بھارت اور خارجہ امور کی حکمتِ عملی-شیوشنکر مینن

(شیو شنکر مینن سرکاری سفارت کاری میں ممتاز شخصیت ہیں۔ وہ قومی سلامتی، ایٹمی توانائی، تخفیفِ اسلحہ حکمت عملی اور ہمسایہ ملکوں اور بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۴ء تک مشیر برائے قومی سلامتی رہ چکے ہیں، فی الوقت نئی دہلی کے انسٹی ٹیوٹ آف چائنیز اسٹڈیز کے مشاورتی بورڈ کے سربراہ ہیں۔)

ترجمہ:منصور احمد
بھارت کے لیے یہ دنیا بتدریج خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ یہ دنیا ایک طرف شکست و ریخت میں مبتلا ہے تو دوسری طرف اقتصادی طور پر سست روی کا شکار۔ درحقیقت دنیا تبدیلی کے عمل سے گذر رہی ہے۔ بھارت کی حریف طاقتیں (خواہ ریاستی ہوں یا غیر ریاستی، یا دونوں، جیسا کہ پاکستان کے معاملے میں ہے) پہلے سے زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک طرف بیرونی دنیا ناقابلِ پیش گوئی اور غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے، تو دوسری طرف بیشتر طاقتوں کی بھی اندرونی سیاست اور سیکورٹی ان مسائل سے دو چار ہے۔ یہ ایسے چیلنج ہیں جن سے نمٹنے، انہیں کم یا حل کرنے کی استعداد روایتی اداروں میں پائی جاتی ہے نہ ریاست کی ساخت میں۔
محرّکات اور اہداف: جغرافیہ، تاریخ اور وسائل
کسی حکمتِ عملی کا ایک مقصد، ایک ہدف ہوتا ہے۔ آزادی کے موقع پر بھارت کا مقصد واضح تھا اور یہ مقصد کچھ عرصے کے لیے برقرار رہا۔ وہ مقصد یہ تھا کہ بھارت کو مضبوط، خوشحال اور جدید ملک بنایا جائے۔ بھارت تقسیم کے مرحلے سے گذرنے کے بعد بحالی کی راہ پر تھا، تب اس کے باشندوں کی اوسط عمر ۳۲ سال تھی، شرح خواندگی ۳۲ء۱۸ فیصد (خواتین میں ۸۶ء۸ فیصد) تھی، ۱۹۰۰ء سے تب تک اس کی فی کس معاشی نمو ایک فیصد سے بھی کم رہی تھی، چنانچہ یہ قدرتی امر تھاکہ بھارت کی قلبِ ماہیت (transforming) تبدیل کرنے کے ہدف کو بقیہ ممکنہ تمام اہداف پر ترجیح دی گئی، جن میں الگ ہو جانے والے علاقوں کی بازیابی، ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بندوبست، وغیرہ جیسے اہداف شامل تھے۔ یہ تمام اہداف ایک مقصد تک پہنچنے کا صرف ذریعہ تھے، اور ان کے لیے تگ و دو صرف اس لیے کی جانی تھی کہ وہ بھارت کو تبدیل کرنے میں مدد دیتے تھے۔
سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو بھارت کی خارجہ پالیسی کا کام یہ ہے کہ بھارت کی سلامتی، شہریوں، اقدار اور اثاثوں کی حفاظت کی جائے اور انہیں محفوظ بنایا جائے اور بھارت کو ایک ایسا جدید ملک بنانے کے لیے حالات سازگار کیے جائیں جہاں کا ہر مرد اور ہر عورت اپنی تمام صلاحیتوں کو استعمال میں لا سکے۔خارجہ پالیسی کے پیشہ ور افراد کا کام یہ ہے کہ بھارت کی قلبِ ماہیت کو ممکن بنائیں اور اس کے لیے حالات سازگار کریں۔
بھارت میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ہدف خاصا دفاعی قسم کا ہے اور بھارت کو عظیم طاقت یا سپر پاور بننے کی خواہش کا کھل کر اعلان کر دینا چاہیے۔ بات یہ ہے کہ جب بھارت مضبوط، خوشحال، اور جدید بن جائے گاتو خودبخود ایک عظیم طاقت بن جائے گا۔ویسے بھی اس ملک کے ایک عظیم طاقت بننے کا کیا فائدہ جہاں مفلوک الحال لوگ رہتے ہوں۔ اگرچہ آزادی کے بعد سے بھارت نے بہت کچھ حاصل کیا ہے تاہم اس کو ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔
جدید اور خوشحال ملک بنانے کی جدوجہد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بھارت اپنی سرحدوں میں سمٹ کر رہ جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ساتھ اس کے فعال تعلقات ہوں۔ اس جدوجہد میں ایسے تصورات کی کوئی جگہ نہیں جیسے جمہوریت کی برآمد، بھارت کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت، عالمی سطح کی اشیا کی تیاری، رتبے کا حصول، انتقام لینا، تقسیمِ ہند کو غیر مؤثر کرنا، اور اسی طرح کے دیگر تصورات، ماسوائے اس کے کہ یہ تصورات بھارتی شہریوں اور اثاثوں کی سلامتی میں معاون ہوں اور بھارت کی ترقی اور قلب ماہیت میں مددگار ہوں۔
چنانچہ بھارت کا ہدف ’کافی سلامتی‘ کا حصول ہے نہ کہ ’مطلق سلامتی‘ (absolute security) کا۔ آخر کیوں؟ وہ اس لیے کہ کسی نظام میں کسی ایک ریاست کی مطلق سلامتی کے معنیٰ دیگر تمام ریاستوں کی عدم سلامتی ہوں گے۔ اس کسوٹی سے پرکھا جائے تو بھارت کی قیادت (ماسوائے چند مستثنیات کے) ملک کو کافی سلامتی فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے، جس کے سبب وہ اس قابل ہوا کہ اپنی طویل تاریخ کے مقابلے میں آزادی کے بعد اس کی تبدیلی اور اس کی ترقی تیز تر رہی۔
یہ بھی واضح ہے کہ بھارت یہ سب کچھ تنہا نہیں کر سکتا تھا، یعنی صرف اپنے وسائل، سرمائے، ٹیکنالوجی اور اپنے لوگوں کے بل پر۔ اس کے لیے اسے بقیہ دنیا کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑا۔ دنیا کے ساتھ تعلقات تو رکھنا ہی تھے، سوال صرف یہ تھا کہ کس قیمت پر۔ اس سوال کا جواب متعین کرنے میں بھارتی پالیسی کے محرکات بروئے کار آئے، یعنی بھارت کا جغرافیہ، تاریخ، اور وسائل۔ ان عوامل نے بھارت کو ایک تجارتی اور مصنوعات ساز ملک بنادیا۔ یہ ملک اسی عرصے میں زیادہ خوشحال اور کامیاب رہا ہے جب یہ دنیا کے ساتھ زیادہ مربوط رہا ہے۔
