بنگال کی زخمی شیرنی۔۔۔!-نازش ہما قاسمی

ملک کی پانچ ریاستوں مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالہ اور مرکز کے زیرانتظام والے پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ الیکشن جیتنے کےلیے حسب روایت تمام پارٹیاں ایک دوسرے پر لعن طعن کررہی ہیں اور ادھر سے ادھر جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ برسوں سیکولر ازم کی گود میں رہتے ہوئے فرقہ پرستی کی طرف اور فرقہ پرست رہتے ہوئے سیکولر بننے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے۔ خاص کر بنگال میں چناوی سیاست زیادہ گرم ہے۔ گزشتہ دنوں بنگال کی آہنی خاتون ممتا بنرجی کے قافلے پر حملے نے اس سیاست کو مزید گرما دیا ہے۔ وہاں چہار رخی مقابلہ ہے۔ ایک طرف بی جے پی اور اس کی ہم نوا پارٹیاں ہیں تو دوسری طرف خود کو سیکولر کہنے والی کانگریس اور اس کی ہم نوا پارٹیاں تیسری طرف ممتا بنرجی کی پارٹی ہے۔اور ایک طرف اویسی مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں؛ اسی لیے یہاں الیکشن دلچسپ ہونے کی امید ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی نے خود پر حملہ کرواکر عوام کو ایموشنل بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، وہیں بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مخالفین نے شیرنی کو زخمی کرکے مزید خطرناک بنادیا ہے اور وہی بنگال کی سیاست کی ڈور سنبھالیں گی۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ نتیجہ کس کے حق میں جاتا ہے اور کون شکست سے دوچار ہوتا ہے؛ لیکن آثار وقرائن سے یہی ثابت ہورہا ہے کہ ترقیاتی کام کے بل بوتے پر ممتا بنرجی ہی واپسی کریں گی۔ ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے بنگال بھلے ہی کچھ پیچھے ہو؛ لیکن فرقہ پرستی کے معاملے میں ممتا بنرجی نے وہاں لگام کس رکھی ہےاور یہ ریاست غریب پرور ہے، یہاں غریب عوام دوسری ریاستوں کے مقابل چین وسکون کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ممتابنرجی کی پارٹی اور ان کے پارٹی کے اراکین ممبران پارلیمنٹ واسمبلی مخالفین کی زد میں رہتے ہیں، ممتا بنرجی بنگال کی خاتون آہن ہیں، انہیں حالات سے نمٹنا آتا ہے اور امید ہے کہ وہ فرقہ پرستوں کو ناکوں چنے چبوا کر زبردست اقتدار میں واپسی کریں گی۔ برخلاف مخالف پارٹیوں کے کہ ان کے پاس وہی ایک فرسودہ اور گھسا پٹا نعرہ ہے، ممتا ہٹاؤ بنگال بچاؤ؛ لیکن ذی شعور عوام پر اس کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے، وہ یکطرفہ طور پر ان نعروں کو مسترد کررہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ جن جن ریاستوں میں بی جے پی نے وہاں کی سیکولر حکومت کو گرانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے وہاں کے عوام کی اب کیا حالت ہے؛ اس لیے وہاں کے عوام خود کو اس حالت میں نہیں دیکھناچاہتے، وہ یک زبان ہوکر یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم اسی امیدوار کو ووٹ دیں گے جو ہمیں فرقہ پرستوں کی فرقہ پرستی سے بچائے گا۔ عوام کو بخوبی اندازہ ہے کہ نفرت کی سیاست دیرپا نہیں رہتی، یہ لوگ نفرت کی سیاست کرکے یہاں کا ماحول بگاڑ کر چلے جائیں گے؛ لیکن اس نفرت کی سیاست پرآنچ لگائی جائے گی، وہ بہت سے گھروں کو خاکستر کردے گی، فرقہ پرستوں کے قائدین کا کچھ تو نہیں ہونے والا؛ لیکن بگڑے گا عوام کا ہی؛ اس لیے بنگال کے عوام نے یہی فیصلہ کیا ہے سوچ سمجھ کر انتہائی سمجھداری سے فرقہ پرستی سے ہمیں لڑنا ہے، مذہب کی سیاست سے اوپر اُٹھ کر بنگال کی ترقی کے لیے ایسے امیدوار کو منتخب کرنا ہے جو بنگال کو آگ میں جھونکنے کے بجائے امن ومحبت کی طرف اسے لے جائے اور یہ کام فرقہ پرست پارٹیوں سے ممکن نہیں ہے۔ ان کے وعدے وہی کھوکھلے ہیں، ہندو مسلم نفرت کی بنیاد پر ان کی سیاست ہے۔ مندر ومسجد سے اوپر اُٹھ کر وہ نہیں سوچ سکتے ۔ بھارت جلاؤ پارٹی کا مکمل عنوان ہیں جہاں جہاں فرقہ پرست پارٹی کی حکومت ہے وہاں لاء اینڈ آرڈر اور نظم ونسق کی بری حالت ہے۔ عوام انتہائی پریشانی کے عالم میں ہیں، فرقہ پرستی سے تنگ آچکے ہیں وہ سکون کی تلاش میں ہیں ۔
واضح رہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل سی پول کی سروے رپورٹ نے ممتا بنرجی کی قیادت میں تیسری مرتبہ حکومت بننے کا واضح اشارہ دیا؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکمراں جماعت کی سیٹوں کے نقصان ہونے کی بات بھی کہی ہے اور یہ عین ممکن ہے کہ زخمی شیرنی کی پارٹی کو کچھ نقصان ہو؛ کیونکہ فرقہ پرستی کا جو زہر گھولا جارہا ہے وہ اچھے اچھوں کے دماغ میں سرایت کرگیا ہے، اس کی مثال آپ پورے ملک میں پڑھے لکھے ہندو تو کے علمبرداروں کے رویوں سے دیکھ سکتے ہیں، ان کا ذہن بھی ہندو مسلم منافرت کا شکار ہوتا جارہا ہے جو مستقبل کے ہندوستان کے خراب ہونے کی طرف مشیر ہے؛ لیکن ان کی تعداد سیکولر عوام کے مقابل بہت کم ہے اور امید ہے کہ جلد ہی بی جے پی کی فرقہ پرستی سے تنگ آکر، معاشی حالات سے پریشان پڑھے لکھے نوجوان عقل وخرد سے کام لیں گے اور فرقہ پرستی سے تائب ہوکر ہندوستان کے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ نفرت کے سہارے زیادہ دنوں تک نہیں رہا جاسکتا، یہی وجہ ہے کہ نفرت کی وجہ سے ملک میں انارکی پھیلی ہوئی ہے عوام محبت کو ترس رہے ہیں اسی محبت کو پھیلانے کی ضرورت ہے اور جب نفرت کے سوداگروں پر محبت کے پیامبر سبقت لے جائیں گے تو پھر فرقہ پرستی خود بخود مٹ جائے گی ۔ ان شاء اللہ ملک کی پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات اور آئندہ ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں یہی ہوگا نفرت کے مقابل محبت جیت جائے گی اور ہندوستان فرقہ پرستی کی بھینٹ چڑھنے سے بچ جائے گا۔ بس عوام کو شعور سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنا ووٹ متحد ہوکر ڈالیں اور جس امیدوار کو بھی ووٹ دیں یکطرفہ دیں ہاں اتنا خیال رکھیں کہ جذبات میں نہ بہیں اور نام نہاد سیکولرپارٹیو ں کے جھانسے میں نہ آئیں، اگر آپ نے متحدہ طور پر ووٹ دیا تو بنگال ہی نہیں ملک کی دیگر ریاستوں کا بھی پانسہ پلٹ سکتا ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)