بنگال، انتخاب اور تشدد ـ جے سشیل

ترجمہ: محمد توصیف

جن لوگوں کو بنگال کے سیاسی تشدد پر حیرت ہو رہی ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں۔ سوشل میڈیا پر دو سال تک لکھ لینے سے تاریخ ازبر نہیں ہو جاتی ہے۔ بنگال میں سیاسی تشدد کا ایک پرانا سلسلہ رہا ہے۔ اس بارے میں بنگال کا کوئی پرانا صحافی تفصیل سے لکھ سکتا ہے اور اسے لکھنا بھی چاہیے ۔
آج ترنمول کو گالیاں دینے والے نوجوان صحافی و اینکر حضرات شاید یہ بھول گئے ہیں کہ زیادہ نہیں بیس پچیس سال پہلے ہی جب ترنمول نے کانگریس سے الگ ہوکر ایک نئی پارٹی بنائی تھی تو خود ممتا بنرجی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ آج آئسی گھوش اور لیفٹ کے دیگر نو عمر کارکنان جس تشدد کی دہائی دے رہے ہیں، وہ تب پیدا بھی نہیں ہوئے ہونگے۔ ان کی ہائے توبہ دیکھ کر مجھے ہنسی آرہی ہے۔
مزیدار بات یہ ہے کہ بھاجپا والے جو خود کل تک دہلی میں براہ راست تشدد میں ملوث تھے وہ ترنمول کے ذریعے کیے جانے والے اس تشدد پر ہائے توبہ مچا رہے ہیں۔
میں ترنمول کے کارکنوں کے اس تشدد کو ہرگز جائز نہیں ٹھہراتا لیکن بنگال میں پچھلے پچاس سالوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ انتخاب کے بعد اور انتخاب سے پہلے کتنا تشدد ہوا ہے وہاں۔ ساٹھ کی دہائی میں جب کانگریس اور لیفٹ بطور حریف میدان میں تھے تو کانگریس کے ایک کارکن سائیں خاندان کے تمام افراد کو بردمان میں گلا ریت کر مار ڈالا گیا تھا۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ اس خاندان نے سی پی ایم میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں کانگریس نے عام انتخاب سے قبل فارورڈ بلاک کے ہیمنتا باسو کو کلکتہ میں گولی مار دی تھی۔ نکسل باڑی جیسا پرتشدد مظاہرہ بنگال میں ہی شروع ہوا تھا۔ تشدد اور بنگال کا انتخاب کے وقت گہرا ناطہ رہا ہے۔
نندی گرام میں بھولا نہیں ہوں اور نندی گرام کے تشدد میں لیفٹ والوں نے کتنا قہر برپایا تھا وہ ہمیں اچھی طرح یاد ہے۔ اس وقت بھی لیفٹ سے تعلق رکھنے والے ہمارے کچھ دوست اس تشدد کا دفاع کر رہے تھے اور آج بھی کریں گے۔ لیکن یہ سب نظریاتی ‘کھیلا’ ہے۔
بنگال کے تشدد کو یوں سمجھیے  کہ آزادی کے بعد کانگریس کی سرکار تھی جسے لیفٹ نے چیلنج کیا تو کانگریس نے تشدد برپا کیا۔ پھر لیفٹ حکومت میں آئی تو ایک طویل مدت تک کانگریسوں کا حشر کیے رکھا۔ اور پھر ممتا بنرجی کو حکومت کی باگ ڈور ملی جن کا ماننا تھا کہ لیفٹ سے نپٹنے کے لیے لیفٹ والے طور طریقے ہی اپنانے ہونگے۔ ممتا مار کھاکر، تشدد کا شکار ہو کر، لیفٹ کے غنڈوں سے لڑکر جیتی ہیں تو جوابا انہوں نے بھی لیفٹ کو پیٹا ہے۔ سدارتھ شنکر رے کانگریسی تھے۔ ان کے لوگوں نے ستر کی دہائی میں کس طرح لیفٹ والوں کو دوڑا دوڑا کر پیٹا ہے یہ پرانے لوگ بتائیں گے۔
جیوتی باسو جب آفس سنبھالتے تھے تو کس طرح گیارہ مسلمانوں کو کاٹ ڈالا گیا تھا، وہ لیفٹ والے بھول جاتے ہیں۔ اسی زمین پر ممتا بنرجی کی سیاست پروان چڑھی ہے۔ یاد رکھیے اور دوبارہ پڑھیے  کہ لیفٹ کی سرکار میں گیارہ مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا، وہ بھی لیفٹ کے کیڈروں کے ذریعہ۔ اس وقت ممتا کانگریس میں تھیں اور انہوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ یہ حادثہ بیر بھوم کے سوچپور کا ہے، اخباروں نے بھی چھاپا تھا۔ گوگل کریں سب مل جائے گا۔
اب ممتا کو بی جے پی ٹکر دے رہی ہے تو ممتا کے لوگ ان کی بے بکھیہ ادھیڑ رہے ہیں چار سال بعد اگر بی جے پی وہاں آجائے تو وہ بھی ترنمول کے ساتھ یہی برتاؤ روا رکھے گی۔
یہ بنگال کی انتخابی تاریخ ہے۔ انہیں غیر مہذب اور جاہل بول کر اپنی بے وقوفی کا مظاہرہ کرنا بند کر دیجیے ۔ بنگال کولکاتا نہیں ہے، ٹھیک جیسے صرف ممبئی مہاراشٹر نہیں ہے اور نہ بنگلور کرناٹک۔
نظریاتی چادروں میں چھپ کر گھی پینے سے کام نہیں چلے گا۔ تاریخ کھنگالنی پڑے گی۔ سمجھنا پڑے گا۔ صرف سوشل میڈیا پر جھاڑ دینے سے متوازن اور غیر جانبدار صحافت کا حق ادا نہیں ہوتا۔ مٹی کھود کر دیکھیے، لاتعداد کنکال باہر آئیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*