جغرافیے کے لحاظ سے بھارت تین اطراف سے کھلا ہے، جس طرف سمندر ہے اس طرف سے بھارت بڑی حد تک بے خبر رہا ہے، جس کی ذمہ دار برطانوی شہنشاہیت ہے۔ رائل نیوی کو لندن سے کنٹرول کیا جاتا تھا جس کے استعماری مقاصد تھے، جبکہ زمینی سرحدوں کی ذمہ داری بھارت کی برطانوی حکومت پر تھی جو پہلے کلکتہ اور بعد میں دہلی سے چلائی جاتی رہی۔برطانوی آقاؤں نے بھارت کی تاریخ کا جو پہلو ہمیں پڑھایا وہ یہ تھا کہ بیرونی حملہ آوروں نے یہاں پے درپے سلطنتیں قائم کیں۔ ایسی تعلیم دینے کا مقصد یہ تھا کہ برطانوی اپنے اقتدارکو جواز بخشنا چاہتے تھے، اور بھارت کی تاریخ کو مذہب کے لحاظ سے مدت وار تقسیم کرنا چاہتے تھے تاکہ ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کے اصول پر بھارت میں عمل کرتے رہیں۔برطانوی نوعیت کی تاریخ برِصغیر کی بطور ایک کُل کی تاریخ کے بجائے صرف گنگا اور سندھ وادیوں کے ایک حصے کی تاریخ ہے، حالانکہ برِصغیر ماضی میں ایک حقیقی جغرافیائی و سیاسی اکائی رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض بھارتیوں نے اس برطانوی کہانی کو من و عن تسلیم کر لیا ہے اور وہ بیرونی حملہ آوروں کی ہزار سالہ حکمرانی کی بات کرتے ہیں۔ اس کہانی میں حقائق اور اُن مرکزی علاقوں کی طویل تاریخ کو نظرانداز کیا گیا ہے، جو دنیا کے ساتھ مربوط و متعلق تھے جیسے وادی سندھ، گجرات، مالابار، جنوب مشرقی ساحلی علاقے (Coromandel coasts)، اور اڑیسہ بنگال۔ ان ہی علاقوں کی بدولت بھارت ماضی کے بیشتر عرصے کے دوران دنیا کے لیے مصنوعات سازی کا سب سے بڑا مرکز بنا رہا اور اس کے ساتھ ساتھ فوجوں کو افرادی قوت اور ٹیکنالوجی بھی فراہم کرتا رہا۔ جب محمود غزنوی نے سمرقند اور بخارا پر قبضہ کیا تو اس کی فوج کے نصف سپاہی بھارت کے تھے، اور محمود کے پاس جو ۵۰۰ جنگی ہاتھی تھے جنہوں نے اس فتح کو ممکن بنایا وہ بھی بھارت ہی کے تھے۔ چولا خاندان بھارت کا اب تک کا کامیاب ترین حکمراں خاندان تھا، جس کا زمانہ ۱۳ صدیوں پر پھیلا ہوا تھا، اور اس کی ایک جزوی وجہ یہ تھی کہ اس کے بین الاقوامی تعلقات اور اثرات تھے۔ جب جب بھارت دنیا کے ساتھ زیادہ مربوط رہا، اس نے بہترین کام کرکے دکھائے۔
تاریخ کے طویل دورانیے میں بھارت کی آبادی زیادہ اور وسائل کم رہے ہیں۔ آج بھارت کی تقریباً ۸۰ فیصد درآمدات ایسی ہیں جو زندگی کو رواں دوراں رکھنے کے لیے لازمی حیثیت رکھتی ہیں جیسے توانائی، خام تیل، کھاد، دھاتیں ما سوا لوہا، اور مونگ جیسی دالیں۔ ماضی میں بھارت اچھوتے خیالات اور افراد کو برآمد کرتا رہا ہے۔ اس نے بحرِ ہند کے علاقے میں اور بھارت کی مغربی سرحدوں کے پار علم اور سلامتی فراہم کی۔
اصلاحات کے نتیجے میں آج بھارت کی جی ڈی پی کا نصف بیرونی شعبے کی بنا پر حاصل ہوتا ہے، جس میں اشیا اور خدمات کی درآمد اور برآمد شامل ہے۔ ملک نے ۱۹۹۱ء میں جب بنیادی اصلاحات پر عمل شروع کیا اور دنیا کے لیے دروازے کھولے تو اشیا کی درآمد اور برآمد یعنی بیرونی تجارت ملکی جی ڈی پی کے تقریباً ۳ء۱۵ فیصد کے برابر تھی اور بیشتر تجارت مغرب کے ساتھ تھی۔ ۲۰۱۴ء تک جی ڈی پی میں اس کا تناسب ۳ء۴۹ فیصد ہوگیا اور بیشتر کا رُخ مشرق کی طرف تھا (اس کے بعد سے یہ تناسب گر گیا کیونکہ بھارت کی بیرونی تجارت سکڑ گئی)۔اس تجارت میں خدمات کا شعبہ شامل کرنے سے بھارت کی جی ڈی پی کا نصف سے زائد بیرونی دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات پر منحصر ہوتا ہے۔ بھارت اپنے مفادات کی جو تشریح کرتا تھا اس میں تبدیلی اور وسعت آئی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں آمدورفت کی سہولت بھارت کے لیے مفید ہو چکی ہے کیونکہ ایک وقت بھارت کی ۵۵ فیصد تجارت اسی سمندر کے راستے مشرق کو جاتی تھی۔اسی زمانے میں ۱۹۹۶ء میں چین نے اسٹریٹجک اور تجارتی وجوہات سے اقوامِ متحدہ کو مطلع کیا تھا کہ بحیرہ جنوبی چین میں ’نائن ڈیش لائن‘ اس کی سرحد ہے اور ۲۰۰۸ء کے بعد اس نے اسے اپنا ’’بنیادی مفاد‘‘ (core interest) قرار دے دیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، یہ تبدیلیاں عین اسی وقت رونما ہوئیں جب دونوں ممالک میں ترقی ہوئی، بھارت کے مفادات پروان چڑھے، اور بھارت اور چین اس مشترکہ علاقے میں ایک دوسرے کے مقابل آنے لگے۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ چونکہ بھارت ترقی کر چکا ہے اس لیے اس کے مفادات بھی بڑھ چکے ہیں، وہ ماضی کے کسی بھی دور کی نسبت آج دنیا کے ساتھ زیادہ مربوط یا اس پر انحصار رکھتا ہے، اور اسی لیے اپنی ضروریات کے حوالے سے اس کی تشریح میں وسعت آچکی ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ بھارت کی سوچ اور اس کی حکمتِ عملی میں مطابقت آئے۔
