Home تجزیہ موہن بھاگوت کا ’شگوفہ‘!۔شکیل رشید

موہن بھاگوت کا ’شگوفہ‘!۔شکیل رشید

by قندیل

( ایڈیٹر، ممبئی اردو نیوز) 

راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت بات بے بات ’ فلسفہ بگھارتے‘ رہتے ہیں ۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ اس ملک میں رہنے والے تمام ہی لوگ، مسلمان بھی ،ہندو ہیں، کبھی وہ کہتے ہیں کہ بس طریقۂ عبادت مختلف ہے ورنہ سب ایک ہیں ، اور ان کے ’ سب ایک‘ سے مراد ’سب کا ہندو ہونا ‘ ہی ہوتا ہے ۔ اب کی بار انہوں نے ایک نیا ’ شگوفہ‘ چھوڑا ہے ، جی ان کا ’فلسفہ‘ ایک ’ شگوفہ‘ ہی ہوتا ہے ۔ ملک کی راجدھانی دہلی میں ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ ہندوستان دنیا کو یہ سکھاتا ہے کہ تنوع میں وحدت نہیں ہے ، بلکہ وحدت میں تنوع ہے ۔‘ اگر بھاگوت کے مذکورہ جملے کو ڈی کوڈ کیا جائے تو مطلب وہی نکلتا ہے جو وہ ایک عرصہ سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ اس ملک میں رہنے والے سب ہی لوگ ہندو ہیں ، بھلے ان کے عبادت کے طریقے مختلف ہوں ، بھلے ان کے پہناوے الگ ہوں اور بھلے ان کے رہن سہن کا طریقہ الگ ہو ۔۔۔ چونکہ اس ملک کی آزادی کی لڑائی لڑنے والوں نے آزاد ہندوستان میں جمہوریت کی بنیاد رکھتے ہوئے’ کثرت میں وحدت‘ کا نعرہ لگایا تھا، اور ساری دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ بھلے ہندوستان میں مختلف مذاہب پر عمل کرنے والے بستے ہوں ، بھلے ہی ملک میں سیکڑوں طرح کی ذاتیں ہوں ، لیکن قوم کے نام پر سب ایک ہیں، ان میں کسی طرح کی تفریق نہیں ہے ، اس لیے آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک بھاگوت ’ کثرت میں وحدت‘ کے نعرے کے خلاف ’ تنوع میں وحدت‘ کا یا ’ تنوع میں اتحاد‘ کا نعرہ لگارہے ہیں ۔ اس ملک کو آر ایس ایس کے بانیان نے ایک ’ہندوراشٹر‘ کے طور پر دیکھا ہے ، اس لیے وہ کسی بھی صورت میں ’ کثرت میں وحدت‘ کے نعرے کو برداشت نہیں کرسکتے ، ان کی نظر میں سب ایک ہیں ، سب ہندو ہیں ، بھلے ہی وہ الگ الگ نظر آرہے ہوں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مذاہب اور ذاتوں کے جو الگ الگ دھارے ہیں ان سب کا ایک ہی منبع ہے’ ہندو دھرم‘ ۔

لیکن یہ سچ نہیں ہے ! سچ یہی ہے کہ اس ملک میں بے شمار مذاہب ہیں ، سیکڑوں ذاتیں ہیں اور سیکڑوں طرح کے عقائد ہیں ، لیکن مختلف مذاہب ، ذاتوں اور عقیدوں کے باوجود سب ہی ہندوستانی ہیں ۔ یہ جو ’ہندو‘ اور ’ ہندوستانی‘ کا فرق ہے ، بھاگوت اسے مٹانے کے لیے ایک عرصہ سے کوشاں ہیں ، لیکن یہ فرق ایک حقیقت ہے اس کو مٹانا یا اسےمٹا پانا ممکن نہیں ہے ۔ بھاگوت کا مذکورہ ’ فلسفہ‘ یعنی ’ شگوفہ‘ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی کو ذات پات کا بھوت ستارہا ہے ۔ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ’ذات سروے رپورٹ‘ پیش کرکے پوری بھگوا منڈلی کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کردیا ہے ۔ اعلیٰ ذات کے ہندو ۱۵؍ فیصد سے بھی کم ہیں ، ۸۵ فیصد آبادی اوبی سی ، ای بی سی اوردیگر کی ہے ، دیگر میں مسلمان بھی شامل ہیں ، جو بہار کے ’ذات سروے رپورٹ‘ کے مطابق ریاست کی آبادی کا ۱۷؍فیصد ہیں ۔ اب بھاگوت بے چین ہیں کہ یہ جو مختلف ذاتیں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہورہی ہیں ، یا کھڑی ہوسکتی ہیں انہیں کسی طرح اپنے ساتھ ملالیں ، اسی لیے انہوں نے یہ ’شگوفہ‘ چھوڑا ہے کہ ’ تنوع میں وحدت نہیں ہے بلکہ وحدت میں تنوع ہے ‘ ۔لیکن سب جان رہے ہیں کہ یہ پرفریب نعرہ محض اقتدار پر قابض ہونے کے لیے لگایا گیا ہے ۔

سب یہ بھی جانتے ہیں کہ آر ایس ایس نے اگر کبھی پچھڑے طبقات کے ’خیر‘ کی بات بھی کی تو اس کے پس پشت سیاست کارفرمارہی ۔ جب ’ منڈل‘ کا دور تھا تب ’ کمنڈل‘ کو آگے بڑھانے کے لیے اس نے بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے قضیے کو تیز کیا اور او بی سی سمیت پچھڑوں کو بھی ’ ہندوتو‘ کے دھارے میں سمیٹ کر ایودھیا کی بابری مسجد شہید کرادی اور مسجد کی شہادت نے آر ایس ایس کے سیاسی ونگ بی جے پی کو اقتدار کی کرسی تک پہنچایا ۔ اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے بار بار دھرم اور ذات پات کی سیاست کھیلی گئی اور ہنوز یہ سلسلہ چل رہا ہے ۔ آر ایس ایس کی بنیاد اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی رکھی ہوئی ہے اور اس بنیاد کا جو ’ازم‘ ہے وہ ملک میں ایک ایسے نظام کی تشکیل کا ہے جو ذات پات پر مبنی ہو ، اعلیٰ ذات حاکم ہو اور ادنیٰ ذاتیں محکوم۔ لیکن اس منصوبے کی تکمیل اب ’ذات سروے رپورٹ‘ کے بعد قدرے مشکل ہوگئی ہے ، اسی لیے پچھڑے طبقات کو خوش گوار خواب دکھانے کا ایک سلسلہ شروع ہے ، اسی کے تحت ’تنوع‘ اور ’ اتحاد‘ والا مذکورہ نعرہ بھی ہے ۔ بھاگوت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ یہ تو کہتے ہیں کہ ’اتحاد‘ سے ’تنوع‘ ہے ، لیکن عملاً انہیں جو ’ متنوع‘ ہیں ’اتحاد‘ سے دور ہی رکھا جاتا ہے ۔ کیا اس رویے کو بھاگوت تبدیل کراسکتے ہیں؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like