بیٹیوں کا تحفظ کیسے کریں؟ ـ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
بیٹی کے قتل کرنے کا رجحان ماضی قریب میں تیزی سے بڑھاہے اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس رجحان نے ملک میں قدرتی اور فطری جنسی نیز صنفی توازن کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے ، کئی صوبوں میں مسئلہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ لڑکوں کو دلہن بنانے اور بیاہ لانے کے لئے لڑکیاں دستیاب نہیں ہیں ، اور انہیں دوسرے صوبوں کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے۔
صنفی توازن کواپنے طور پر غیر متوازن کرنے کی کئی وجوہات ہیں ، پہلی وجہ تو یہ ہے کہ لڑکی کی شادی کے لئے مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں گھوڑے ، جوڑے ، سلامی اورجہیز کی جو بیماری بڑھتی رہی ہے ، اس نے اس رحجان کو فروغ دیا کہ لڑکیوںکودنیا میں آنے نہ دیا جائے، الٹراسائونڈ اور جانچ کی دوسری سہولتوں کی وجہ سے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ حالت حمل میں ہی جنین کا پتہ چلالیا جائے ایسے میں شادی کے بکھیروں اورکمائی کا بڑا حصہ تلک وجہیز کے نام پر لڑکے والوں کو دینے سے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اسے دنیا ہی نہ دیکھنے د ی جائے ۔سرکار کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہے، اس لیے اس نے الٹراساؤنڈ کے ذریعہ حالت حمل میں جنس کا پتہ چلانے کو غیر قانونی قرار دیا ہے، اور الٹرا ساؤنڈ سے متعلق دکانوں پر اس مضمون کا بورڈ آویزاں بھی رہتا ہے، لیکن اس کی پرواہ کو ن کرتا ہے ، دوسرے بہت سارے غیر قانونی کاموں کی طرح یہ کام بھی معقول رقم پکڑانے پر ہو جاتا ہے اور اگر بچی ثابت ہوئی تو ماں کے پیٹ کو ہی اس کی قبر بنا دی جاتی ہے، قیامت میں اس کے بارے میں بھی سوال ہوگا کہ کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئیں۔
اسلا م میں معاملہ اس کا الٹا ہے ، یہاں بیٹی اللہ کی رحمت ہے ، جنت میں لے جانے کا سبب ہے ، بیٹی بیوی بن جائے تو شریک حیات بن کر گھرکوپرسکون بنانے کا ذریعہ ہے ، اور جب وہ ماں بن جائے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے ، بہن ہے تو اپنے بھائیوں اور خاندان کے لئے مونس وغم خوار ہے اور یہ عورت ہی ہے جو بڑی مصیبت اٹھا کر ہمیں دنیا میں لانے کا ذریعہ بنی ۔یہاںشادیوں میںلڑکی والے پر کوئی مالی بوجھ نہیں ہے ،نان ونفقہ ، رہائش کے لئے مکان وغیرہ کی فراہمی لڑکے کے ہی ذمہ ہے ، خوشی میں بھوج دینا بھی جسے ولیمہ کہا جاتا ہے،اسی کی ذمہ داری، ان سارے اخراجات کے ساتھ مہر کی ادائیگی بھی نکاح کے بنیادی لوازمات میں سے ہے ، اس لئے مسلمانوں کے یہاں دختر کشی کا یہ عمل نسبتا ً کم ہے ،یہ اور بھی کم ہوسکتا ہے اگر ہم شریعت کے احکام کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے سلامی اور جہیز کے ذریعہ معیار زندگی بڑھانے کا خیال دل سے نکال دیں ، بدقسمتی سے یہ بیماری بہت سارے علاقوں میں مسلم سماج میںبھی داخل ہوگئی ہے ، جس کی وجہ سے بڑی عمر تک لڑکیوں کے ہاتھ پیلے نہیں ہو پارہے ہیں، حیدر آباد ، بھوپال وغیرہ میں بڑی تعدادمیں لڑکیاں کنواری بیٹھی ہوئی ہیں ، اس صورت حال میں دخل کفو کے نام پر غیر ضروری میچنگ دیکھنے کا بھی ہے ، دین داری اصل ہے ، اس میںبرابر ی کا تصور کم ہوتا جارہا ہے اور اس کی جگہ دوسری مختلف چیزوں کو ناک کا مسئلہ بنالیا گیا ہے ، شریعت کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ایسا رشتہ جس کے دین واخلاق سے اطمینان ہو ، اس کو قبول کرلینا چاہئے ، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو زمین میں بگاڑ پیدا ہونے کا خطر ہ ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ ہماری بدعقلی ، بے شعوری اور شرعی احکام کی ان دیکھی کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہوچکاہے ، اور مختلف مذاہب کے مابین غیر شرعی شادی کا مزاج بڑھتا جارہاہے اور ہماری لڑکیاں محفو ظ نہیں ہیں ۔
ان دنوں لڑکیاں ایمان وعقیدہ کے اعتبار سے بھی غیر محفوظ ہو رہی ہیں، آئے دن غیر مسلموں کے ساتھ ان کے رشتے کی خبر آ رہی ہے ، فرقہ پرست طاقتور کی طرف سے اسے مہم کی شکل دی گئی ہے، پہلے وہ لوگ بھولی بھالی مسلم لڑکیوں کو پیار محبت کے جھانسے میں پھنساتے ہیں، پھر انہیں شادی کی پیش کش کرتے ہیں، اور جب وہ شادی کے لیے تیار ہوجاتی ہیں تو ان کا مذہب تبدیل کراکر ہندو رسم ورواج کے مطابق ان سے ساتھ پھیرے لگوائے جاتے ہیں، کچھ دنوں کے بعد جب جی بھر جاتا ہے تو ان لڑکیوں کا قتل کرادیا جاتا ہے اور لاش کسی ریل کی پٹری پر مل جاتی ہے، حکومتی سطح پر اسے خود کشی قرار دے کر فائل بند کر دی جاتی ہے ، بیٹیوں کی حفاظت کے لیے ہمیں ان اسباب وعوامل پر بھی غور کرنا چاہیے، جس کی وجہ سے اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں، مخلوط تعلیمی اداروں میں جوان لڑکے لڑکیوں کا ایک ساتھ پڑھنا، موبائل کا استعمال ، شادی میں تاخیر وغیرہ اس ارتداد کے بنیادی اسباب ہیں، گارجین اور والدین کی تعلیم وتربیت میں کمی اور نگرانی کے ختم ہوتے رجحانات بھی اس کلچر کو فروغ دینے میں بڑی حصہ داری نبھاتی ہے، اس لیے بیٹیوں کے ایما ن وعقیدہ، عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے انتہائی مستعدی کی ضرورت ہے اور ظاہر ہے جو اسباب وعوامل ہیں اس کو دور کیے بغیر ہم بیٹیوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*