ٹیکنالوجی اور بدلتی ہوئی صورتِ حال کے نتیجے میں بھی بھارت کی دلچسپیوں میں تبدیلی آئی ہے، جس کی بہترین مثال ہمالیہ پہاڑ ہیں۔ ماضی کے بیشتر عرصے میں بھارت کی چین کے ساتھ کوئی سرحد نہیں تھی، صرف تبت کے ساتھ تھی، اور وہ ہمالیہ پہاڑوں کو ناقابلِ عبور دفاعی رکاوٹ سمجھتا تھا جو اُس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ آج جبکہ چینی تبت میں ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے بَل پر ہمالیہ ناقابلِ عبور رکاوٹ یا دفاعی دیوار نہیں رہا، اور یہ ضروری ہے کہ بھارت کو یہ دیکھنے اور جاننے کی قدرت حاصل ہو کہ پہاڑوں کے دوسری طرف تبت میں کیا ہو رہا ہے۔ اس مثال میں بھارت کے مفاد کے بارے میں بھارت کی اپنی تشریح خاصی وسیع ہو چکی ہے۔ کچھ لوگ جیسا کہ کرزن کہا کرتا تھا، کہ بھارت کے مفادات سوئز سے ملاکا تک ہیں۔ تاہم آج بھارت کے بڑے تجارتی شریک ممالک اس علاقے سے باہر واقع ہیں جس میں بھارت کی نان آئل ٹریڈ کا ۱۵ فیصد سے بھی کم حصہ ہے۔ چنانچہ جس علاقے میں بھارت کے بنیادی معاشی مفادات ہیں وہ اس کی جغرافیائی و سیاسی دسترس سے بہت وسیع ہے۔ بین الاقوامی عوامل سے بھارت کی بھلائی اُس سطح سے زیادہ متاثر ہوتی ہے جتنی سطح بھارت کی سوچ میں جھلکتی ہے۔
ان حقائق سے چند اہم سبق حاصل ہوتے ہیں۔ بھارت کی تاریخ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارت اُسی دور میں زیادہ خوشحال اور کامیاب رہا ہے جب وہ دنیا کے ساتھ زیادہ تعلقات رکھتا تھا۔ بھارت کے وسائل، جائے وقوع اور مقاصد کا تقاضا ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ مربوط ہو۔ اگر بھارت کو تبدیل ہونا ہے تو اسے الگ تھلگ نہیں رہنا ہوگا۔ جب اس نے مطلق العنان ترقی کرنے کی کوشش کی تو وہ ناکام رہا۔ گذشتہ سات عشروں کے دوران ہونے والی اقتصادی ترقی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ بھارت کی کارکردگی اس وقت بہترین رہی جب اس نے دنیا کے لیے اپنے دروازے کھولے، یعنی ۱۹۹۱ء کے بعد۔
اقتصادی ترقی کے لحاظ سے بھارت کی کارکردگی اُس دور میں بہترین رہی جس دور میں عالمگیریت زوروں پر تھی یعنی ۱۹۹۰ء اور ۲۰۰۰ء کے عشروں میں، کیونکہ یہی وہ زمانہ تھا جب بھارت نے اپنی معیشت کے دروازے دنیا کے لیے کھولے تھے۔ عالمگیریت کے ان عشروں سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے بھارت اور چین تھے۔ بعد ازاں ۲۰۰۸ء کے عالمی مالی بحران نے دونوں ممالک کی اور عالمی معیشت کی نمو کی رفتار سست کر دی۔
بھارت اور چین کی معاشی اصلاحات کے اہداف یکساں تھے تاہم یہ اصلاحات مختلف سماجی و سیاسی نظاموں کے تحت شروع کی گئیں۔ اس کے باوجود حالیہ عشروں میں اصلاحات کے نتائج میں خاصی مماثلت ہے۔ دونوں کی نمو کی رفتار متوازی رہی تاہم بھارت ۲۰۱۳ء تک چین سے تقریباً ۳ فیصد پیچھے رہا۔ ۲۰۱۳ء سے دونوں ملکوں کی جی ڈی پی کی شرحِ نمو تقریباً ۶ سے ۷ فیصد رہی۔ عالمی بینک کاکہنا ہے کہ ۲۰۱۴ء میں چین کی لگ بھگ ۶ء۷ فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی تھی جبکہ اُس وقت بھارت کی ۱۷فیصد آبادی کا یہی معیار زندگی تھا۔ ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۱ء تک چین اور بھارت نے مجموعی طور پر ۲۳۲ ملین افراد کو غربت سے نکالا، اس میں بھارت کا حصہ ۱۴۰ ملین تھا۔ آمدنی میں عدم مساوات دونوں ملکوں میں بڑھ رہی ہے، جس میں بھارت کافی آگے ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں زمین اور تعلیم کی تقسیم ناانصافی پرمبنی ہے۔ انسانی سرمائے کی ناقص ترقی کا مطلب یہ ہے کہ گذشتہ ساڑھے تین عشروں کے دوران ہونے والی تیز رفتار معاشی ترقی سے محض مٹھی بھر بھارتیوں کو فائدہ پہنچا ہے، جس نے عدم مساوات کو بڑھایا ہے۔ بھارت اور چین دونوں ماحولیاتی تباہی کی لاگت بھی ادا کررہے ہیں، جس کا تخمینہ عالمی بینک کے مطابق چین کی جی ڈی پی کا ۹ فیصد اور بھارت کا ۷ء۵ فیصد ہے، جو معاشی ترقی کے فوائد کو نگل رہا ہے اور غریب طبقے کو غیر متناسب انداز میں متاثرکر رہا ہے۔
چنانچہ بھارت اور چین کے درمیان پیدا ہونے والا فرق آج سماجی اظہاریوں میں سب سے وسیع ہے۔ بیشتر سماجی اظہاریوں میں چین تقریباً تین عشرے آگے ہے، آمدنی کے اظہاریوں میں وہ ایک عشرہ آگے ہے، جبکہ ڈجیٹل ترقی کے اعتبار سے دونوں ممالک برابر ہیں۔ صحتِ عامہ میں پایا جانے والا فرق جسے متوقع عمر سے ناپتے ہیں، خواندگی کے برابر ہے۔ ۲۰۱۵ء میں صورت حال یہ تھی کہ بھارت میں شرحِ خواندگی ۲۳ء۷۲ فیصد تھی اور چین میں ۳۶ء۹۳ فیصد۔ متوقع عمر کے معاملے میں بھارت برازیل سے ۱۹سال پیچھے ہے اور چین سے ۳۰ سال۔ پس، ثابت ہوا کہ گذشتہ ساڑھے تین عشروں کے دوران ہونے والی تیز رفتار معاشی ترقی سے محض مٹھی بھر بھارتیوں کو فائدہ پہنچا ہے، جس نے عدم مساوات کو بڑھایا ہے۔
حکمتِ عملی: پوری دنیا پر ایک نظر
حکمتِ عملی ایک لائحہ عمل کو کہتے ہیں، جسے طویل مدتی یا مجموعی مقاصد کے حصول کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ موجودہ صورتِ حال میں دستیاب ذرائع و وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اہداف کو پورا کرنے کا منصوبہ ہوتا ہے۔ اس میں امکانات اور محدودات دونوں کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔ اہداف کا تعین کرنا ایک سیاسی اقدام ہے، جسے کوئی ریاست، معاشرہ یا قوم سیاسی اور سماجی میکانزم کے ذریعے عمل میں لاتی ہے۔
