بنگال الیکشن کے نتائج دوسری ریاستوں کے مقابل اتنے اہم کیوں ہیں؟ ـ مسعود جاوید

گرچہ کسی مخصوص پارٹی یا نظریہ کے لیے راۓ عامہ ہموار کرنا میڈیا کا کام نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے ٢٠١٣ سے میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا جسے مین اسٹریم میڈیا بھی کہا جاتا ہے ، دو ایک کو چھوڑ کر، تقریباً سارے چینلز اپنا فریضہ منصبی غیر جانبداریت کو طاق پر رکھ کر ایک پارٹی کے ترجمان کا کردار ادا کرنے لگے۔جمہوریت کا چوتھا ستون ماضی کی بات ہو گئی۔ اس لیے اس سے قطع نظر بنگال الیکشن میں ملک کی سب سے طاقتور پارٹی کے مقابل ترنمول کانگریس کی روح رواں ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کی شاندار فتح نہ صرف بنگال بلکہ پورے ملک کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔
٢٠١٣ سے ایک بیانیہ اقلیت خوشنودی مسلم appeasement زعفرانی طبقہ کی طرف سے خوب چلایا گیا اور میڈیا نے پورے ملک میں ایسا ماحول بنایا کہ ٢٠١٤ میں بی جے پی کی بہت بڑی اکثریت سے جیت کے سامنے کانگریس نے سپر ڈال دیا اور کانگریس کے بعض قدآور رہنما بھی کہنے لگے کہ کانگریس کی "بہت زیادہ سیکولر پارٹی ” کی شبیہ کی وجہ سے ہمیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ ٢٠١٤ کی شکست نے تقریباً سبھی سیکولر پارٹیوں کو ان کی سیکولر شناخت میں عیب نظر آنے لگا چنانچہ وہ اقلیت بالخصوص مسلم ایشوز پر بات کرنے سے کترانے لگیں اور بی جے پی پروپیگنڈا مشینری اور پی آر مینجمنٹ نے بی جے پی کو ایسا پروجیکٹ کیا کہ ملک کی اکثریت اس کی پالیسی اور مذہبی لائن پر لام بندی polarization کے ساتھ ہےـ
ظاہر ہے آج کے دور میں ہر پارٹی کا اولین ہدف الیکشن جیتنا ہوتا ہے خواہ اس کے لیے آئیڈیالوجی کو ترک کرنا پڑے۔ چنانچہ اقلیت خوشنودی کا داغ دھونے کے لیے راہل گاندھی نے اکثریت خوشنودی کی اسٹریٹجی کا سہارا لینا چاہا ؛ مندر مندر زیارت ، جنیو پہن کر اور تلک لگا کر یہ پاور کرانے کی کوشش کی وہ بھی اصلی ہندو ہیں ! انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اندرا گاندھی کے دور تک مذہب اور مذہبی رسومات پارٹی اور حکومت کا نہیں فرد کا ذاتی معاملہ ہوتا تھا۔۔۔۔کسی بھی سیکولر پارٹی کے رہنما اور کارکنوں کو مندر، مسجد درگاہ اور گرودوارہ جانے کی ضرورت نہیں ہے وہ عوامی رہنما ہیں انہیں عوام سے رابطہ کرنے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی بات کرنے کی ضرورت ہے، رفاہی اسکیم اور تعمیر و ترقی کے منصوبوں سے واقف کرانے کی ضرورت ہے۔ لیکن ملک میں ہر سو مذہبی احیاء پسندی نے ہر ایک کو پست کر دیا اور ہر خاص و عام کی زبان سے ہر الیکشن کے وقت یہی نکلتا کہ ” آۓ گا تو وہی چاہے کچھ بھی ہو جائے”۔ یہ ایک نفسیاتی جنگ کی جڑی بوٹی تھی جو ہر ایک کو پلا دی گئی۔ ایک طرف متشدد مذہبی احیاء پسند عناصر دوسری طرف پارٹی کے کارندے، تیسری طرف میڈیا اور چوتھی طرف خاص و عام کی بڑی تعداد جو یہ کہتے نہیں تھکتی کہ بی جے پی ایسا کر رہی ہے تو ضرور دیش ہت میں ہوگی ۔ لیکن ان سب کے بیچ ہوائی چپل اور سفید ساڑی والی ایک اکیلی مردانی نے ان سب بیانیوں کو غلط ثابت کر دیا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ ریاست کے لوگوں کا دل مذہب کے افیم نہیں فلاحی اسکیموں سے جیتا جاتا ہے۔
پورے ملک میں ایک بڑی تعداد بلا تفریق مذہب و ذات برادری علاقہ اس معنی میں راحت کی سانس لی ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ ” اۓ گا تو وہی "۔
دراصل بنگال میں مذہبی منافرت کے لیے زمین بنجر اس لیے ہے کہ کمیونسٹ پارٹی – خوبیوں اور خامیوں سے قطع نظر- اس معاملے میں اپنی آئیڈیالوجی سے کبھی نہیں ہٹی کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے پارٹی اور حکومت میں مذہب کی بنیاد پر بھید بھاؤ ہو اور نہ ہی کسی مذہب کے فروغ کے لیے یا کسی مذہب کے خلاف کوئی کام ہو۔
بنگال انتخابات کے نتائج دوسری ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں اس بھرم سے لوگوں کو باہر نکالنے میں مددگار ہوں گے کہ ” آۓ گی تو بی جے پی ہی "۔
تاہم جو ذہنیت ہندی بیلٹ کے لوگوں کی ہے اسے دیکھتے ہوئے بہت زیادہ امید نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے کہ اسی ٨٠ کی دہائی میں ماہر اقتصادیات اشیش بوس نے ہندی بیلٹ کی چار ریاستوں کی پستہ حال معیشت اور تقریباً ہر شعبہ جات میں ابتری کو دیکھتے ہوئے ان چار ریاستوں کے لیے ایک مخفف ” بیمارو BIMARU یعنی بہار، مدھیہ پردیش،راجستھان اور اتر پردیش ایجاد کیا تھا۔ اس مخفف بیمارو سے ان کی مراد یہ چار بیمار ریاستیں تھیں۔ افسوس آج بھی ان ریاستوں کی حالت وہی ہے تعلیمی معاشی پسماندگی اور کمتر درجے کا انداز زیست سے لےکر مذہبی منافرت سب سے زیادہ انہی ریاستوں میں ہے۔