بیرون ملک والوں کی مفت واپسی،مزدوروں سے کرایہ،کہاں گیا پی ایم کیئرس؟:عمر عبداللہ

سری نگر:کورنا وائرس سے نمٹنے کے لئے ملک میں تیسری بار لاک ڈاؤن نافذکیا گیا ہے۔ اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں مہاجر مزدور مختلف ریاستوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان مزدوروں کی گھر واپسی کے لئے وزارت داخلہ نے گائیڈلائن تو جاری کر دی ہے، لیکن ان کو بھیجنے کے بدلے میں ریاستوں سے کرایہ لینے کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔اس مسئلے کو لے کر جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت پر طنز کسا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر آپ کورنا وائرس بحران میں بیرون ملک پھنسے ہوئے ہیں تو حکومت آپ کو مفت واپس لے کر آئے گی، لیکن کسی ریاست میں کوئی مہاجر مزدور پھنسا ہے تو اسے سوشل دوری لاگت کے ساتھ مکمل خرچ اٹھانا ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو پی ایم ککیئرس فنڈ کہاں گیا؟مزدوروں سے کرائے کے معاملے پر سماجوادی پارٹی کے چیف اکھلیش یادو نے بھی اتوار کو مرکزی حکومت کو گھیرا تھا۔ اکھلیش نے کہا کہ ٹرین سے واپس گھر لے جائے جا رہے غریب، مجبورمزدوروں سے بی جے پی حکومت کی طرف سے پیسے لئے جانے کی خبر انتہائی شرمناک ہے۔ آج واضح ہو گیا ہے کہ سرمایہ داروں کا اربوں روپئے معاف کرنے والی بی جے پی امیروں کے ساتھ ہے اور غریبوں کے خلاف۔اکھلیش یادو سے پہلے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے مزدوروں کا ریل کرایہ ریاستوں سے وصولنے کے مسئلے کو مضحکہ خیز بتایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ مزدوروں کے لیے ٹرین چلانے کے لئے مرکزی حکومت کو ریاستوں سے پیسہ نہیں لینا چاہئے۔ یہ مضحکہ خیز ہے۔ مرکز کو اس میں مدد کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بہتر روزگار کے لئے لوگ باہر جاتے ہیں۔ اس بحران کی گھڑی میں ان کے آنے کے لئے ہم نے مرکز سے ٹرین کے لئے بات کی تھی۔ کوٹہ میں پھنسے ریاست کے طالب علم بس سے آئے۔ انہیں دو دن کا وقت لگا اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لئے ہم نے ٹرین چلانے کی اپیل کی تھی۔ ٹرین ہندوستانی حکومت کی ہے اور مزدوروں کو لانے کے لئے ریاستی حکومت سے مرکزی حکومت پیسہ لے، یہ غلط ہے۔