خارجہ پالیسی کس قسم کی ہوگی؟ اس کا انحصار محض اہداف پر نہیں بلکہ دستیاب ذرائع پر اور درپیش صورتِ حال پر بھی ہوتا ہے۔ ایک کامیاب حکمتِ عملی کے لیے تینوں کو پیشِ نظر رکھنا ہوتا ہے: مقاصد، ذرائع اور حالات۔ جب یہ بدلتے ہیں، خاص طور پر حالات اور ذرائع، تو حکمتِ عملی میں بھی تبدیلی کی ضرورت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک تعاملی (reactive) حکمتِ عملی میں خطرات اور صورتِ حال کا اُس وقت جواب دیا جاتا ہے جب وہ شدید ہو جائیں یا ضرب لگا جائیں۔ یہ اُن چھوٹی اور کمزور اقوام کا دستور ہوتا ہے جن میں استعداد اور بصیرت کا فقدان ہو۔ اس کے مقابلے میں پیش قدمی والی (proactive) حکمتِ عملی بصیرت اور کچھ طاقت رکھنے والی قوموں کا طریقہ ہوتی ہے، جوحالات کی صورت گری کرنے میں ان کی معاون ہوتی ہے۔
تاریخ میں جتنی بھی اقوام نے عروج حاصل کیا ہے انہوں نے اپنی طاقت بڑھانے کے دوران سر کو جھکا کر رکھنے کا راستہ اپنایا، انہوں نے اپنے عروج کی راہ میں آنے والی مزاحم قوتوں کو کبھی دعوت نہیں دی، کبھی اپنی طاقت کا اور اس کے استعمال کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ جن اقوام نے اپنے منصوبوں اور اپنی بڑھتی ہوئی طاقت کا عجلت میں اعلان کیا، جیسے ۱۹۳۰ء کے عشرے میں جرمنی اور جاپان نے، وہ اپنے عروج سے پہلے مسائل میں گھِر گئے اور اس کی بھاری قیمت انہیں چکانی پڑی۔ سوویت یونین، جاپان، جرمنی، اور پاکستان تمام بیسویں صدی کی اس امر کی مثالیں ہیں کہ اُن طاقتوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے جو اپنے بلندوبالا عزائم کا کھل کر اعلان کر دیتی ہیں۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ کیا چین اکیسویں صدی میں ایسی ہی ایک مثال بنے گا۔
اس سے قطع نظر کہ عروج پذیر قوم کتنی طاقتور ہے، اس کو ایک نظامِ مراتب (hierarchy) بنانے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے تحت وہ دوسری اقوام و ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ کوئی ریاست ہر وہ چیز جس کی اسے خواہش ہو، بیک وقت اور اپنے بل بوتے پر حاصل نہیں کر سکتی۔ بھارت کے پیشِ نظر اقدامات کو اس بنیاد پر ترتیب دیا جانا چاہیے کہ صورتِ حال اور اقدامات ملک کو تبدیل کرنے کی اُس کی اہلیت کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔ بھارت کی ماہیت قلب کے عمل کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والے اقدامات سب سے اہم ہیں۔
جس وقت بھارت آزادہوا تھا اُس وقت پوری دنیا جنگ عظیم دوم کے بعد نئے حالات سے دو چار تھی اور سرد جنگ دنیا کو دو بڑی طاقتوں کے مابین تقسیم کر رہی تھی۔ نو آزاد بھارت برطانوی راج کی حکمتِ عملی کو نہیں اپنا سکتا تھا جس کی تین وجوہات تھیں: تقسیم کے نتیجے میں بھارت کے مغرب میں پاکستان کی شکل میں ایک دشمن ریاست وجود میں آئی جس نے وسط اور مغربی ایشیا سے اس کا زمینی رابطہ منقطع کر دیا۔ چین نے جلد ہی تبت پر قبضہ کر لیا اور تاریخ میں پہلی بار بھارت کی چین کے ساتھ سرحد وجود میں آئی جس پر چینی فوجی موجود تھے۔ برطانوی شاہی بحریہ نے سمندروں کا جس طرح کنٹرول یقینی بنایا تھا بھارت کو اس طرح کنٹرول حاصل نہیں تھا۔افغانستان، تبت، میانمار (برما)، اور بحرِ ہند وہ بفر تھے جو ہم سے چھن گئے۔ بھارت پہلے دن سے جموں و کشمیر میں لڑائی پر مجبور ہوا۔ اسے آزادی کے پہلے ۲۳ سال میں چار بڑی جنگیں لڑنا پڑیں۔ چونکہ آزاد بھارت برطانوی راج کی حکمتِ عملی نہیں اپنا سکتا تھا (حیرت ہے کہ بعض لوگوں کی رائے میں اسی پر عمل کرنا چاہیے تھا!)، تو کون سی چیز بھارت کی حکمتِ عملی کو متعین کر سکتی تھی؟
بھارت نے آزادی کے بعد سے بین الاقوامی تعلقات میں تین مختلف ادوار کا سامنا کیا: دو قطبی سرد جنگ جو ۱۹۹۰ء تک جاری رہی، ۱۹۹۰ء سے یک قطبی دنیا جس پر امریکا کا تسلط تھا اور ۲۰۰۸ء کے عالمی اقتصادی بحران تک جاری رہا، اور تبدیلی کا موجودہ لمحہ۔ ان میں سے ہر دور میں بھارت نے غیر جانبداری کی حکمتِ عملی اپنائی تاکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طاقت کے حقائق کے ساتھ، تدبیر کے ساتھ مطابقت لائی جائے۔
آج ہم ایک نئی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال سے گزر رہے ہیں، جس کا بنیادی سبب چین، بھارت اور دیگر طاقتوں (انڈونیشیا، جنوبی کوریا، ایران، ویت نام) کا ایشیا، بحرالکاہل جیسے پُرہجوم خطّے میں ابھرنا ہے، جو کہ اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے دنیا کا نیا مرکزِ ثقل ہے۔ خطّے میں طاقت کے توازن میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہوئی،اور غیر یقینی بڑھی، اور اس غیر یقینی کیفیت کو امریکی صدر ٹرمپ کے ’’سب سے پہلے امریکا‘‘ کے رویّے نے بڑھاوا دیا۔ ان کا یہ رویہ ناقابلِ پیش گوئی اور الگ تھلگ ہونے کا تھا۔
