بنگال پھر قومی قیادت کے آزمائشی سفر پر-عبدالسلام عاصم

آپ جس حکومت سے جائز بنیادوں پر نالاں ہوتے ہیں۔ وہ اجتماعی طور سے آپ ہی کہ تشکیل کردہ ہوتی ہے۔ حکومتیں بظاہر ووٹوں سے اور بباطن سماجی سوچ سے بنتی ہیں۔گویا ووٹوں کا رُخ بدلنے کےلیے  سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام دس سال کی محنت اور اس محنت کو آئندہ دس سال پروان چڑھا کر کیا جا سکتا ہے۔غیر منجمد معاشرہ ویسے بھی ہر بیس سال میں اپنی نئی پہچان پیدا کر لیتاہے۔
بصورت دیگر شدید سے شدید ردعمل بھی وہ انقلاب نہیں لا سکتا جو حکومت کی حکمرانی کے طور طریقے بدل سکے۔ ایسے میں مقبول نعروں اور زرد پڑجانے والے چہروں کو سبز باغ دکھا کر حکومت کا ظاہری خط وخال ہر پانچ سال کے بعد بدلتے رہنے سے بھی سماج میں وہ تبدیلی نہیں آتی جو بنیادی طور ہر اچھی زندگی گزارنے کی خواہش رکھنے والے کو مطلوب ہوتی ہے۔
ہم وطن عزیز میں کاسمیٹک تبدیلیوں اور کنڈیشنڈ ذہن کی عدم تبدیلی کے ستر برسوں سے عینی شاہد چلے آ رہے ہیں۔ ان سات دہائیوں میں ہم نے منظم فسادات بھی دیکھے ہیں اور امن کے لئے خودسپردگی بھی۔ جن لیڈروں کو ہم چنتے ہیں ان کے سیاسی دھندے کیلئے خام مال بن کر رہ جانے کا احساس ہمیں کچوکے تو لگاتا ہے لیکن ہم اپنی محدود سوچ کی وجہ سے ازالے کی دو ٹوک راہ تیار نہیں کر پاتے۔
ایسا کیوں ہے یہ سوچنے کی جن تھوڑے بہت لوگوں کو توفیق ہے وہ یہ دیکھنے کے بعد کہ کایا پلٹ تبدیلی اُن کے بس کا روگ نہیں، بڑی عیاری کے ساتھ خاموشی سے اپنی نجات کی راہ ڈھونڈ لیتے ہیں اور کہیں دور بیٹھ کر اُن لوگوں کے سکھ دکھ میں شریک رہنے کی اداکاری کرتے ہیں جن کو ساتھ لے کر چلنا بہر حال اُن کےلیے آسان نہیں تھا۔
حالات کو بدلنے کی ساری ذمہ داری بہر طور انہی لوگوں پر ہے جو نامساعدات سے گزر رہے ہیں اور پریشانیاں جھیل رہے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی انفرادی سوچ سے نہیں آ سکتی اور حکومت وقت کی الگ الگ ٹولیوں کی مخالفت بھی کوئی نقش مرتب نہیں کر سکتی۔ کسی بھی منظر نامے کو یکسر بدلنے کےلیے اُس راستے کواجتماعی طور پر ترک کرنا ہوگا جس پر چل کر ناکامی ہاتھ آئی ہے۔ جی پی ایس عہد میں یہ کام اب ناممکن تو نہیں، البتہ مشکل ضرور ہے کیونکہ ہم جس معاشرے کی بات کر رہے ہیں اُس میں پریشانی میں گھرے لوگوں کو ذہنی طور پر ریڈی میڈ حل کی جستجو کا عادی بنا دیا گیا ہے۔
پچھلی سات دہائیوں میں نام نہاد سیکولرسٹوں نے اُس نظریاتی نفرت کا ازالہ ہی نہیں کیا جو کسی میخانے یا قمار بازی کے اڈے سے نہیں پھیلی۔ ہمارے یہاں رنگ اور نسل، ذات اور مذہب کے نام پر سیاست کی ستر برسوں تک بالواسطہ پرورش کی گئی۔ آج حالت یہ ہے اچھے سے اچھے موقع پرست سیکولرسٹ بھی رمضانی ٹوپیاں اتار کر تلک دھاری بنے گھوم رہے ہیں۔آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اپنے والد کی یساری سوچ سے باہر اپنے لیے جو وسط رخی راستہ اختیار کیا تھا وہ نظراً غلط نہیں تھا لیکن عملاً اس راہ پر اُن کے قدم دیوبند میں ڈگمگا گئے۔ اِس طرح ان کی تمام تر ترقی پسندی کو یمینی چمک نگل گئی۔
ملک میں خطرناک فرقہ وارانہ سیاست کی بنیاد اس طرح کسی اعلان کے بغیر محترمہ گاندھی نے رکھی جس پر ایک سے زیادہ سیکولر پارٹیوں نے چل کر موجودہ منظر نامہ مرتب کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ دیر تو ہو چکی ہے مگر ابھی بھی مکمل تاریکی نہیں چھائی۔ روشنی کی کرن مغربی بنگال سے پھوٹی ہے جہاں ہندستانی مسلمانوں نے آزاد ہندستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر فرقہ پرستانہ صف بندی سے کام لیا ہے۔ ہمنوائی کا دم بھرنگ والے حیدرآبادی فرقہ پرست جھولی پھیلائے کھڑے تھے لیکن ملت ہندیہ کے اس اقلیتی گروپ نے اس میں تھوکنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اگر یہ کسی انقلاب کا پیش خیمہ ہے تو ملک کے نفرت بیزار حلقوں کو چاہیے کہ وہ بلا تاخیر اس انقلاب کے پرچم تلے یکجا ہو جائیں اور بگڑی ہوئی تقدیر کو سنوارنے میں مثبت اشتراک عمل سے کام لیں۔
