بھارت کو فرقہ پرستی کی دھند میں جانے سے بچانے کی ضرورت ـ مولانا عبد الحمید نعمانی

بھارت میں کئی طرح کے افکار ونظریات اور طرز ہائے حیات والے گروپ پائے جاتے ہیں جن کے لیے اپنے وجود اور شناخت کو باقی رکھنے کے لیے بڑی بے چینی ہے ، ایک مسئلہ شناخت کی تلاش کا بھی ہے، بے چینی کوئی غلط اور قابل اعتراض جذبہ نہیں ہے اور نہ یہ کوئی مسئلہ ہے ، لیکن جب یہ بے چینی طاغوتی جارحیت اور فرقہ پرستی کا روپ دھار لیتی ہے تو ملک کا کردار اور سماجی تانے بانے کے درہم برہم ہونے کی راہ ہموار ہوجاتی ہے ، اس کا بھارت جیسے مختلف مذاہب اور طرز حیات کے تنوع والے ملک میں زیادہ خطرہ رہتا ہے ، اکثریت پرستی کی لہر میں جب فرقہ پرستی اور جارحانہ تفوق پسندی ، راشٹرواد کی صورت میں سامنے آتی ہے تواخلاقی اقدار کا تحفظ اور انصاف و مساوات پر مبنی آئین کی بالا تری کو باقی رکھنا بڑا مشکل ہوجاتا ہے ، اس کا احساس صرف آبادی کی اقلیت کو ہی نہیں بلکہ اکثریت کے اقدار و انصاف پسند افراد کو بھی ہونے لگتا ہے ۔ کچھ برسوں پہلے معروف قلم کار ودانشور شمبھو ناتھ نے‘‘ بھارتیتا (ہندستانیت)کا ہندو کرن’’ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی تھی جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ تنا ور درخت کی جڑ وں کو چوٹ پہنچائی جاسکتی ہے ، لیکن اسے پھر بیج میں بدلا نہیں جاسکتا ہے ، کنور پرسون نے لکھا تھا کہ بی ،جے پی کی طرف سے جناح واد کا ہندو کرن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس کا اپنا کچھ نہیں ہے بلکہ سنگھ کے دیے پروگرام پر چلنا ہے اس سلسلے میں شناخت کے بحران نے کئی طرح کے مسائل پیدا کیے ہیں ، جیسا کہ گیتا شری نے لکھا ہے ۔(تفصیلی مطالعے کے لیے دیکھیں راجکشور کی مرتبہ کتاب ہندوتو کی راجنیتی مطبوعہ وانی پرکاشن ،دہلی) ان سب کو بازار واد ، برہمن واد ، فرقہ واد کی ا صطلاحات میں آج کے بدلتے منظر نامے کو سامنے رکھتے ہوئے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے ۔ جارحانہ ہندو تونے اقلیتوں اور محنت کش طبقات ، خصوصاً مسلم اقلیت کو اپنی شناخت اور تشخص کے حوالے سے خاصا حساس بنا دیا ہے اور اس کی تشویش کو پوری طرح بے جا بھی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ گزشتہ چند برسوں میں مخصوص طرح کے سیاسی تفوق سے مختلف سطحوں پر جو تبدیلیاں ہوئی ہیں،ان کو لے کر کئی قسم کے سوالات بھی سامنے آئے ہیں ، اس کا بڑی حد تک اندازہ ،سابق نائب صدر جمہوریہ جناب حامد انصاری کی کتاب خود نوشت سوانح By Many a Happy Accident(شائع کردہ روپا، دہلی )ڈاکٹر اشتیاق دانش کی مرتبہ ‘‘ہندستان کا مستقبل اور اسلام’’ اور ڈاکٹر فہیم اختر ندوی کی لکھی کتاب’’ ہندستانی مسلمان اور اسلامی تشخص ، مسائل اور حل’’ ، (شائع کر دہ انسٹی ٹیو ٹ آف آبجیکٹیو اسٹیڈیز ،دہلی ) سے بہ خوبی ہوجاتا ہے ، اس میں مزید اضافہ ملک کے تمام باشندوں کے لیے یونی فارم سول کوڈ کی باتوں سے ہوتا جارہا ہے ، اس سلسلے میں مسلم پرسنل لاءبورڈ کی ہونے والی میٹنگ کے ایجنڈے سے مسئلے کی حساسیت پوری طرح اجاگر ہوجاتی ہے۔ گزشتہ دنوں پرگتی میدان دہلی میں اختتام پذیر عالمی کتاب میلے میں جس طور سے ،دھوم دھڑاکے کے ساتھ ، لوک بھارتی پرکاشن کی طرف سے ، انوپ برن وال کی کتاب ،‘‘سمان ناگرک سنہتا، چنوتیاں اور سمادھان’’ کی رسم اجرا اور اس میں بی جے پی لیڈر اشونی کمار اپادھیائے کی شرکت اور خطاب ہوا اس سے بہت کچھ ظاہر ہوگیا ہے ۔ یہ اپادھیائے جی بڑی سرگرمی کے ساتھ ، مسلم پرسنل لاءسے متعلق مسائل کو خطرے کی شکل میں سپریم کورٹ میں بھی لے جارہے ہیں ، وہ حلالہ کے مسئلے کو بھیانک و مکردہ شکل میں پیش کر تے ہیں ، اس میں میڈیا بھی پورا پورا ساتھ دیتا ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اقلیتوں، خصوصاً مسلم اقلیت نے مزاحمت کو کلی طور پر ترک کر دیا ہے ، قیادت کی جہت سے بھی گزشتہ کچھ دنوں سے مشترکہ جدو جہد کی زمین تیار کرنے پر مختلف سطحوں سے کام ہورہا ہے اور امید ہے کہ اس کی آنے والے قریبی ایام میں عملی شکل سامنے آجائے ، یہ سمجھنا بھی صحیح نہیں ہوگا کہ ہمارے اکابر اور قائدین، ملک وملت کے مسائل کے تئیں بے فکرہیں ، اگر ان کی طرف سے باہمی اشتراک و تقسیم کار کے تحت جدو جہد ہوگی تو مفید و دیرپا اثرات ملک و ملت کی سطح پر مرتب ہوں گے ۔ بھارت کے مخصوص تناظر میں ذہنی و عملی طور سے طریق کار میں معمولی تبدیلی اور ترجیحات کو مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے ، اصلا ً اسلام اور اس کے داعیوں کا جہاں آمدو ظہور ہوا تھا ، وہاں کا پس منظر اور مسائل و احکام کے بیانیہ کی اصطلاحات قدرے مختلف رہی ہیں ، ضرورت ہے کہ ان کو ضرورت کے وقت برائے افہام و تفہیم بھارت کے ماحول کی زبان و اصطلاح میں پیش کر دیا جائے ، تو بہتر تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے، توحید اپنی جگہ باقی رہے ، اسے صرف ضرورتاً برائے تفہیم ایک ایشور وادکی اصطلاح استعمال کرنا ہے ۔ وحدت الوجود کو ادویت واد کی شکل میں سمجھنانا ہے ۔ اس سے شناخت اور تشخص کا کوئی بحران و مسئلہ پیدا نہیں ہوگا، اس سلسلے میں ماضی میں بسا اوقات اور مختلف مواقع پر ہمارے اکابر اور معتبر حضرات صوفیاءکرام نے ایسا کچھ کیا بھی ہے ، اپنی اصل کو باقی رکھتے ہوئے محض مزید توسع سے وجود اور شناخت و تشخص پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ یہ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ہندوتو اور ہندستان و ہندستانیت ہم معنی نہیں ہے ہندو تو ایک محدود و مخصوص دائرہ ہے جس میں ایک مخصوص کمیونٹی آتی ہے جب کہ ہندستانیت ایک وسیع دائرہ ہے جس میں ملک کے تمام مذاہب والے اور مختلف طرز ہائے حیات کے حامل تمام باشندے آجاتے ہیں ، ان سب کا ہندستان کو بنانے اور اس کی نقشہ گری میں اپنی حیثیت و استطاعت کے مطابق اہم رول ہے ۔ یہ مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والی مشترک شخصیات کے فکرو عمل کے مطالعے سے بہت واضح شکل میں ہمارے سامنے آجاتا ہے ۔ عظیم شخصیات کو معبود کا درجہ دے کر پوجنے کے بجائے ان کے بہتر فکرو کردار سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سب میں عوام سے وابستگی کے ساتھ بھارت، الگ الگ رنگ میں نظر آتا ہے ۔ یہ دیکھتے ہوئے پورے بھارت کے باشندوں کے لیے یکساں معاشرتی و سماجی قانون بنانے کی بات سراسر بے دانشی اور بھارت کے تئیں نا فہمی کی علامت ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے سمجھنے کے لیے زیادہ دماغ سوزی کی ضرور ت نہیں ہے ۔ سنگھ کے سب سے با اثر اور نظریہ ساز دوسرے سر سنچالک گرو گولولکر تک تسلیم کر تے ہیں کہ قدر ت کو ہر معاملے میں پوری طرح یکسانیت پسند نہیں ہے ۔ اسی کے پیش نظر انھوں نے یونی فارم سول کوڈ کی تجویز کو مستر کر دیا تھا۔(دیکھیں گرو گولولکر سے ،کے آر ملکانی کا لیا گیا انٹرویو، مدر لینڈ بابت 23اگست 1972)گروجی کا یہ انٹرویو اب ان کی کلیات جلد9میں شامل کر لیا گیا ہے (دیکھیں اس کا صفحہ 185تا 188مطبوعہ سرو چی پرکاشن ، اشاعت اوّل)
گرو گولولکر نے اپنے انٹر ویو میں یہ بھی کہا ہے کہ بھارت ہمیشہ سے تنوع کا ملک رہا ہے اس کے باوجود ہم ایک متحد قوم بنے رہے ہیں ، اتحاد کے لیے ہم آہنگی کی ضرورت ہے نہ کہ یکسانیت کی ، ہمارا تجربہ یہ ہے کہ تنوع اور اتحاد دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ،( تفصیلی مباحث و حوالے کے لیے دیکھیں راقم سطور کی کتاب ، ہندوتو ، اہداف و مسائل)اس تناظر میں یہ سمجھنے اور دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ضرورت سے زیادہ غیر فطری یکسانیت سے بھارت کی شناخت اور وجود معرض خطر میں آجائے گا، چاہے مختلف چیز یں ہوں یا افراد و قبائل ، سب کی شناخت و تشخص تنوعات پر قائم ہے ۔ زبردستی کی یکسانیت سے جہاں شہریوں کی آزادی ختم ہوجاتی ہے ،وہیں تکثیری معاشرے کا وجود بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ۔ راشٹر واد کی تشکیل اس کے عوام سے اور اہل وطن سے ہوتی ہے نہ کہ صرف جغرافیائی حدود کی زمین سے ، اس کے لیے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، مختلف مذاہب و فرقے والے ملک کی ایک بڑی ضرورت اور قدرتی نظام کا تقاضا ہے ، فرقہ وارانہ جارحیت و نفرت کے ماحول میں کسی بھی مہذب و پر امن ترقی یافتہ سماج کی تشکیل نہیں ہوسکتی ہے ۔ اس لیے فرقہ پرستی کی دھند میں بھارت کو جانے سے بچانا تمام ہندستانیوں کی ذمے داری ہے ۔