طاقت کے توازن میں تبدیلی کا واضح ثبوت عالمی جی ڈی پی میں ملکوں کا تناسب ہے۔ بھارت اور چین ایشیا کی مجموعی جی ڈی پی میں ۲۰۱۴ء تک تقریباً نصف حصہ ڈالتے تھے۔ پی پی پی جی ڈی پی کے لحاظ سے یہ دونوں دنیاکے سب سے بڑے اور تیسرے بڑے ممالک تھے۔ ظاہر ہے، اس میں چین کا حصہ حاوی تھا۔ چین اشیا سازی اور تجارت میں سپر طاقت ہے، جو دنیا بھر میں اجناس کی منڈیوں کا رُخ اور قیمتیں متعین کرتا ہے اور حالیہ برسوں میں جی ڈی پی کی عالمی نمو میں اس کا حصہ تقریباً ۲۵ فیصد ہے۔ ۲۰۱۶ء میں عالمی جی ڈی پی میں چین اور بھارت کا مجموعی حصہ ۶۷ء۱۷ فیصد (نامیہ لحاظ سے) یا ۸۶ء۲۵ فیصد (پی پی پی لحاظ سے) تھا جو عالمی آبادی میں ان کے مشترکہ تناسب ۵ء۳۷ فیصد سے تو خاصا کم ہے تاہم قابلِ ذکر اقتصادی طاقت کا اظہار ہے۔ اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز کس طرح تبدیل ہوا ہے، وہ اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ دنیا کی مجموعی نامیہ جی ڈی پی میں ایشیا کاحصہ ۸۴ء۳۳ فیصد بنتا ہے، شمالی امریکا کا ۹۵ء۲۷ فیصد اور یورپ کا ۳۷ء۲۱ فیصد۔ امریکا کا حصہ ۷۰ء کے عشرے سے کم و بیش مستقل چلا آرہا ہے، تاہم یورپ کا حصہ بڑی تیزی سے کم ہوا ہے اور ایشیا کا اسی تیزی سے بڑھاہے۔ خلاصہ یہ کہ عالمگیریت کے نتیجے میں طاقت کا توازن منتقل ہوا ہے۔ دنیا اقتصادی لحاظ سے کثیر قطبی ہے، عسکری لحاظ سے اب بھی یک قطبی ہے، تاہم سیاسی لحاظ سے مخمصے سے دو چار ہے۔ یہ نظم و ضبط اور متلوّن مزاجی کے بین بین ہے۔
حکمتِ عملی کے لحاظ سے آج کی دنیا تذبذب اور انتشار میں ہے، اور ایسا صرف بھارت میں نہیں بلکہ دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں بھی یہی حال ہے۔ بھارت کے معاملے میں تذبذب نہ صرف یہ ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کا بالآخر ہدف کیا ہونا چاہیے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہدف کے حصول کا بہترین ذریعہ کیا ہونا چاہیے۔ بھارتی وزیر اعظم مودی نے بھارت کے ہدف کا اعلان کیا کہ یہ عالمی استاد کا منصب حاصل کرے گا۔ تاہم یہ بہت دور کی بات ہے کیونکہ فی الحال تو بھارت علم اور ٹیکنالوجی درآمد کر رہا ہے۔ نہ ہی یہ واضح ہے کہ یہ منصب بھارتی باشندوں کی زندگی کو تبدیل کرنے میں کوئی کردار ادا کرے گا، البتہ انا کو تسکین ضرور پہنچا سکتا ہے۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے یعنی ۱۹۸۹ء سے تقریباً ۲۰۱۰ء تک جنگ کے خطرات معدوم ہوتے دکھائی دیے تھے، ریاستوں کے درمیان جنگیں بھی کچھ عرصے تک غائب رہیں اور خانہ جنگیاں بھی پست سطح پر چلی گئیں۔ تاہم ۲۰۱۰ء کے بعد سے جنگوں نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، اور دنیا بھر میں مسلح تنازعات مستقل بڑھ رہے ہیں۔جنگوں کی تعداد، جنگ میں اموات کی تعداد، دہشت گردی کے واقعات کی تعداد، اور تشدد کی وجہ سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد، سب بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پہلی بار ۲۰۱۴ء میں سالانہ جنگی اموات ایک لاکھ تک جا پہنچیں(سرد جنگ کے دوران سالانہ ایک لاکھ سے شاذونادر ہی کم اموات ہوتی تھیں، جو طویل عرصے تک ۲ لاکھ پر بھی چلی جاتی تھیں)۔ ۲۰۱۴ء ہی میں پناہ گزینوں اور اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی دنیا بھر میں مجموعی تعداد پچاس ملین تک جا پہنچی، جو کہ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے اور ۴۰ء کے عشرے میں چین کی خانہ جنگی کے بعد سے دیکھی گئی سب سے بڑی تعداد ہے(۲۰۱۵ء میں یہ تعداد ۶۵ ملین بے گھر افراد ہوگئی)۔
اسی زمانے میں مشرقِ وسطیٰ، افریقا اور مغرب میں دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۶ء کے ابتدائی عرصے کے درمیان دنیا بھر میں دہشت گرد حملوں، اور ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد تقریباً تین گنا ہوگئی۔
جنگوں اور ان میں مرنے والوں کی تعداد ۲۰۱۵ء تک بڑھ کر دوبارہ سرد جنگ کی سطح تک جا پہنچی، جبکہ دہشت گرد حملوں اور پناہ گزینوں کی تعداد سرد جنگ کی بدترین سطح سے بھی آگے نکل گئی۔ تشدد کو روکنے کے لیے افغانستان، عراق اور لیبیا میں فوجی اور دیگر اقسام کے اقدامات کیے گئے جو نہ صرف ناکام رہے بلکہ تشدد کو ہوا دینے اور نئے تنازعات بڑھانے کا سبب بنے۔ ٹیکنالوجی نے طاقت کا توازن ’اسٹیٹس کو ‘ کی طاقتوں سے لے کر افراد یا گروپوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ دنیا مزید خطرناک ہوچکی ہے، جہاں بھارت کے عین مغرب میں Westphalian ریاست ختم یا غائب ہو چکی ہے، لیکن بھارت کے مشرق میں مستحکم اور ابھرتی ہوئی ریاستوں کے مابین روایتی طاقتوں کی کشمکش آج بھی ایک معمول ہے۔
بھارت کے مشرق میں یہ اساسی تبدیلی ہے، ان چیزوں سے ظاہر ہے کہ ایشیا و بحرالکاہل کا خطہ عالمی سیاست اور معیشت میں دوبارہ مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ہے، تبدیلی کو جگہ دینے کی بین الاقوامی نظام کی اہلیت محدود ہے (کیونکہ امریکا، یورپ اور روس جیسی مستحکم طاقتیں خود اعتمادی کھو رہی ہیں)، اور علاقائی اور بحری حدود کے تنازعات، سیاسی عدم استحکام اور بحیرہ جنوبی چین اور بحیرہ مشرقی چین میں سمندری حدودکے تنازع کی صورت میں کلاسیکل جغرافیائی سیاست واپس آ رہی ہے۔ چین کامیابی کے ساتھ ایک براعظمی نظام بنا رہا ہے، جس میں وہ روس کی مدد سے یوریشین خطہ مستحکم کر رہا ہے، جس میں پائپ لائنیں، شاہراہیں، ریلوے، فائبر آپٹک کیبل اور دیگر اسی قسم کی چیزیں اس کے آلات ہیں، ان ذرائع کی مدد سے وہ پورے براعظم میں ایک تزویراتی مارشل پلان کے طور پر اپنا بیلٹ اینڈ روڈ اِنی شیٹو (بی آر آئی) استعمال کررہا ہے۔ امریکی قیادت میں موجودہ سمندری نظام کے مقابل جدوجہد کرکے چین اپنے قریبی سمندروں میں بالادستی حاصل کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے اور وہ بحیرہ جنوبی چین کو جنوبی چین کی جھیل میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔
