بے چارے دو رکعت کے امام! 

 

شاہدالاسلام

اکبر الہ آبادی نے کیا خوب کہا ہے:

قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ

رنج لیڈر کو بہت ہے، مگر آرام کے ساتھ

طنزومزاح کے عظیم شاعر کا یہ مشہورشعر آج کی مسلم لیڈر شپ کیلئے پوری طرح برمحل اور مناسب ہے۔اِس وقت ملک کے حالات کیا ہیں،یہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے۔ہر جانب افراتفری کا عالم ہے۔شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پورے ملک میں مظاہرہ ہورہاہے۔احتجاج خونریزی کی شکل اختیار کرچکا ہے اورزائد از 24 افراد مختلف ریاستوں میں پولس کی گولیاں کھا کر بے موت مارے جاچکے ہیں۔ایک ہنگامہ برپا ہے،ایک ہجوم ایک شہر میں احتجاج کیلئے سڑکوں پر اُترتاہے،لاٹھی ڈنڈے اور گولیاں کھاتا ہے، چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہوتی ہیں،خبریں آتی ہیں کہ فلاں شہر میں گولی چلی اور فلاں شخص کی موت ہوگئی۔ ابھی ایک خبر پر نظریں جمی ہی ہوتی ہیں کہ دوسرے شہروں سے بھی ایسے ہی احتجاج کی بازگشت سنائی پڑتی ہے اور پھرٹیلی ویژن اسکرین سے لے کر انٹر نیٹ کی دنیا تک میں لاٹھی چارج،آتشزنی اور گولی باری کے واقعات کے ظہورکی اطلاع عام ہوجاتی ہے۔ دہلی،لکھنو ،کرناٹک،سنبھل، بلند شہر،کانپور،علی گڑھ سمیت درجنوں شہروں سے لگاتاربدامنی کی خبریں آرہی ہیں اور اس درمیان جو سب سے زیادہ پریشان کن بات ہے، وہ یہ کہ لوگ قائد کے بغیرسڑکوں پر اتررہے ہیں اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کررہے ہیں۔

خبروں کی اس پوری ریل پیل کے درمیان جو خبر ملت اسلامیہ ہند کیلئے سب سے اہم ہے اور جو اس پورے منظرنامہ سے غائب ہے وہ ہے ہماری مذہبی یاملی قیادت کا غائب ہوجانا۔ وہ بھی تب ،جبکہ ملت کے غم میں آنسو بہانے والی’ ہردلعزیز’ ہستیوں کی غالب اکثریت شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کی شدید مخالف ہیں۔ پھر احتجاجی منظرنامہ سے ان کا غاب ہوجاناکیا معنی رکھتا ہے؟یہ بزدلی ہے؟بے غیر تی ہے؟بے شرمی ہے؟بے ضمیری ہے؟ملت فروشی ہے؟یا کچھ اور؟یہ ایک اہم سوال ہے۔

سوال اس وجہ سے بھی کیونکہ یہ جوجگہ جگہ احتجاج ہو رہے ہیں، ان میں بڑی تعداد میں مسلم نوجوانوں کی بھی شمولیت ہے،جن میںنوخیزبچے اور بچیاں بھی ہیں،نوجوان مردوخواتین بھی ہیں اوربزرگ حضرات بھی۔اِن مظاہروں اوراحتجاج کے درمیان آنکھیں ڈھونڈرہی ہیں کہ’قائدین ملت’ آخرکہاں ہیں؟دور دور تک وہ روایتی جبہ و دستار غائب ہے،جنہیں کل تک دہلی کے رام لیلا گراونڈ یا پٹنہ کے گاندھی میدان میں بھیڑ جمع کرکے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کا انتظام کرتے ہم میں سے بہتوں نے دیکھاہے۔ جمعیة،جماعت،امامت اور قیادت امتحان کی اس گھڑی میں جس طرح عافیت کی نیند سو رہی ہے،اس کی کوئی نظیر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔

لاکھوں کا مجمع لگانے والے امیر شریعت ہوں یا ہزاروں کی بھیڑجمع کرنے والے حضرات،یا مسجد کے ممبر سے شاہی خطبہ دینے والے ائمہ ہوں یا پھرامام حرم کے شاہی استقبال کا اہتمام کرنے والے امیر المومنین،روایتی جبہ ودستارکے حاملین کا اضطراب اور بے چینیوں کے درمیان ایک ساتھ اس منظر نامہ سے غائب ہوجانااس بات کا بھی اعلامیہ ہی ہے کہ’ ملت ‘ کے قائدین عملی طورپر’یتیم و مسکین’ واقع ہوچکے ہیں اور اِن سے اب کسی عملی قدم کی امید فضول ہے۔

ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ قوم کے یہ ‘غیور’ کہلانے والے صاحبان بے خطرجذبات کی بھٹی میں کود جائیں اوراپنی قوم کو سڑکوں پر لا کر پٹوادیں،بلکہ ہم یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ جب ایک بڑی مسلم آبادی برادرانِ وطن کے شانہ سے شانہ ملا کر احتجاج میں شامل ہورہی ہے، تو سماج کے مختلف باشعور افراد کے کاندھے سے کاندھا ملاکر ہماری یہ ‘عبقری شخصیتیں’ کیوں نہیں چل سکتیں اور کیوں بے حیائی کی حد تک اپنے گھروں میں دبکی پڑی ہیں؟

