بنگال:بی جے پی رہنما دلیپ گھوش کا متنازعہ بیان،ہم حکومت میں آئے تو مخالفین سے بدلہ لیں گے!

کولکاتہ:مغربی بنگال میں انتخابی سال سے قبل ہی سیاسی جماعتوں کے مابین انتخابی جنگ تیز ہوگئی ہے۔ بنگال بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر دلیپ گھوش نے ممتا حکومت پر ایک بار پھر جارحانہ انداز میں حملہ کیا ہے۔ دلیپ گھوش نے کہا کہ ممتا دیدی کو جئے شری رام بولنے میں بہت پریشانی ہوتی ہے۔دلیپ گھوش نے کہا کہ ان کے خون میں ایسی کیا بات ہے کہ وہ جئے شری رام نہیں بول سکتی ہیں۔ یہ سلوک رام کے ملک میں ہی کیوں کیا جارہا ہے؟بی جے پی کے ریاستی صدر نے کہا کہ ممتا بنرجی کہہ رہی ہیں کہ بدلا نہیں،بدل دو۔ لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو ہم اپنے کارکنوں کی موت کا بدلہ لیں گے۔دلیپ گھوش نے بن گاؤں میں ایک جلسہ عام میں یہ بات کہی۔دلیپ گھوش مستقل طور پر ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں، جن پر بحث ہوتی رہی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے کہا تھا کہ ممتا راج کے تحت بنگال میں دہشت گرد گروہ سرگرم ہوگئے ہیں، جو مغربی بنگال کو مغربی بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بنگال میں جئے شری رام کے نعرے میں کہرام ہوا ہے۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ذریعہ یہ نعرہ دیا گیا تھا،تب بھی ممتا کافی پریشان تھیں۔ ممتا نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے اس نعرے کو سیاسی شکل دی ہے۔واضح رہے کہ مئی 2021 میں مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی پہلے ہی جارحانہ رویہ اپنا چکی ہیں۔ بنگال میں بی جے پی نے 200 نشستیں جیتنے کا ہدف بنایا ہے،جس کی وجہ سے پارٹی مسلسل جارحانہ انداز میں مہم چلا رہی ہے۔ بہت سے مرکزی وزراء اور قائدین بھی مستقل طور پر ریاست کا دورہ کر رہے ہیں۔