یہ تبدیلیوں کی صرف ایک جزوی فہرست ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات، عالمی اقتصادی و اشیا سازی کی اساس اور انداز میں تبدیلی،اور تیز رفتاری سے آنے والے اشیا سازی، مواصلات اور توانائی کی ٹیکنالوجی میں انقلابات اس کے علاوہ ہیں، جو اتنے ہی یقینی ہیں جتنا دن کے بعد رات کا آنا یقینی ہے۔ ہمارے (یعنی بھارت کے) گرد ایک نیا اقتصادی نظام تشکیل پا رہا ہے، عالمگیر معیشت ٹکڑوں میں بٹ کر علاقائی تجارتی ذیلی بلاکس میں قائم ہو رہی ہے جیسے نیفٹا، ٹی پی پی اور آر سی ای پی، اور امریکا اور دیگر طاقتیں نئے ضوابط نافذ کر رہی ہیں۔ امریکا نے تجارت اور سرمایہ کاری کا آزادانہ عالمی نظام بنایا اور اسے چلایا تھا جس سے دو عشروں تک بھارت اور چین نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا، اور یہ سلسلہ ۲۰۰۸ء کے عالمی اقتصادی و مالی بحران تک جاری رہا۔ تاہم آج لبرل اقتصادی اور آزادانہ تجارت کے ساتھ ہم آہنگی اُسی امریکا اور مغرب میں شکست و ریخت سے دوچار ہے۔ بریگزٹ ووٹ، ٹی پی پی سے امریکا کی علیحدگی، اور ٹرمپ کا موقف دراصل خوف اور عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
جس دنیا پر اب تک امریکا کا غلبہ تھا اس میں چین اہمیت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے، چنانچہ دنیا کو عدم استحکام لانے والی طاقت کی تبدیلی کا سامنا ہے، جو مکمل بھی ہو سکتی ہے اور نامکمل بھی رہ سکتی ہے۔ عالمی سلامتی کو لاحق خطرات اور بے یقینی کی کیفیت کو ٹیکنالوجی اور معاشی تبدیلیوں نے بڑھاوا دیا ہے جنہوں نے ریاست کے ساتھ ساتھ چھوٹے گروپوں اور افراد کو بھی بااختیار بنا دیا ہے، خواہ وہ دہشت گرد ہوں یا اچھے شہری۔ لہٰذا مستقبل قریب میں عالمی نمو کے پست رہنے کے امکانات ہیں، اور ریاستوں کے اندر اور ریاستوں کے مابین تنازعات اور تشدد زیادہ پروان چڑھے گا۔
طاقت کے توازن میں تبدیلیوں اور نئے چیلنجوں کی آمدسے اکثر بڑے ملکوں کی مقامی سیاست کا انداز تبدیل ہونا چاہیے۔ عوامیت پسند، آمریت پسند اور مقامیت پسند (nativist) سیاست کرنے والے رہنمااپنے پیش روؤں کے مقابلے میں تجارتی نظریہ زر کے زیادہ حامی ہوتے ہیں۔ یہ انتہا پسند قوم پرستی کا دور ہے جس میں سیاست بہت سی معقول معاشی راہوں میں مزاحم ہو جاتی ہے۔ ایسے لیڈروں کی آمد، اپنے جواز کے لیے جن کا بھروسہ قوم پرستی کے عروج تک پہنچے ہوئے احساس پر ہوتا ہے، جو خود کو طاقتور رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں ان کی ذات میں دراصل موقع اور خطرہ دونوں کا اظہار ہوتا ہے۔
شہروں کی آبادی بڑھنے، عالمگیریت اور تبدیلی کی تیز رفتار لہروں کے نتیجے میں سماجی تشدد، شکست و ریخت، اور غیریت اور بیگانگی (alienation) ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔ جریدہ اکانومسٹ کے مطابق ۲۰۱۶ء میں دنیا بھر میں ۵ لاکھ ۶۰ ہزار پُرتشدد اموات ہوئیں، جن میں سے ۶۸ فیصد قتل کا نتیجہ تھیں جبکہ جنگوں سے محض ۱۸فیصد اموت ہوئیں۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ شہر کاری (urbanisation) اور عالمگیریت کے بڑے پیمانے پر سیاسی، سماجی اور سلامتی کے حوالے سے اثرات مرتب ہوئے۔ آج کرۂ ارض پر انسانوں کی ۴۰ فیصد تعداد کسی ساحل کے کنارے پر ۶۰میل کے اندرآباد ہے، جبکہ ۳۳ عظیم شہروں (میگا سٹی یعنی ایک کروڑ سے زائد آبادی والے) میں سے صرف چھ عظیم شہر ترقی پذیر دنیا سے باہر ہیں، یعنی وہ ترقی یافتہ ملکوں کے شہر ہیں۔ ۲۰۵۰ء تک دنیا کی ۶۸فیصد آبادی شہروں میں مقیم ہوگی۔ خود بھارت کی نصف سے زائد آبادی شہروں میں رہ رہی ہوگی۔ سماجی لحاظ سے یہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہوگی اس لیے امنگوں سے بھرپور ہوگی اور روایتی خاندانی و معاشرتی ڈھانچے سے کٹی ہوئی ہوگی، یہ غیریت اور بیگانگی کا شکار اور تنہا ہوگی، یہ نئے نظریات کو، خواہ وہ اچھے ہوں یا برے، قبول کرنے پر ہر دم آمادہ ہوگی۔ شہرکاری کے سیاسی اثرات زیادہ نمایاں ہوں گے۔ سیاست ہجوم کی نفسیات اور رائے عامہ کی بیداری کی ایک مشق بن جائے گی جسے ماس میڈیا اور سوشل میڈیا کی مدد حاصل ہوگی۔ اس ماحول میں سماجی تشدد، قطبیت، اور پولیس کو مسلح بنانے کے امکانات روشن ہوں گے اور پولیس کا روایتی کردار غیر مؤثر ہو جائے گا۔ دنیا بھر میں سماجی تشدد بڑھ رہا ہے، نت نئی ٹیکنالوجی اسے مدد دے رہی ہیں اور روایتی ہتھیار آسانی سے دستیاب ہیں۔تشدد کے معاملے میں ریاست کو جو اجارہ داری حاصل تھی وہ اب ختم ہو چکی۔
اس صدی کے آغاز سے بھارت میں تشدد کے تمام اشاریوں میں کمی واقع ہوئی ہے ماسوائے فرقہ وارانہ (communal) تشدد اور سماجی تشدد اور فرد کے خلاف تشدد کے، اور یہ ۲۰۱۳ء سے بڑھا ہے۔ پولیس کا روایتی طریقہ کار اور ریاستوں کے ڈھانچے اس طرح کے سماجی تشدد پر قابو پانے کے لیے نہیں بنائے گئے۔ معاشروں کے اندر اور معاشروں کے مابین تشدد کی بدلتی ہوئی نوعیت کے کئی اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک سبب شہروں کا اور ان کی آبادی کا تیزی سے پھیلاؤ ہے۔ سوچ اور منطق کی سیاست کی جگہ جذباتیت کی سیاست نے لے لی ہے، اور اس کا ثبوت سب کو دکھائی دیتا ہے۔
