بزم صدف انٹرنیشنل کا”نساٸی حسیئت اور جدید اردو افسانہ“ عنوان سے مذاکرہ

دہلی:(سمیعہ ناز ملک)9 جنوری 2021 کو بزم صدف انٹرنیشنل لٹریری فورم آف ویمن کے زیر اہتمام نساٸی حسیئت اور جدید اردو افسانہ کے موضوع پر ایک آن لاٸن مذاکرہ کااہتمام کیا گیا۔جس کی صدارت صدر شعبہ اردو انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ممتاز دانشور محترمہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کی۔ مذاکرہ میں ممتاز افسانہ نگار خالدہ حسین کے افسانہ ”دادی آج چھٹی پر ہیں“ اور ذکیہ مشہدی کے افسانہ ”شکستہ پروں کی اڑان“ پر تنقیدی اور مطالعاتی گفتگو کی گٸی۔ اظہار خیال کرنے والوں میں محترمہ شاہدہ حسن صدر بزم صدف انٹرنیشنل لٹریری فورم آف ویمن، شہلا نقوی نیو یارک، ناٸب صدر بزم صدف انٹرنیشنل لٹریری فورم حمیرا رحمان امریکہ، مجلس مشیران بزم صدف انٹرنیشنل لٹریری فورم ڈاکٹر عشرت معین سیما جرمنی اور ڈاکٹر عنبرین صلاح ألدین پاکستان، ڈاکٹر بی بی آمنہ پاکستان، اور دیگرشامل تھے۔
صدر شعبہ اردو انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ممتاز دانشور محترمہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے صدارتی خطاب میں گفتگو کو سمیٹتے ہوۓ کہا کہ محترم شہاب الدین محترمہ شاہدہ حسن صدر بزم صدف انٹرنیشنل لٹریری فورم آف ویمن کے منتظمین اور اراکین و عہدہ دار حقیقی معنوں میں علم و ادب کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، آج کے تاریخی تحقیقی اور تعمیری تنقیدی مذاکرہ میں شرکت ہر لحاظ سےوجہ انبساط و اعزاز ہے کہ آج ہمیں دنیا کی بہترین افسانہ نگار خواتین کے فکر و فن اور ان کی شخصیات کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرہ میں بہت پرمغز تحقیقی کام سامنے آیا ہے اور سب سے زیادہ متاثر کن ”سسٹر ہڈ“ کا عملی مظاہرہ دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرہ میں کی جانے والی گفتگو یعنی تنقید تجزیہ اور انداز بیاں کسی طرح سے بھی عالمی ادبی تنقیدی معیارات سے کم تر نہیں ہے بلکہ یہ اس میں اضافہ کا بھی سبب ہے۔ ان کہنا تھا کہ ادب آپس میں انسانی روابط اور رشتے استوار کرتا ہے آج کی فکری نشست میں جس طرح سے مرصع جملوں محاورات اور زبان و بیان کی خوبصورتی سامنے آٸی ہے اس سے نوآموز افسانہ نگاروں کی عملی تربیت کے نٸے راستے کھلیں گے۔ ممتاز دانشور انگریزی ادبیات کی استاد محترمہ شاہدہ حسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس موضوع پر مختلف زاویوں سے گفتگو ہو سکتی ہے۔ دونوں افسانہ نگار خواتین نے عالمی سطح کا ادب تخلیق کیا ہے۔ ستر کی دہاٸی میں خواتین اپنی تحاریر مردوں کے نام سے شاٸع کرواتی تھیں۔پھر رشیدہ جہاں نے انگارہ روشن کیا جس کے بعد ممتاز افسانہ نگار خواتین سامنے آٸیں۔ اکیسویں صدی میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ دنیا بھر میں اردو کی بستیاں آباد ہو چکی ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مزکورہ افسانہ نگار خواتین کی تخلیقات کا نہ صرف اعتراف کیا جاۓ بلکہ دیگر زبانوں میں ان کے تراجم بھی کیۓ جاٸیں۔ یہ امر باعث خوشی ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں نے عورت کے ذہنی وجود کو تسلیم کر لیا ہے۔ ممتاز درسگاہوں اور دانشگاہوں میں نساٸی شعور کی نوعیت، اہمیت اور ارتقإ کا جاٸزہ لیا جا رہا ہے جبکہ ڈیجیٹل معاشرہ میں فکری لحاظ سے مرد و زن کی تخصیص نہیں رہی۔ انھوں نے کہا کہ عورت کے وجود میں تخلیق کا وصف رکھا گیا ہے جو نٸی معاشرتی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عورت نٸی کیفیات کا شکار رہتی ہے۔ مزکورہ افسانہ نگار خواتین معاشرہ کی خواتین کا تعارف ہیں۔انھوں نے ممتاز دانشوروں شہاب الدین احمد، صفدر امام قادری اور دیگر شخصیات کا شکریہ ادا کیا۔ شہلا نقوی نے اظہار خیال کرتے ہوۓ کہا کہ ذکیہ مشہدی کا افسانہ ” شکستہ پروں کی اُڑان“ دلوں پر براہ راست اثر انداز ہو کر دلوں کوچھو لیتا ہے۔ان کے افسانہ کی ابتدا ہی دھماکہ خیز جملہ سے ہوٸی ہے جو کہ افسانہ کی خاص صفت ہے۔ ابتداٸی دو جملوں میں ہی دو عورتوں کی مکمل تصویر سامنے آ جاتی ہے جو کہ افسانہ نگار کا کمال ہے۔ زکیہ مشہدی اپنے افسانوں کے کرداروں نفسیاتی و سماجی صورتحال سے پوری طرح سے آگاہ ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ افسانہ الفاظ کا نہیں جزبات کا کھیل ہوتا ہے۔ جبکہ زکیہ مشہدی کے افسانوں کی خاص بات زبان وبیان کی خوبصورتی، محاورات، تشبیہات اور استعاراتی نظام سے منسلک ہے۔
غزال ضیغم نے زکیہ مشہدی کے فکر و فن پر روشنی ڈالتے ہوۓ کہا کہ وہ ستر کی دہاٸی کے بعد افسانہ کے افق پرنمودار ہوٸی۔ بلا شبہ وہ موجودہ عہد کی قد آور افسانہ نگار تھیں۔ ”شکستہ پروں کی اڑان“ کا بنیادی عنصر کہانی پن ہے۔ جو افسانے کو دھیرے دھیرے کھولتا ہے۔ یہ افسانہ مدھم آنچ پر سلگنے کا احساس دلاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک نفسیاتی افسانہ ہے جس میں عورت کی محرومیوں اور جزباتی ناآسودگیوں کا ذکر بار بار ہوتا ہے۔ افسانہ کبھی اکہرے تاثرات کا مجموعہ نہیں ہوتا اس میں حالات و واقعات، زمانہ، وقت، منظر، پس منظر، احساس کی کیفیت اور رشتوں کے تعلقات کی نزاکت کا مرکب بن کر تخلیقی اکاٸی بن کر فن پارے میں ڈھل جاتا ہے۔جزیات نگاری میں ذکیہ مشہدی کو ملکہ حاصل ہے۔ ان کے ہاں یہ فن عروج پر ہے۔ نساٸی جزبات کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں جب ان کا لحاظ نہیں رکھا جاتا تو پھر نکاسی ٕ جزبات کے لیۓ ایسے رستوں کا انتخاب کرتا ہے جو مشرقی روایات پر سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔ اس افسانہ میں خواب جھٹکے سے پاش پاش ہو جاتے ہیں اور سنگین حقیقت سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ وہ فکشن کی اصلیت سے آگاہ اور اظہار بیان اور جمالیات کی رمز آشنا تھیں ان کے افسانے میں نفسیاتی تصورات اجتماعی اثر اور تہزیبی زوال کے ذرے نمایاں ہیں جنھیں پڑھ کر قاری لرزہ بر انداں ہو جاتا ہے۔ افسانے کا اختتام بھی کچھ ایسے ہی ہے کہ ” پڑوس کی مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوٸی تو ناصرہ بیگم اٹھیں اور انھوں نے کپڑوں کی الماری سے جإنماز تلاش کرنا شروع کر دی ہے جسے عرصہ پہلے وہ کہیں رکھ کر بھول چکی تھیں“۔
انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں درس و تدریس سے وابستہ ممتاز دانشور بی بی آمنہ نے اظہار خیال کرتے ہوۓ کہا کہ شدت پسند معاشرہ اور گھریلو ماحول میں لکھاری خاتون کی الجھن دراصل انحطاط پزیر معاشرہ کی تصویر ہے۔ عورت کو مکمل فرد تسلیم نہیں کیا جاتا۔ افسانہ میں ”دادی“ پسماندہ طبقہ کا کردار ہے جس سے ہر ایک نے اپنی توقعات وابستہ کر رکھی ہوتی ہیں۔وہ ان توقعات پر پورا اترنے میں مصروف رہتی ہیں۔ مگر وہ کسی کو مطمٸن کر پا رہی ہیں اور نہ ہی کوٸی ان کے نفسیاتی وجود کو تسلیم کرنے پر تیار ہے۔ وہ محض اپنے تخلیقی سفر کے لیۓ ایک لمحہ کی کھوج میں ہے تاکہ تخلیق کے نٸے امکانات تلاش کر سکے اور خود کو فنا کے خوف سے نکال سکے۔ معاشرہ ان کی ایک دن کی چھٹی کا بھی روادار نہیں۔ نتیجتاً ان کے اندر کی عورت ”داخل“میں ہی رہ جاتی ہے۔ وہ زینب کے ذریعہ اپنا کتھارسس کرنے کی کوشش کرتی ہے۔افسانے کے لفظوں کی آڑ میں اپنے دکھ کا اظہار کرتی ہیں۔ وہ آشوب ذات سے اپنے افسانے کا آمیزہ تیار کر کے خود کو اجتماعیت عطا کر رہی ہے۔
امبرین صلاح الدین نے کہا کہ خالدہ حسین کا افسانہ دیگر تخلیقات کی طرح علامتی طرز میں نہیں لکھا گیا ہے۔ اس کا طرز بیان سادہ ہے تا کہ دادی کی کہانی آسانی سے عام آدمی تک پہنچے۔ انھوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں جبکہ عالمی شہرت یافتہ فکشن مشہور زمانہ ”ہیری پوٹر“ کی خالقہ اگر اپنی تخلیق کو مردانہ نام سے شاٸع نہ کرتی تو اسے کوٸی شاٸع بھی نہ کرتا۔ ان کا یہ افسانہ اسی کرب سے لکھا گیا۔
اس سے قبل تقریب کی ناظمہ اور بزم صدف انٹرنیشنل لٹریری فورم کی جنرل سیکرٹری محترمہ ڈاکٹر افشاں بانو نے اپنے منفرد اور خوبصورت انداز سے تقریب کا آغاز کیا اور افسانہ نگاروں کے فن پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ذکیہ مشہدی نے دیہی کرداروں کے گرد کہانیاں بنی ہیں جبکہ خالدہ حسین نے جدیدیت کے ساتھ علامتی و تجریدی ادب تخلیق کیا۔ اس سے قبل تقریب کا باقاٸدہ آغاز راقم الحروف سمیعہ ناز ملک میڈیا سیکرٹری بزم صدف انٹرنیشنل نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ تقریب میں موجود جناب شہاب الدین ڈاکٹر تسلیم عارف اور دیگر علمی ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب کی خاص بات ممتاز دانشور حمیرا رحمان نے امریکہ سے انتہاٸی دلکش لب و لہجہ، تلفظ اور انداز بیاں سے افسانہ پڑھ کر شرکا ٕ محفل کے دل موہ لیۓ ۔ جبکہ تقریب کے اختتام پر ممتاز شاعرہ اور بزم صدف انٹرنیشنل کی پروگرام کوآرڈینیٹرمحترمہ عاٸشہ شیخ عاشی نے تمام حاضرین محفل و نا ظرین کا شکریہ ادا کیا اور خو بصورت و کامیاب محفل کے انعقاد پر محترم شہاب الدین اور صدر بزم صدف انٹرنیشنل خواتین محترمہ شاہدہ حسن کو مبارکباد پیش کی۔