موہن بھاگوت کا بیان حقیقت یا فسانہ؟-عبدالرحمن عابد

آرایس سربراہ موہن بھاگوت نے غازی آباد میں مسلم راشٹریہ منچ کی میٹنگ میں بولتے ہوئے کہا :
(١) لنچنگ کرنے والے ہندوتوا مخالف ہیں۔
(٢) مسلمانوں کو ملک سے جانے کے لئے کہنے والے ہندو نہیں ہیں ۔
(٣) ہندوستان ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترکہ ملک ہے ، یہ بحث غلط ہے کہ یہ ملک ہندوؤں کا زیادہ ہے یا مسلمانوں کا زیادہ ہے ۔
آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا یہ بیان بظاہر بڑا اچھا اور خیر مقدم کرنے کے قابل لگتا ہے، لیکن موہن بھاگوت کے محض ایک بیان کی بنیاد پر آر ایس ایس کی ایک سو سال کی تاریخ اور کارکردگی کو بدلا تو نہیں جاسکتا، نہ ہی اسے جھٹلایا جاسکتا۔
یہ تسلیم کہ آر ایس ایس سر براہ نے پہلی مرتبہ ہندو مسلم تعلقات کے حوالے سے کسی قدر سچائی کے ساتھ مثبت باتیں کہی ہیں ، لیکن اگر ان کا یہ بیان ہی آر ایس ایس کا نظریہ ہے تو پھر انہوں نے آج تک کسی بھی لنچنگ کی واردات کی مذمت کرتے ہوئے اپنی حکومت سے لنچنگ کرنے والوں پر سخت قانونی کارروائی کرنے کے لئے زور کیوں نہیں دیا ؟ اور تمام ملک کے مطالبہ کے باوجود موہن بھاگوت جی نے لنچنگ کے خلاف سخت قانون بنانے کی ہدایت کیوں نہیں دی ؟
اگر واقعتاً بھاگوت صاحب اپنے اس بیان میں سنجیدہ ہیں،تو اب بھی گنجائش ہے کہ وہ میوات کے باڈی بلڈر آصف کے قاتلوں کی حمایت کرنے والے اور مسلمانوں کے قتل کے لئے ہزاروں کی پنچایت کو علی الاعلان اکسانے والے سورج پال امو کو بی جے پی سے خارج کرائیں ، جنید اور پہلو خان سے لے کر آج تک مودی حکومت آنے کے بعد جتنے لنچنگ کے معاملات ہوئے ہیں ان میں قانونی کارروائی کے نام پر پولس سے جو لیپا پوتی کرائی گئی ہے، اس کے تمام مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے اپنی حکومت کو پابند بنائیں ۔

آج بھی آر ایس ایس کی بالادستی میں سیاست و حکومت چلانے والی بی جے پی مسلمانوں کے خلاف مختلف فرضی کہانیاں گڑھ کر نفرت کا زہریلا پروپیگنڈا چلا رہی ہے، اس پر پابندی لگائیں ، یوپی میں یوگی حکومت جس طرح بے قصور مسلمانوں پر جبریہ مذہب تبدیلی کے فرضی مقدمات قائم کرکے دہشت گردوں جیسا پروپیگنڈا کرکے ہندو مسلم منافرت کا کھیل کھیل رہی ہے ایسی گھٹیا حرکتوں پر قدغن لگائیں بھاگوت صاحب، تو یقیناً سمجھا جائے گا کہ موہن بھاگوت اورآر ایس ایس واقعتاً اب ایک نئی سوچ اور نئی حکمت عملی کے ساتھ ملک میں ہندو مسلم تعلقات میں بہتری لانے اور اتحاد و مساوات و انصاف کے راستے پر ایک نیا سفر شروع کرنا چاہتا ہے۔
بصورت دیگر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا یہ بیان فقط بین الاقوامی برادری کو مغالطہ میں ڈالنے کی ایک کوشش ہی کہلائے گا ، کیونکہ دو ڈھائی سال پہلے بھی بھاگوت صاحب اس سے ملتا جلتا ایک بیان دے چکے ہیں لیکن وہ بھی فقط ایک بیان ہی تھا بیان سے زیادہ کچھ نہ تھا۔