تزویراتی خود مختاری: بھارت کو طاقتور بنانا، سرحدوں کا استحکام اور بیرونی توازن
اس نئی صورتِ حال میں بھارت کو کیا جوابی اقدام کرنا چاہیے؟ بعض لوگوں کا خوف انہیں یہ کہنے پر اکساتا ہے کہ اتحاد تشکیل دیے جائیں (جیسے امریکا کے ساتھ)۔ بعض بھارتی شخصیات چین کو ناقابلِ قابو طاقت سمجھتے ہوئے اتنے تشویش زدہ ہیں کہ وہ امریکا کے ساتھ اتحاد تشکیل دینے کی وکالت کرتے ہیں۔ تاہم میں بتانا چاہتا ہوں کہ بھارت ان لوگوں کی سوچ سے زیادہ بڑا اور طاقتور ہے۔
بھارت میں موجودہ حکومت تک یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی خارجہ اور سلامتی کی پالیسیوں میں ایک چیز مشترک ہے، خواہ ان کی سیاسی سوچ، اجزائے ترکیبی اور رہنما کوئی بھی رہے ہوں: وہ مشترک چیز ہے بھارت کی تزویراتی خود مختاری (strategic autonomy) کا حصول۔ اس کے مختلف نام رہے ہیں: جواہر لال نہرو نے اپنے بیشتر عرصے کے دوران ’’غیر جانب دار‘‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ جنتا حکومت نے اسے ’’حقیقی غیر جانب داری‘‘ کہا، اور حال میں اسے تزویراتی خود مختاری کہا گیا۔ عملاً اس کا ایک ہی مطلب ہے، فیصلہ سازی کی طاقت اپنے پاس رکھنا، اتحادوں سے گریز کرنا، اور دوسرے ملکوں کے ساتھ اُس وقت کام کرنا جب ایسا کرنا بھارت کے مفاد میں ہو اور کام کرتے ہوئے بھارت کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا۔
اتحاد بنانا بالکل غلط اقدام ہوگا۔ اگر ایسی کوئی صورتِ حال درپیش ہو جس میں اقدام کرنا بھارت کے ہاتھ میں ہو اور وہ دوسروں کے جھگڑوں میں نہ الجھے، اپنے وسائل محفوظ رکھے اور اپنے قومی مفادات کے حصول کے لیے آزاد رہے تو یہ ایک غیر منظم اور غیر یقینی دنیا ہے۔ اس دنیا کا مطالبہ ہے تخلیقی سفارت کاری اور لچک، طاقت کے تیزی سے بدلتے ہوئے توازن کے ساتھ خود کو ڈھالنا اور اپنے ارد گرد موجود قوتوں کے ساتھ ارتباط لانا۔ عدم استحکام کے تمام ماخذ بھارت کی سرحدوں کے ساتھ ہیں: نازک اور انتہا پسندی کا مارا ہوا مغربی ایشیا، مشرقی ایشیا جس میں ابھرتا ہوا چین اپنے مفادات کی وسیع ہوتی ہوئی تشریح کے حصول کے لیے بتدریج پُر اعتماد ہوتا جا رہا ہے، اور پاکستان میں اور اس کے اندرونی خلفشار۔ ایسا کوئی اتحاد نہیں بنایا جا سکتا جو بھارت کے اطمینان کے لیے ان تنازعات کو حل کر دے۔ امریکا کے چین، پاکستان اور مغربی ایشیا میں اپنے اور مختلف stakes ہیں۔
تزویراتی خود مختاری بھارت کے لیے بہترین لائحہ عمل کیوں ہے؟ ۲۰۱۷ء کا ڈوکلام (Doklam) بحران اس امر کو ثابت کرنے والی تازہ ترین مثال ہے کہ بھارت کے سب سے بڑے تزویراتی چیلنج، یعنی چین سے نمٹنے کے لیے کوئی اور ملک تیار نہیں ہے۔ بقیہ دنیا کی طرف سے ہمیں نیم دلانہ ردِعمل ملا۔ اس کے سوا کسی اور چیز کی توقع کرنا نامناسب ہے۔ بھارت کی سالمیت، خصوصی مفادات یا اس کے عروج میں کسی اور ملک کو دلچسپی نہیں ہے۔ ایسا اس لیے بھی ہے کہ کسی اور ملک کی بھارت جیسی تاریخ، جغرافیہ، حجم، ثقافت، اور شناخت نہیں، اور نہ ہی بھارت جیسی داخلی صورتِ حال، اور دراصل یہی چیزیں بین الاقوامی نظام سے اس کے مطالبات متعین کرتی ہیں۔ اس کے لیے ایک بیرونی ماحول درکار ہوگا جو بھارت کی قلب ماہیت کرنے میں معاون ہو، جو اسے ایک جدید، خوشحال اور محفوظ ملک بنائے، جس میں بھارتی عوام کی زندگی سے غربت، ناخواندگی، بیماریاں اور ترقی پذیر ملکوں جیسی دوسری لعنتیں ختم کر دی جائیں۔ یہ ہے بھارت کا بنیادی مفاد۔
سرد جنگ کے دوران جب دنیا دو حریف کیمپوں میں تقسیم تھی، جس چیز نے بھارت کے مفاد کو پورا کیا وہ یہ تھی کہ اتحاد یا کسی اتحادی ملک کی مرضی سے پیدا ہونے والے بیرونی تنازعات میں شامل ہونے سے گریز کیا جائے۔ جب سوویت یونین کے انہدام سے دو قطبی دنیا ختم ہوئی تو دنیا عالمگیریت کے دو عشروں میں داخل ہوئی جس نے بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کا کھلا ماحول عطا کیا۔ ایک بار پھر یہ بھارت کے مفاد میں تھا کہ کثیر سمتی خارجہ پالیسی چلائی جائے اور اپنے مفاد کے لیے تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔
تزویراتی خود مختاری کے حصول کی کوششوں کے نتائج اپنا ثبوت آپ ہیں: جی ڈی پی کی ۶ فیصد نمو کے ۳۰ سے زائد سال اور کہیں زیادہ محفوظ اور صلاحیت سے بھرپور بھارت، جس نے اپنے شہریوں کی اتنی بڑی تعداد کو غربت سے نکالا اور خود اتنی تیزی سے ترقی حاصل کی ہے کہ خود اپنی تاریخ میں اس نے ایسا کبھی نہیں کیا تھا۔ صرف ایک ملک ایسا ہے جو ماضیِ قریب میں اس سے بہتر کارکردگی دکھا سکا ہے اور وہ چین ہے۔ تیز رفتار نمو اور تبدیلی کے اس عرصے کا نتیجہ یہ ہے کہ بھارت اپنی آزادی کے وقت کی نسبت آج دنیا کے ساتھ کہیں زیادہ مربوط اور منسلک ہے۔ مختصر یہ کہ چین کے سوا دنیا کے کسی اور ملک نے گذشتہ ۳۰ سال میں اتنی ترقی نہیں کی جتنی بھارت کر چکا ہے۔
