بزمِ صدف کی کویت شاخ کا افتتاح،ادبا و دانشوران کے خطابات

پٹنہ/کویت:( ڈاکٹر الفیہ نوری)وبائی خوف اور مشکلات کے بیچ یہ خوش گوار اطلاع بھی آئی کہ معروف ادبی تنظیم بزمِ صدف انٹر نیشنل نے اپنی ایک نئی شاخ قائم کر لی ہے اور آن لائن تقریبِ تاسیس اور عالمی مشاعرے کے ساتھ اس کاورود ِ مسعود ہو گا ۔گذشتہ ۱۲ ستمبر کو بزمِ صدف کی کویت شاخ کا افتتاحی پروگرام آن لائن شکل میں برپا ہو ا۔ہندستان ،پاکستان ،قطر ،کویت ،بنگلا دیش، کینڈا،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور برطانیہ جیسے ممالک سے ادبا و شعرا و دانش وران شریکِ بزم ہوئے۔
معروف سائنٹسٹ اور کویت یونی ورسٹی کے استاد ڈاکٹر مرزا عمیر بیگ نے کویت میں بزمِ صدف کی شاخ کے قیام کو ایک نیک فال بتایا۔انھوں نے کہا کہ یو ں تو ادبی انجمنیں قائم ہو تی رہتی ہیں اور کچھ دنو ں کے بعد وہ بند بھی ہو جاتی ہیںمگر بزمِ صدف جیسے ایک معتبر اور شہرت یافتہ انجمن نے کویت میں اپنی شاخ قائم کرنے کا جو فیصلہ کیا ، اس سے ہمارا حوصلہ بڑھا ہے۔انھوں نے بتا یا کہ انفرادی طور پر ہم سب کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہتے ہیں مگر بزمِ صدف کے پلیٹ فارم سے زیادہ موثر طریقے سے اور بڑے اہتمام کے ساتھ ہم اپنی تقریبات بر پا کر سکتے ہیں۔جتنے بڑے کام ہو تے ہیں، سب مل جل کر اور اجتماعی طور پر انجام دیے جاتے ہیں۔انھوں نے اس بات کی توقع کا اظہار کیا کہ بزم صدف کی کویت ٹیم محنت کر کے اپنے ملک اور اس انجمن کے وقار کو بحال رکھے گی۔تقریب میں مہمانِ ذی وقار کی حیثیت سے دہلی یونی ورسٹی کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر ارتضٰی کریم شریک ہوئے ۔انھوں نے بزمِ صدف کی روز بہ روز ترقی کو یاد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیاکہ تنظیمی سطح پر بزمِ صدف کی ترقی سے انھیں خوشی حاصل ہو تی ہے۔ بزمِ صدف کے سر پرستِ اعلا محمد صبیح بخاری نے گذشتہ برسوں میں بزمِ صدف کی رنگا رنگ سر گرمیوں پر اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ بزمِ صدف روز سنگ ہائے میل قائم کر رہی ہے۔انھوں نے دعا دی کہ اسے اور آگے بڑھنے کاخداموقع عنایت کرے۔
تاسیسی پروگرام سے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے بزمِ صدف کے ڈائریکٹر پروفیسر صفدرا مام قادری نے آغاز سے اب تک بزمِ صدف کی علمی و ادبی کار کردگیوں پر روشی ڈالی ۔انھوں نے بتایا کہ وبا کے اثرات کی جاں سوزی کے مرحلے میں بزمِ صدف انٹرنیشنل کی طرف سے ہر مہینے ایک بڑے ادبی پروگرام کی بنیاد رکھنے کا مقصد اچھی شاعری سننااور تبادلۂ خیالات کا ماحول پیدا کر کے اس خوف سے نکلنے کی ایک کوشش کرنا ہے۔اسی وجہ سے بزمِ صدف ہر مہینے ایک عالمی آن لائن پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔
کویت سے تعلق رکھنے والے معروف قانون داں رانا اعجاز سہیل نے کویت میں بزمِ صدف کی ادبی سرگرمیوں کے آغاز کو لائقِ ستائش بتایااور محمد حسین آزاد کی اصطلاح میں یہ پیشین گوئی کی کہ اس عالمی انجمن سے جڑ کو کویت کے ادیب اور شاعر بقائے دوام کے دربار میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔پاکستان سے تعلق رکھنے والے جناب جعفر صمدانی نے کویت کے ادیبوں شاعروں کے لیے بزمِ صدف کو ایک پیغامِ مسرت کہا اور یہ کہا کہ ہم ایک بڑے ادبی خاندان کا حصہ ہو نے جا رہے ہیں۔کویت کی بزرگ شاعرہ محترمہ شاہ جہاں جعفری حجاب نے بزمِ صدف کی مرکزی ٹیم سے اس بات کی گزارش کی کہ کویت اور دوسری جگہوں پر ایسے بہت سارے ادیب اور شاعر ہیںجن کی کتابیں وسائل کی کمی کے سبب نہیں شائع ہو پاتی ہیں۔اس لیے بزمِ صدف کو ایسے لوگوں کی معاونت کرنی چاہیے۔مشہور شاعر آمر قدوائی نے اس تاسیسی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بزمِ صدف کی ادبی اور سماجی خدمات کی تعریف کی ۔انھوں نے کہا کہ مجھے یہ معلوم ہو ا کہ وبائی مشکلات میں بزمِ صدف نے اپنے ارکان اور معاونین سے مدد لے کر ہزاروں لوگوں کی اس وبا کے دوران مدد کی ۔ ادب کے ساتھ یہ سماجی خدمت بے حد قیمتی ہے اور میں اس کی قدر کر تا ہوں ۔
بزمِ صدف کے چیر مین جناب شہاب الدین احمد نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر تے ہوئے بزمِ صدف کے اغراض و مقاصد پہ روشنی ڈالی۔انھوں نے بتایا کہ بزمِ صدف ادبی اجارہ داریوں کے خلاف ایک آواز ہے۔انھوں نے گذشتہ برسوں میں بزمِ صدف کی طرف سے شایع شدہ کتا بوں اور رسالہ صدف یا مختلف سے می ناروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اس با ت کا اعلان کیاکہ آئندہ ماہ میں بزمِ صدف اپنا خواتین ونگ بنا رہی ہے اور عالمی سطح پریہ ادبی انجمن اب تشکیل کے آخری مراحل میں ہے جس سے بزمِ صدف کی کارکردگی کو ایک نیا افق قائم ہوگا۔
اس پروگرام کی نظامت کویت شاخ کے صدر اور مشہور شاعر مسعود حساس نے کی اور تقریب کی صدارت بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والے بزرگ شاعر جلال عظیم آبادی نے کی۔تاسیسی پروگرام کے بعد جو مشاعرہ منعقد ہو ا ، اس میں ایوب خاں نیزہ ،نسیم زاہد ،مسعود حساس ،آمر قدوائی ، شاہ جہاں جعفری حجاب، عادل مظفر پوری (سعودی عرب )،ندیم ظفر جیلانی(قطر)، ثروت زہرہ(دوبئی) ،احمد اشفاق(قطر)،ظفرامام (ہندستان)،پرویز مظفر (برطانیہ)،عباس تابش(پاکستان)،صفدر امام قادری (ہندستان)،ضامن جعفری (کینیڈا) اور جلال عظیم آبادی(بنگلا دیش ) شامل ہو ئے۔