اس وقت آر ایس ایس کو امریکہ وغیرہ میں ایک تشدد پسند مسلم دشمن تنظیم کہا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے مودی حکومت پر انٹرنیشنل دباؤ تھا تب اپنی امیج سدھار کر مودی کے سر سے دباؤ کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے موہن بھاگوت نے بیان جاری کیا تھا ، اب بھی بین الاقوامی سطح پر کچھ ایسی ہی صورتحال ہے وزیراعظم نریندر مودی کافی دباؤ میں بتائے جاتے ہیں، ادھر وزیر اعظم کو امریکہ کا سفر بھی کرنا ہے ،کشمیر مسئلہ پر پہلے ہی دو سال سے خاصی فضیحت کرا چکے ہیں ، اس لیے سفر سے پہلے حکومت کے چہرے پر جمی ہندو مسلم منافرت،دھارمک تعصب و تشدد کی غلاظت کو جھاڑ پونچھ کر جانا چاہتے ہیں ۔
بالخصوص جبراً مذہب تبدیلی کی فرضی کہانی گڑھ کر ڈاکٹر محمد عمر گوتم جیسے شریف النفس انسان و دیگر بے قصور افراد کو جعلی قصہ کہانیوں کے شطرنجی جال اور جھوٹے مقدمات میں پھنساکر جس طرح میڈیا ٹرائل کا ڈرامہ رچا گیا اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل نفرت و دشمنی کا جو ماحول بنایا جا رہا ہے اس کی سیاہی کے داغ دھبوں پر لیپا پوتی کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے موہن بھاگوت کا تازہ بیان ، جبکہ دوسری طرف یوپی سمیت پانچ ریاستوں کے الیکشن سے پہلے ہندو مسلم منافرت کا زہر گھولنے کی مہم اب بھی شباب پر ہے اور ملک کے گدھ میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف مسلسل زہریلا پروپیگنڈا جاری ہے ۔
بین الاقوامی سطح پر ہو رہی تبدیلیوں کے تحت افغانستان کے اندر تیزی سے بدلتے حالات میں طالبان کا حکومت پر مکمل قبضہ تقریباً ہوا ہی چاہتا ہے ، افغانستان میں ہمارے ملک بھارت نے تقریباً دو سو ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور مودی حکومت در حقیقت اڈانی امبانی جیسے بنیوں کے مفادات کی محافظ ہے ان کے مفادات کے لئے ہر ممکن کام کرنا مودی حکومت کے ترجیحی مقاصد میں ہے’ موہن بھاگوت کے اس بیان کو اسی پس منظر میں دیکھا / سمجھا جائے گا ۔
اگر ہماری بات غلط اور موہن بھاگوت کا بیان سچ ہے تو آر ایس ایس کے پروردہ دہشت گردوں کی مسلمانوں کے خلاف تشدد اور نفرت کی زہریلی وارداتوں پر مکمل طور سے قدغن لگ جانا چاہئے اور گدھ میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی زہریلی پروپیگنڈا مہم کا پوری طرح خاتمہ ہوجانا چاہئے ، لیکن آپ دیکھ رہے ہیں کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ، نہ بظاہر ہونے والا ہے ۔
اندرون ملک مسلمانوں کے خلاف نفرت اور دشمنی کی پروپیگنڈا مہم میں شدت اور وسعت پیدا کرکے مسلمانوں کی زندگی کا دائرہ تنگ کرنے کے تمام حربے جاری ہیں اور دوسری طرف موہن بھاگوت نے ایک لبرل بیان جاری کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے ، ہم بھی چاہتے ہیں کہ موہن بھاگوت کا یہ بیان سچائی اور حقیقت پر مبنی ہو اور ہماری تمام باتیں محض اندیشے ثابت ہوجائیں لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب آر ایس ایس کے تمام ادارے اور تنظیمیں موہن بھاگوت کے بیان پر عملاً اقدامات سے ثابت کریں کہ واقعی وہ مسلمانوں سے نفرت اور دشمنی کی اپنی پالیسی کو ترک کرکے مسلمانوں کے ساتھ امن و اتحاد انصاف اور مساوات کی حکمت عملی پر آر ایس ایس کی ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ بھائی چارہ اور محبت و مروت کا نیا سفر شروع کرنا چاہتے ہیں ۔