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بے قصور نوجوانوں پرپولس کے ذریعہ ظالمانہ سلوک اختیار کیا گیا، لائبریریوں میں پڑھ رہے طلبہ وطالبات پربلا امتیازلاٹھیاں برسائی گئیں،آنکھیں تک پھوڑی گئیں، لیکن قوم کے اِن قائدین کی آنکھیںنہ کھلیں،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ پرپولس ٹوٹ پڑی،یہ حضرات سوتے رہے،شہریت قانون کی چنگاری جامعہ نگر سے ہوتی ہوئی سیلم پور پہنچ گئی،یہ واعظین بیدارنہیں ہوئے۔حد تو تب ہوگئی جب ملت کی کثیر تعداد جامع مسجد کی سیڑھیوں پر پہنچ کر سراپااحتجاج بن گئی،لیکن امامت کافریضہ شاہی امام نے نہیں،راون کوانجام دینا پڑی!یہ ہے ہماری قیادت کا نوحہ۔

یہ وہی جامع مسجد کی سیڑھیاں ہیں، جہاںآزادی کے بعدآج سے کوئی70-75سال قبل امام الہند مولاناابوالکلام آزاد نے مورچہ سنبھالا تھااور ملت کی رہبری کی تھی۔70-75سال میں ہندوستان کا نقشہ اس قدر بدل جائے گا،شاید مولاناآزاد نے بھی یہ نہیں سوچاہوگا،لیکن کل جب بعد نمازِ جمعہ ‘راون’ کی’ سیاسی امامت’ملت کا مقدر بنی تو یقیناعالم ارواح میں مولاناآزاد کی روح کرب میں مبتلا ہوئی ہوگی۔ یہی وہ احساس کرب ہے،جس کے اظہارکے طورپریہ تحریر سپرد قلم کیا گیاہے،جس کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ ہم قائدین عظام کے عزائم اور اُن کی مصلحت پسندی کا شکوہ کرنے کے بہانے ہم اُن کی پگڑیاں اور دستار اچھالیں۔البتہ فیض احمد فیض کا یہ مصرعہ ملت کے غم میں آنسو بہانے والے قائدین کیلئے پیش کرنا واجب سمجھتا ہوں:

اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے

جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے

ایسے وقت میں جبکہ ہندوستان کے سیکولر عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی کی آفت کے امکانی خطرہ کو ٹالنے کیلئے سراپا احتجاج بن چکا ہے،ملت اسلامیہ ہند کو ایسے حالات میں کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے،اس کا فیصلہ کرنا،لائحہ عمل ترتیب دینا،مسلم نوجوانوں کی فکری و عملی رہنمائی کرنا اور اختلافِ رائے کے جمہوری اور پر امن راستہ پر چلنااگر قائدین ملت کا فریضہ نہیں ہونا چاہئے تو کوئی ہمیں یہ بتائے کہ پھر اِن مذہبی لیڈروں کا کام آخر کیا ہونا چاہئے؟ ہم مسلمان جنہیں’قائدین ملت’ کہتے اورسمجھتے رہے ہیں، اطمینان کی چادر اوڑھ کر ان کا خرگوش کی نیند سونااور ملک میں کیا کچھ ہورہاہے، کہاں آگ لگ رہی ہے،کہاں گولیاں چل رہی ہیں،کہاں لاٹھیاں برس رہی ہیں،انہیں مجرمانہ بے حسی بلکہ بے شرمی کے ساتھ نظرانداز کردینے کا جواز آخرکیا ہے؟

غالباًیہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایسا واحد موقع ہے،جب پوری مسلم لیڈر شب اپنی قوم کو صالح،پر امن اور جمہوری راستہ دکھانے میں بھی اجتماعی و انفرادی دونوں لحاظ سے ناکام ہے،چہ جائے کہ مسلم لیڈر شپ میدان عمل میں کودتی اور آئین ہند کی روح کوبچانے کیلئے اپنی توانائی صرف کرتی۔ہم سمجھتے ہیں کہ تاریخ ایسی بزدل قیادت کو کبھی معاف نہیں کرے گی،جنہیںقوم کے غم میں حکام کے ساتھ ڈنر کھاتے اور’ کڑھی’ کی ‘خراب کوائلٹی’کا شکوہ کرتے تو سنا گیا لیکن حالات کا مقابلہ کرنے کی بجائے اردو کے اخباروںمیں ‘رنج’اور’غم’کا آرام کے ساتھ اظہار کرتے ہم سبھی دیکھ رہے ہیں۔

یہ کیسا دور ہے کہ ملت کی نوخیز بیٹیاں اور نوعمربہوئیں پر امن احتجاج کا مورچہ سنبھال رہی ہیں اورملت کی غم خوارکہلانے والی قیادت ‘گوش عافیت’ میں آرام فرمارہی ہے۔شاید ایسی ہی کسی بے ضمیری اور بے حیائی والی کیفیت کی ترجمانی کرتے ہوئے شاعر مشرق کو کہنا پڑا ہو کہ:

قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے

اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*