نے ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کے بھائی کو تیار کرکے یہ مضحکہ خیز بیان دلوایا ہے کہ اس کی بہن کی ویڈیو فیک اور جھوٹی ہے۔