بھارت کا تعلیمی نظام اور اخلاق کی تعلیم -سید تنویر احمد

ڈائریکٹر مرکزی تعلیمی بورڈ، جماعت اسلامی ہنددہلی

Mobile: 9844158731

بھارت میں تعلیم کی تاریخ ویدوں کے دور سے شروع ہوتی ہے جسے 4000 ق م قدیم قرار دیا جاتاہے۔ قدیم دور میں بودھ کے ماننے والوں نے تعلیم کے میدان میں خوب کام کیا تھا ۔ بودھ مذہب کے علما کی رہائش گاہوں کو ’ وہار ‘ کہا جاتا تھا۔ ہر ’ وہار ‘ تعلیمی مرکز بھی ہوا کرتا تھا۔ تعلیم کے حوالے سے برہمنوں اور بدھسٹوں میں زبردست رسہ کشی رہی۔ برہمن واد علم کو برہمن کی میراث قرار دیتا ہے ۔ برہمن علم کی عمومیت کو طبقاتی نظام پر ضرب تصور کرتے تھے جبکہ بودھ علم کو عوام تک پہنچانے میں مسرت محسوس کرتے تھے۔ قدیم ہندوستان کی یونیورسٹی نالندہ ، بودھ مذہب کے پیروکاروں نے قائم کی تھی جو طبقاتی نظام اور برہمن واد کے خلاف تعلیم دیتی تھی ۔چاہے بدھسٹوں کی تعلیم گاہیں ہوں یا برہمنوں کے آشرم دونوں مراکز میں مذہب اور روحانیت کی تعلیم کو مرکزیت حاصل تھی۔ مغلیہ دور میں بھی بنیادی اہمیت مذہبی تعلیم ہی کو حاصل تھی تاہم دیگر مضامین جن میں طب اور دیگر ہنر شامل ہیں، وہ بھی پڑھائے اور سکھائے جانے لگے تھے۔ مغلیہ دور میں مذہب کے علاوہ افراد کو دربار کے کام ، نظم و نسق سنبھالنے ، ٹیکس (لگان ) کی وصولی، طب اور عدلیہ کا نظام چلانے کے لیے افراد کی ضرورت ہوتی تھی۔ چنانچہ اسی مانگ کے تحت تعلیم کا انتظام تھا ۔ مکاتب کا جال مغلوں کے دور میں بڑا وسیع تھا۔ مکاتب ، مدارس اور ہندو دھرم کے آشرموں کے لئے حکومت کی جانب سے گرانٹ دی جاتی تھی۔ غیر مغلیہ علاقوں میں بھی اسی طرح کا نظام تھا۔
انگریزوں نے اصلاحات کے نام پر جن شعبوں یں تبدیلیاں کیں ان میں تعلیم کا شعبہ بھی تھا۔ انگریزی کا فروغ تعلیم کے شعبہ میں ان کی اولین ترجیح تھی۔ شعبہ تعلیم کا جائزہ لینے اور ان میں اصلاحات تجویز کرنے کے لئے ’میکاولے کمیٹی ‘ تشکیل دی گئی۔ ٹی بی میکاولے نے اپنی رپورٹ 2 فروری 1835 میں پیش کی۔ اس رپورٹ میں جن تجاویز کو پیش کیا گیا تھا انہیں اسی سال قانونی حیثیت دی گئی اور انگلش ایجوکیشن ایکٹ 1835 منظور کیا گیا۔ اس قانون کی رو سے عربی ، فارسی اور سنسکرت کے مقابل انگریزی کو فوقیت دی جانے لگی۔ مدارس کی سرکاری امداد کم کردی گئی۔ مذہب کی تعلیم سے انگریزی حکومت نے ہاتھ اٹھا لیا ۔ ملک آزاد ہوا لیکن آج بھی میکاولے ماڈل ہی کے اثرات باقی ہیں۔ ویسے آزادی کے بعد ہی سے ملک کی تعلیمی پالیسی کو میکاولے کے اثرات سے آزاد کرنے کے لئے سنجیدہ اور غیر سنجیدہ کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ چونکہ میکاولے کا تعلیمی نظام دنیا کے بڑے حصہ میں قبولیت رکھتا تھا اور خود ملک کے نظام کو چلانے کے لئے درکار افراد اسی نظام سے تیار کیے جاسکتے تھے اس لئے میکاولے نظام میں جوہری تبدیلیوں کے بجائے اس نظام میں اخلاقیات کو شامل کرنے کی گفتگو کا آغاز ہوا۔ آزادی کے بعد بھارت دستوری اعتبار سے جمہوری ملک قرار پایا۔ تمام مذاہب کا احترام، مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ کی اجازت کو دستوری حق میں شامل کیا گیا ۔ دستور میں لفظ سیکولرزم ، دستور کی 42 ویں ترمیم کے ذریعہ 1976 میں شامل کیا گیا لہٰذا 1976 کے بعد ملک کے نظامِ تعلیم میں مذہب کی تعلیم کی گنجائش باقی نہیں رہی، البتہ مذاہب کا تعارف، مذاہب کی تاریخ و مذہبی رہنمائوں کے بارے میں معلومات کو نصاب تعلیم میں شامل کیا جاتا رہا۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی شمولیت غیر مناسب انداز میں ہوا کرتی ہے اور بعض سرکاری کتابوں میں دروغ بیانی کی جاتی ہے تو بعض اسباق میں مذاہب بالخصوص اسلام اور مسلم کلچر کی مسخ شدہ تصویر پیش کی جاتی رہی ہے۔