بنگال نے جو راہ دکھائی ہے اُس رخ پر کوئی بھی پہل نئی نسل کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔موجودہ بزرگ اور ادھیڑ حلقہ نوجوانوں پر اپنے ازکار رفتہ افکار مسلط کرنے کے بجائے قیادت تک انہیں کو سونپ دے۔ سرپرستی کی جائے لیکن اس طرح سے ہرگز نہیں کہ نئی نسل یہ محسوس کرنے لگے کہ ریموٹ کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ کہتے ہیں کہ راہ بدلنا ہے تو مضبوط قدم اٹھاو اور سوچ بدلنا ہے تو نئے ذہنوں کو پیشوائی سونپو۔ وقت آ گیا ہے سماج کے سارے ایسے مربی جنہیں اپنی کوششوں میں ناکامیاں ہی ناکامیاں ہی ہاتھ آئی ہیں وہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور نئی نسل کو اپنی محرومیاں سونپنے کے بجائے انہیں روایتی قید و بند سے آزاد کریں تاکہ انہیں ٹھوکر کھا کر از خود سنبھلنے کا شعور حاصل ہو۔
فرقہ وارانہ سیاست اس وقت اپنے عروج پہ ہے اور یہ عروج ہی اس کے زوال کی راہ ہموار کرے گی۔ ضرورت صرف اِس راہ میں پھسلن پیدا کرنے کی ہے جس کی بہترین صورت یہ کہ کسی بھی فرقہ پرستانہ عمل پر شدید ردعمل کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ بصورت دیگر حکومت اپنی ناکامیاں دوسروں کے سر منڈھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ کووڈ-19 اور ویکسین کے محاذ پر مرکز نے جس طرح اپنی ناکامی ریاستوں کے سر منڈھنے کی کوشش کی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
عصری منظرنامہ بدلنے کا ماحول تیار کرنے میں جذبے سے زیادہ عقل سے کام لیا جانا چاہئے۔ حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا حکومت چلانے سے زیادہ شعور سے کام لینے کا متقاضی ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال ضرور کیا جائے لیکن ترکی بہ ترکی کارروائی تک محدود رہنے کے بجائے اُسے انقلابی آلے میں تبدیل کیا جائے۔ وقت آ گیا ہے فلم ”سماج کو بدل ڈالو” کا عصری تقاضے سے ہم آہنگ نیا ایپی سوڈ تیار کیا جائے جس میں سابقہ فلم کی طرح شدت دکھانے کے بجائے تعمیری رنگ بھرا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں یمینی سیاست کو پھر یساری نہیں بنانا بلکہ اعتدال کی وہ راہ تیار کرنی ہے جس پر چلنے والے ہر شخص کی جیب میں ایک جی پی ایس کا آلہ موجود ہو، تاکہ بھٹکے ہوئے پہلے قدم کو ہی دوبارہ غلط رخ پر اٹھنے سے بچایا جا سکے۔
آئندہ سال اور بھی کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ کوویڈ19- کی دوسری لہر ویکسی نیشن میں تیزی کی وجہ کسی تیسری لہر کو وہ تباہی نہیں مچانے دے گی جو پہلی لہر میں ٹیکہ کاری شروع ہونے کے ساتھ حکومت اور عوام کی مشترکہ غفلت کا شاخسانہ رہی۔یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ غیر سیکولر ووٹوں کی تعداد کتنی ہی کم یازیادہ کیوں نہ ہو، وہ تقسیم نہیں ہوتی لیکن سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا ہر نقصان غیر سیکولر حلقے کے فائدے میں بدل جاتا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اِس کا نوٹس پہلے بھی سیاسی جماعتیں لے چکی ہیں، لیکن اُن کے محدود مفادات نے اُنہیں کبھی کوئی سبق حاصل کرنے نہیں دیا۔ بنگال میں بھی یہ سبق از کار رفتہ ہو کر رہ جانے والی جماعتوں اور حیدرآبادی فرقہ پرستوں نے نہیں لیا۔ وہاں اِس سبق سے راست طور پر استفادہ اقلیتی ووٹروں نے کیا اورزبردست کامیابی کے ساتھ کیا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)