بھاجپالیڈر کی گاڑی میں توڑ پھوڑ کا معاملہ : راکیش ٹکیت کی وضاحت

نئی دہلی:راجدھانی دہلی سے متصل نوئیڈا – غازی پور بارڈر پر بی جے پی رہنما کی گاڑی میں توڑ پھوڑ کے معاملہ میں سیاست گرم ہوگئی ہے۔ کسان یونین اس معاملے سے خود کو الگ تھلگ کر چکی ہے۔ بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے کہا کہ کسان یونین کے کسی فرد کا اس سارے معاملے میں کوئی ہاتھ نہیں ہے، ہم اس سے کوئی سروکار نہیں رکھتے ہیں، یہ بی جے پی کی ایک سازش ہے ، تاکہ کسانوں کے احتجاجی مظاہرے کوگمراہ کیا جاسکے ، لیکن کسان اس طرح کی سازش سے خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں۔راکیش ٹکیت نے کہا کہ اگر اس قسم کی تخریب کاری کی گئی ہے تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ، لیکن جو پولیس فورس وہاں ہے ، اسے ایف آئی آر درج کرکے معاملے کی چھان بین کرنی چاہیے ، یہ لوگ کون ہیں جو اس طرح کی ہنگامہ آرائی کررہے ہیں ، اس کا پتہ لگانا چاہیے ۔ راکیش ٹکیت نے دعویٰ کیا کہ آج تک مظاہرہ میں کسانوں کی طرف سے کسی طرح سے کوئی تشدد کا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔واضح ہو کہ آج اتر پردیش میں بی جے پی کے لیڈر امت والمیکی کے استقبال میں کھڑے بی جے پی کارکنان اور کسانوں کے درمیان تصادم کا معاملہ غازی پور بارڈر پر منظر عام پر آیا، اس دوران کئی گاڑیوں کی کھڑ کی کے شیشے ٹوٹ گئے ، جبکہ مبینہ طور پر یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے ہے کسانوں نے لوہے کے راڈ(سریا)سے گاڑیوں پر حملہ کیا ، اس عرصہ میں غازی پور بارڈر پر افراتفری کا ماحول تھا۔موقع پر موجود پولیس نے فوری طور پر وہاں سے بی جے پی لوگوں کے قافلے کو روانہ کیا، جب کہ بی جے پی کارکن مہیش نیگی کا الزام ہے کہ ہم غازی پور بارڈر پراستقبال میں کھڑے تھے ،اس دوران کسانوں نے اچانک حملہ کردیا۔