ملک کی آزادی کے بعد شعبہ صحافت ، شعبہ تعلیم اور پالیسی ساز اداروں میں کمیونسٹ نظریات کے حاملین کے اثرات رہے یا پھر ہندوتو وادیوں کے اثرات۔ اس وقت کی برسراقتدار کانگریس پارٹی کا کوئی واضح اور مضبوط نظریہ نہیں تھا، اس لئے دونوں نظریات کے افراد اپنی لیاقت اور سیاسی وزن اور تعلقات کی بنیاد پر نفوذ اختیار کرلیتے تھے۔ ویسے آزادی کے بعد بھارت کا کچھ زیادہ جھکائو کمیونسٹ بلاک کی طرف ہوگیا تھا اس لئے بڑی تعداد میں بھارتی اذہان ماسکو کا سفر کرتے تھے۔ ایک جانب آر ایس ایس کا نفوذ تعلیمی اداروں میں جاری رہا تو دوسری جانب بائیں بازو کی طلبا تنظیمیں ، پروفیسر اور ریسرچ اسکالر تعلیمی اداروں میں محسوس اثرات ڈالنے لگے۔ چنانچہ آج بھی دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی سمیت کئی مرکزی یونیورسٹیوں میں سرخ کلچر زعفرانی کلچر سے نبرد آزما ہے۔ شعبہ تعلیم میں ایک عرصہ تک سیکولر اور کمیونسٹ نظریات کے حاملین کی اچھی خاصی تعداد رہی اور حکومت کا تعاون بھی انہیں حاصل رہا ۔ اس لئے ملک کی تعلیمی پالیسی، نصاب اور نصابی کتابوں کا رنگ زعفرانی ہونے سے بچ گیا۔ تاہم ادھر سات برسوں کے درمیان زعفرانی رنگ کا غلبہ ہندوستانی تعلیمی نظام ، کتابوں اور نصابوں پر واضح نظر آرہا ہے۔ گذشتہ سال منظور کی گئی قومی تعلیمی پالیسی اس کا ایک ثبوت ہے ۔ حالانکہ اس میں زعفرانی رنگ کی ملاوٹ ایک دو پیرا گراف میں بہت واضح ہے اور کئی مقامات پر بہت ہی پروفیشنل انداز میں کی گئی ہے ، اسے بین سطور میں پڑھا جاسکتا ہے۔
حکومت نے نصاب اور نصابی کتب کی تدوین کے لئے ابھی تک پانچ نیشنل کریکولم فریم ورک (NCF) بنائے ہیں۔یہ فریم ورک محکمہ تعلیم کاایک اہم ادارہ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ(NCERT) ترتیب دیتا ہے۔ اس فریم ورک کے حدود میں رہتے ہوئے درسی کتابیں ترتیب دی جاتی ہیں۔چاہے کتابیں مرکزی حکومت کی ہوں یا ریاستی حکومتوں کی۔ یہ فریم 2005 میں ترتیب دیا گیا تھا۔ اس فریم ورک کے تحت ایک اہم حصہ اخلاقی تعلیم کا بھی ہے۔ این سی ای آر ٹی کی ویب سائٹ پر یہ موجود ہے۔تعلیمی نظام میں اخلاقی تعلیم کی وکالت کرنے والوں اور اس کا مطالبہ کرنے والوں کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے ۔ اخلاقی تعلیم کے اس فریم ورک کے رہنما خطوط ترتیب دینے والوں کی ٹیم میں حالانکہ کوئی مسلم نمائندہ شامل نہیں تھا تاہم اس میں بیان کیے گئے نکات بڑی حد تک اصولی، غیر جانبدار اور آفاقی اخلاقی اصولوں کی حمایت کرتے ہیں۔ بارھویں جماعت تک طلباء کو اخلاق کی تعلیم کیسے دی جائے؟ 93 صفحات پر مشتمل یہ دستاویز اسے بڑے واضح انداز میں پیش کرتی ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ سال منظور کی گئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں این سی ایف 2005 کا صرف سرسری ذکر ملتا ہے۔ ایسا اس لئے بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خطوط (فریم ورک) اخلاق اور اخلاقیات کی بات تو کرتے ہیں لیکن وہ اخلاق اور اخلاقیات نہیں جو ہندوتو کے نظریہ سے جنم لیتے ہیں۔ 2005 کا فریم ورک کہتا ہے کہ بھرت کے تعلیمی نظام میں اخلاقی تعلیم کو آفاقی اصولوں سے آراستہ کرنا چاہئے اور طلباء کو ان اخلاق کی تعلیم دی جانی چاہئے جو ملک کے دستور سے نکلتے ہوں۔ ان میں شہریوں کے حقوق و فرائض اہم ہیں۔ جبکہ نئی تعلیمی پالیسی میں شہریوں کے فرائض کی تعلیم دینے کی بات تحریر کی گئی ہے اور حقوق سے طلباء کو آشنا کرانے کا ذکر نہیں ہے۔ یہ بات بڑی اہم اور تشویش ناک ہے ۔کسی بھی ملک کی آبادی کو اگر ان کے فرائض پڑھائے جاتے ہیں اور انہیں بس انہی کی پابندی کرنے پر مجبور کیاجاتاہے تو وہ ملک مطلق العنانی کی طرف بڑھتا ہے۔ وہاں کے عوام شہری نہیں بلکہ غلام بن جاتے ہیں۔ اگر طلباء کو ان کے فرائض اور حقوق دونوں سے آشنا کرایا جاتا ہے تو پھر جمہوریت پروان چڑھتی ہے۔ حکومت کی مانی بھی جاتی ہے اور اس سے سوال بھی کیے جاتے ہیں۔ حکومت سے سوال کرنا اخلاقی جرأت ہے اور یہ ہمت مناسب اخلاقی تعلیم ہی سے ممکن ہے۔