بھارت کئی اعتبار سے ایک منفرد ملک ہے۔ اگر یہ ترقی پذیری کا حامل ہے تو دوسری طرف اپنا جثہ، اثرات اور کسی حد تک طاقت بھی رکھتا ہے۔ توانائی اور تجارت کے عالمی سنگم پر اسے تزویراتی لحاظ سے اہم جغرافیائی پوزیشن ملی ہے۔ بحر ہند اس کے سامنے ہے، ایک طرف مشرقِ وسطیٰ اور وسط ایشیا کے درمیان کی فالٹ لائنوں پر ہے، تو دوسری طرف جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی ایشیا ہیں۔ آبادیاتی شماریات سازگار ہیں، بعض شعبوں میں ترقی یافتہ تکنیکی صلاحیتوں کا مالک ہے جو اپنی ترقی کے لیے ملکی ضروریات پر توجہ مرکوز رکھتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے جڑواں ملک پاکستان کو بھی ذہن میں رکھتا ہے۔ آج بھارت ایسی بہت سی صلاحیتوں کا مالک ہے جنہیں ہم محض اپنا حق سمجھ کر استعمال کرتے ہیں تاہم آزادی کے وقت کے مشکل حالات میں یہ صلاحیتیں ہمارے پاس نہیں تھیں۔ فی الحال بھارت کو اپنی کوششیں خود کو مستحکم بنانے، اپنی سرحدیں مضبوط کرنے اور بیرونی توازن قائم رکھنے پر لگانی چاہئیں۔
چنانچہ برِصغیر کو ترجیح دینا فطری ہوگا۔ اگر بھارت کو داخلی امن و سکون چاہیے تو اسے اپنی سرحدوں کو مستحکم بنانا ہوگا اور یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ سرحدیں اُس کے مفادات کے خلاف استعمال نہ کی جا سکیں۔ ایک زمانہ تھا کہ بھارت کو امریکا کی اُن کوششوں پر تشویش ہوتی تھی جو وہ اس کے ہمسایہ ملکوں کو مغربی اتحادی نظام میں شمولیت اور فوجی اڈّے بنانے کے لیے کیا کرتا تھا۔ آج ہر بڑی طاقت، ماسوائے چین کے، اُس بھارتی حکمتِ عملی کو سراہتی ہے جو اُس وقت اپنائی گئی تھی یعنی صرف برِصغیر کو ترجیح دینا۔
پاکستان اور افغانستان ہمارے لیے مساوی طور پر اہم چیلنج ہیں، خاص طور پر امریکی فوج کے انخلا کے تناظر میں۔ پاکستان نے اپنی داخلی کمزوری پر قابو پانے کی خاطر بھارت پر حملے کی کوشش کی ہے اور خود کو بیرونی سرپرستوں کے لیے کارگر بنایا ہے۔ سعودی عرب کے لیے ایک ایٹمی بم، بحرِ ہند تک رسائی اور چین کے لیے افغانستان میں راہ ہموار کرنا، اس نے تزویراتی فائدہ اٹھایا ہے اور امریکا کو افغانستان سے انخلا کا صاف راستہ فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اگر بھارت نے ایسا ہونے دیا تو پاکستان اور اس کی پشت پناہی سے چلنے والی سرحد پار دہشت گردی بھارت کی کوششوں کو پٹری سے اتار سکتی ہے۔ پاکستان تزویراتی تذبذب کب ایک مثال ہے۔ اگرچہ بھارت نے دہشت گردی کا بہتر طریقے سے جواب دیا ہے تاہم افسوس یہ ہے کہ خود دہشت گردی دنیا بھر میں سر اٹھا رہی ہے۔ مغربی ایشیا میں، پاکستان، افغانستان اور شمالی افریقا میں۔ افغانستان میں پاکستان نے امریکا، روس اور چین کو اس تصوّر پر آمادہ کر لیا ہے کہ افغان حکومت میں طالبان کو جگہ دی جانی چاہیے اور یہ کہ پاکستان اس نتیجے کو حاصل کر سکتا ہے۔
اب دہشت گردی جنوب مشرقی ایشیا میں بھی پھیل رہی ہے، میانمارمیں روہنگیا، ملائشیا اور انڈونیشیا سے لے کر فلپائن تک میں۔ بھارت میں اس کے متعدی اثرات اور انتہا پسندی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان بھارت کے لیے کوئی تزویراتی خطرہ نہیں ہے، بشرطیکہ بھارت پاکستان کے لیے یہ ممکن نہ بنائے کہ وہ بھارتی معاشرے میں مذہبی خلیج کا استحصال کرے۔ جن برسوں میں پاکستان پنجاب، جموں و کشمیر، اور دیگر جگہوں پر مشکلات کھڑی کرنے میں سب سے زیادہ مستعد تھا ان برسوں میں بھارت نے یہ کوششیں عمدگی کے ساتھ ناکام بنائیں۔ پاکستان اگر اب بھارت کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے تو وہ چین کے ذریعے کر سکتا ہے جو ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ یہ چین ہے جو پاکستان کی صلاحیتوں کو بڑھائے گا، وہ پاکستان کو اس کی ایٹمی ترقی کے ہر مرحلے پر بھارت سے ایک قدم پیچھے رکھے گا، اس کی دفاعی قوت کو مضبوط بنائے گا، اور سی پیک میں اس کے طویل مدتی مستقبل میں اس کا ساتھ دے گا۔
تاہم تمام عناصر سے بالاتر ایک عنصر جس نے بھارت چین تعلقات میں نیا دباؤ پیدا کر دیا ہے، وہ چین کا پاکستان کے ساتھ زیادہ مضبوط تزویراتی عزم ہے، جو ۲۰۱۵ء میں صدر شی جنگ پن کے دورۂ پاکستان کے بعد سے نمایاں ہے اور اسی دورے میں انہوں نے سی پیک کا اعلان کیا تھا۔
مفادات کی نوعیت یہ بتاتی ہے کہ دراصل بھارت اور چین کے تعلقات کافی پیچیدہ ہیں اور درحقیقت دونوں فریقوں کے لیے گنجائش موجود ہے کہ وہ ان تعلقات کے لیے ایک نیا تزویراتی فریم ورک تلاش کریں۔ اس غرض کے لیے انہیں آپس میں ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی مکالمے کی ضرورت ہوگی جس میں ان کے مرکزی مفادات، اختلافات، اختلافات کی حدود اور مشترکات زیرِ بحث لائے جائیں۔
بھارت کے لیے ضروری ہے کہ نئے اقتصادی حقائق کے ساتھ مطابقت پیدا کرلے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بھارت کایہ بھی مفاد ہے کہ جنوبی بحرِ چین میں اسے تجارتی سفر کی آزادی ملے، کیونکہ اس کی ۱۸۹؍ ارب ڈالر کی برآمدات اور بھارت کی ۵۵فیصد سے زائد تجارت اسی سمندر کے راستے ہوتی ہے، تاہم اس مفاد کو محفوظ کرنے کی نوعیت اور طریقہ کار کیا ہوگا، یہ بھارت میں اب بھی زیرِ بحث موضوع ہے۔ بھارت کی قلب ماہیت کا ایک اہم شریک ملک امریکا ہے، تاہم امریکا دنیا سے سمٹ کر اپنی دنیا میں مرکوز ہوتا جا رہا ہے، وہ چین سے کس طرح نمٹے گا، اس بارے میں بھی وہ غیر یقینی کا شکار ہے۔ امریکا بین الاقوامی معاشی یا سیاسی نظام کا اب یقینا مالک نہیں رہے گا، اور لگتا ہے کہ وہ اپنے اس کردار سے تھک چکا ہے۔
(بشکریہ:معارف ریسرچ جرنل)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*