بے نکاحی عورت: کٹی پتنگ ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 

میدان میں بہت سے نوجوان پتنگ اڑا رہے تھےـ پورا آسمان پتنگوں سے بھرا ہوا تھا : رنگ برنگی ، چھوٹی بڑی ، چاند تارا والی ، دُم دار اور بھی کئی طرح کی ـ ماہر پتنگ بازوں کی اونچی اُڑان تھی اور نو سکھیا تھوڑی بلندی پر اُڑا رہے تھےـ ہر ایک کی پتنگ ایک ڈور کے ذریعے اس کے ہاتھ میں تھی ـ اس طرح وہ اسے اِدھر اُدھر نچا رہا تھا اور اوپر نیچے کررہا تھاـ جتنے اُڑانے والے تھے ان سے زیادہ تماشا دیکھنے والےـ اتنے میں ایک پتنگ کٹ گئی ـ بس پھر کیا تھا؟ تمام تماشائی اس کے پیچھے لگ گئے ـ پتنگ نیچے آتی گئی ـ یہاں تک جب وہ بالکل قریب آگئی تو سب اس کی طرف لپکےـ نتیجہ یہ ہوا کہ اُس پتنگ کے چیتھڑے اُڑ گئےـ

بے نکاحی عورت کا حال بھی کٹی پتنگ جیسا ہوتا ہےـ جب تک وہ نکاح کی ڈور سے بندھی ہوتی ہے ، دوسروں کے تصرف سے محفوظ رہتی ہےـ شوہر اس کی حفاظت کرتا ہے _ لیکن نکاح کی ڈور ٹوٹتے ہی دوسرے اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں اور اسے اپنے قبضے اور تصرّف میں لینے کے حربے سوچنے کرنے لگتے ہیں ـ

سنا ہے کہ پڑوسی ملک کی ایک دوشیزہ نے ، جو مختلف اسباب سے شہرت کے دوش پر اُڑ رہی ہے ، یہاں تک کہ اسے نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا ہے ، نکاح کے سلسلے میں ایک بڑی نامعقول بات کہی ہےـ اس نے کہا ہے : ” ‏مجھے اب تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں؟ اگر آپ اپنی زندگی میں کسی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نکاح نامے پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ صرف پارٹنر بن کر کیوں نہیں رہ سکتے؟”

نسلِ انسانی کے تسلسل کے لیے مرد اور عورت کا جنسی تعلق ضروری ہےـ یہ تعلق اگر قانون کے دائرے میں اور معاہدہ کے ذریعے ہو تو اسے ‘نکاح’ کہا جاتا ہے اور اگر یوں ہی ہو تو اسے Live in relationship کا نام دیا گیا ہےـ دنیا کے بیش تر سماجوں نے نکاح کو ضروری قرار دیا ہے، جب کہ اِدھر کچھ عرصے سے عالمی سطح پر لیو اِن ریلیشن شپ کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہےـ مذکورہ دوشیزہ کا یہ بیان اُسی عالمی ایجنڈا کا حصہ ہےـ

مرد و عورت کا جنسی تعلق قائم کرنا یا تو وقتی طور پر لذّت حاصل کرنے کے لیے ہوگا یا اولاد کے حصول کے لیے ـ پہلی صورت میں یہ سماج اور تمدّن سے بغاوت ہےـ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہر مرد اور ہر عورت آزاد ہے _ وہ جس طرح چاہیں اپنی جنسی خواہش پوری کریں ـ جو مرد اور عورت محض لذّت کوشی کے لیے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں وہ انسانی فطرت سے بغاوت کرتے ہیں ، سماج کو دھوکہ دیتے ہیں اور تمدّن کی پیٹھ میں چُھرا گھونپتے ہیں ـ اگر اس کی کھلی چھوٹ ہوتی تو روئے زمین پر انسانی آبادی کب کی ختم ہوچکی ہوتی ـ

اگر جنسی تعلق اولاد کے حصول کے لیے ہو تو وہ عورت بہت بڑی بے وقوف ہے جو مرد کو اپنی ذات سے لذّت حاصل کرنے دے ، پھر اس کے بعد کے تمام مراحل تنہا برداشت کرے ، مرد کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو ـ دورانِ حمل اسے کوئی پریشانی ہو تو اسے تنہا جھیلے ، معاش کے ذرائع خود تلاش کرے ، وضع حمل کی تکلیف میں اسے کوئی سہارا دینے والا نہ ہو اور پیدائش کے بعد بچے کی پرورش خود کرے ، مرد کی اسے کچھ مدد حاصل نہ ہوـ

اسلام خاندان کی تشکیل کے لیے نکاح کو لازم قرار دیتا ہےـ اس کے نزدیک زوجین کا جنسی تعلق ناپائیدار تعلق نہیں ہوتاـ وہ اسے بہت زیادہ استحکام بخشتا ہےـ مردوں (یعنی شوہروں) کو عورتوں( یعنی بیویوں) کا ‘قوّام’ بنایا گیا ہےـ (النساء :34) قوّام کے معنیٰ ہیں : محافظ ، نگراں ، ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے والاـ مسلمان شوہر اپنی بیوی سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہیں رہتا ، بلکہ نکاح کے بعد آئندہ زندگی کے ہر لمحے میں اسے تحفّظ فراہم کرتا ہے اور اس کی چھوٹی بڑی تمام ضرورتیں پوری کرتا ہےـ اس کی سرپرستی میں عورت فکرِ معاش سے بے پروا ہوتی ہے ، شوہر پر اس کی کفالت لازم ہوتی ہےـ شوہر عورت کا ‘باڈی گارڈ’ ہوتا ہے ، جو اسے سیکورٹی فراہم کرتا ہےـ آج کل سیکورٹی کے نام پر بہت پیسے خرچ کیے جاتے ہیں ـ گارڈ بھاری فیس لے کر صرف اپنے فرض نبھاتا ہے ، جس کو سیکورٹی دیتا ہے اس سے محبت نہیں کرنے لگتا ہےـ اسلام عورت کو شوہر کی شکل میں مفت سیکورٹی فراہم کرتا ہےـ اسے ایسا باڈی گارڈ فراہم کرتا ہے جو صرف اس کی سیکورٹی کے فرائض نہیں ادا کرتا ، بلکہ اس سے محبت بھی کرتا ہے اور اس پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہےـ

کتنی بے وقوف ہیں وہ عورتیں جو نکاح کے ادارہ کے خلاف بولتی ہیں ، اسے کم زور کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اس کے مقابلے میں صرف پارٹنر بن کر زندگی گزارنے کی وکالت کرتی ہیں ـ

اسی طرح کتنی نادان ہیں وہ عورتیں جو نکاح ہوجانے کے بعد معمولی معمولی باتوں پر شوہروں سے روٹھ جاتی ہیں ، ان سے الگ تھلگ رہنے لگتی ہیں اور تنازع اتنا بڑھالیتی ہیں کہ بالآخر بات علیٰحدگی (طلاق اور خلع) تک جا پہنچتی ہےـ

انہیں جان لینا چاہیے کہ نکاح ایک سائبان ہے ، جس میں عورت کو سکون ملتا ہےـ ایک سیکورٹی ہے ، جس سے اسے تحفظ حاصل ہوتا ہےـ ایک سرپرستی ہے ، جس میں رہ کر وہ اطمینان و سکون سے نسلِ انسانی کی پرورش کا کام انجام دیتی ہےـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*