بزمِ صدف بنگلہ دیش کی جانب سے ’’دنیا کی مختلف زبانوں سے اردو کا ادبی اور لسانی رشتہ‘‘کے عنوان سے بین الاقوامی آن لائن مذاکرہ

ڈھاکہ:وبائی ماحول میں ادبی جمود کو توڑنے اور دنیا کے مختلف ممالک میں بسے اردو کے شایقین کے درمیان ایک بیدار رابطے کے مقصد سے بزمِ صدف نے ہر مہینے ایک عالمی پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی سلسلے کی کڑی میں گذشتہ دنوں بنگلا دیش شاخ کی جانب سے’’ دنیا کی مختلف زبانوں سے اردو کا ادبی اور لسانی رشتہ‘‘ عنوان سے ایک عالمی مذاکرے کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس سے پہلے بزمِ صدف انٹرنیشنل کی کویت ، قطر اور ہندستان کی شاخوں نے اپنے متعدد عالمی پروگرام منعقد کیے تھے۔ اس اعتبارسے بنگلادیش کی کمیٹی نے اپنا پہلا عالمی پروگرام منعقد کیا۔
شعبۂ اردو ، ڈھاکہ یونی ورسٹی ، بنگلا دیش کے سابق صدر پروفیسر محمد محمود الاسلام نے اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا۔ پروفیسر محمودالاسلام مشہور ماہرِ لسانیات ہیں اور ان کی تحقیق کا یہ خاص موضوع ہے۔ انھوںنے اپنے مقالے میں اردو کے عالمی منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے یورپ سے امریکہ اور خلیج کے ممالک تک اردو کی تعلیم و تدریس اور تصنیف و تالیف کے منظر نامے پر روشنی ڈالی اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اردو بین الاقوامی سطح پر زبانوں کی مقابلہ آرائی اور ان میں اپنی حیثیت قبول کرنے اور کرانے کی صلاحیت کے سبب رفتہ رفتہ مستحکم ہوتی جارہی ہے۔ انھوںنے کہا کہ اردو کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ دوسری زبانوں اور تہذیبوں کو جذب کرنے کی اس میں صلاحیت ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کی مختلف قومیتوں اور آبادیوں نے بہ خوشی اس زبان کی طرف اپنی توجہ مبذول کی۔ انھوںنے برصغیر کے ماحول میں اردو کو رابطے کی زبان قرار دیا اور اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ اردو میں مذہبِ اسلام سے متعلق بے شمار تحریری مواد موجود ہے جس کے مطالعے سے مذہبی اور علمی تحقیق کی راہیں کھلتی ہیں مگر انھوںنے عرب ممالک کے سلاطین اور ماہرینِ زبان کو یہ مشورہ بھی دیا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ اہلِ عرب اردو زبان کے سلسلے سے سرگرم ہوں ۔ اس زبان کو اپنائیں اور اردو نے جس توجہ سے گذشتہ سات دہائیوں تک عربی زبان اور مذہبِ اسلام کی خدمت انجام دی ہے، اس احسان کا وہ معقول بدلا دیں۔
اردو کے مشہور شاعر برطانیہ میں مقیم جناب باصر سلطان کاظمی نے اردو اور انگریزی زبانوں کے رشتوں کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس زبان میں عہدِ جدید کا دور انگریزی اثرات کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ ہندستان میں یوروپی عمل دار ی اور تعلیمِ جدید کے فروغ سے برصغیر میں ادب اور تعلیم کے شعبوں میں انگریزی زبان کے اثرات ملنا شروع ہوجاتے ہیں۔ انھوںنے فراق گورکھپوری کی شاعری کو بہ طورِ مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ فراق کے یہاں کس طرح انگریزی زبان اپنے اثرات دکھاتی ہے۔ انھوںنے انگریزی کے ایسے الفاظ جو اردومیں نسل در نسل استعمال ہوتے ہوئے اور رچ بس گئے ہیں، انکے عمومی استعمال کی وکالت کی اور ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین کے ایک کالم کا تذکرہ کیا جس میں انھوںنے اسکول، کالج اور گورنر جیسے بہت سارے الفاظ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ سب کثرتِ استعمال سے اردو کے لفظ بن گئے ہیں۔ انھوںنے بول چال کی سطح پر برصغیر میں انگریزی زبان کے استعمال کی صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بتایا کہ برطانیہ میں بھی ایشیائی کمیونیٹی میں یہ کیفیت ہے مگر انھوںنے نئے لکھنے والوں اور تخلیقی ادب میں خدمات انجام دینے والوں سے دست بستہ گزارش کی کہ یہاں انگریزی الفاظ کے دخول کے سلسلے سے ایک محتاط رویہ ہونا چاہیے۔ انھوںنے پریم چند کی کہانی ’’زیور کی ڈبیہ‘‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بتایا کہ تخلیقی ادب میں ’ایروپلین‘ لفظ کا انھوںنے پہلا استعمال وہاں دیکھا تھا مگر وہ کچھ اس طرح سے متن میںر چ بس گیا تھا کہ اجنبی نہیں معلوم ہوتا تھا۔ باصر سلطان کاظمی نے اردو والوں کے لیے ترجمے کے سلسلے سے انگریزی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اردو کے مترجمین دنیا کی مختلف زبانوں کے ادب کو انگریزی کے راستے سے سمجھتے اور متن کا ترجمہ کرکے پیش کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے انگریزی اور اردو کا کئی صدیوں کا ایک لازم اور زندہ رشتہ ہے۔
جرمنی میں مقیم ممتاز شاعرہ اور افسانہ نگار ڈاکٹر عشرت معین سیمانے اردو کے یوروپی زبانوں سے رشتے کی وضاحت کرتے ہوئے جرمن زبان سے زندہ رابطے کی بات کہی۔ انھوںنے یوروپ کے ان عالموں کا تذکرہ کیا جنھوںنے ہندستانی ادب کو سمجھنے کے لیے باضابطہ سنسکرت سیکھی یا فارسی سیکھی۔ فرانس باب اور میکس مولر کو انھوںنے خاص طور سے یاد کیا جنھوںنے یورپ اور ہندستانی زبانوں کے بیچ رابطے اور تنقید و تحقیق یا لسانیاتی توضیحات کی راہیں ہموار کیں۔ لفظی ساخت اور آواز کی مماثلت کے پہلو سے بھی انھوںنے بتایا کہ اردو اور ہند آریائی زبانیں کس طرح یورپ کی زبانوں بالخصوص جرمن زبان سے مماثل ہیں۔ انھوںنے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ یوروپی ماہرینِ لسانیات نے ہندستان سے لسانی رابطوں پر ہر دور میں تنقید و تحقیق کا سرمایہ جمع کیا۔ انھوںنے سوسیور اور رومن جیکسن جیسے ماہرین کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ جدید عہد میں لسانی رابطے کی سمجھ داری پیدا کرنے میں ان ماہرین کا بڑا ہاتھ ہے۔ انھوںنے پروفیسر گوپی چند نارنگ کی تصنیف کا ذکر کیا جس میں نارنگ صاحب نے سوسیور سے استفادہ کرکے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ دونوں زبانوں میں رابطہ قائم رہا ہے۔
پاکستان کے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی محترمہ عنبرین صلاح الدین نے اردو اور پنجابی کے رشتوں کے سلسلے میں اپنا تفصیلی مقالہ پیش کیا۔انھوںنے بتایا کہ پنجابی محاورات اور کہاوتوں کے ساتھ ساتھ صوفی شعرا کے اثرات اردو زبان پر بڑے پیمانے پر قائم ہوئے۔ انھوںنے خدیجہ مستور، خالدہ حسین اور طاہرہ اقبال کے افسانوں کو بہ طورِ مثال پیش کرتے ہوئے اس بات پر توجہ دلائی کہ کس طرح پنجابی کے فقرے یا کہاوتیں استعمال کرکے ان افسانہ نگاروں نے اپنے بیانیے کو موثر بنایا ہے۔
ا لہٰ آباد یونی ورسٹی کے شعبۂ ہندی کے استاد ڈاکٹر آشوتوش پارتھیشور نے اردو اور ہندی کے رشتوں کے سلسلے سے اپنے خطاب میں یہ بات اولاً ہی کہہ دی کہ ان دونوں زبانوں میں جو اختلافات بتائے جاتے ہیں، وہ نقلی ہیں اور سامراج کے زمانے میں انھیں باضابطگی دی گئی۔ انھوںنے امیر خسرو سے لے کر کبیر داس ، سور داس، تلسی، جائسی اور بہاری کے بہ شمول مختلف علاقائی زبانوں کے لکھنے والوں کو یاد کیا جن کا زمانہ تیرہویں صدی سے سترہویں صدی کا مانا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس زمانے میں علاقائی زبانیں علاحدہ پہچان نہیں رکھتی تھیں اور انھیں ہندوی کے دائرے میں لوگ پہچاننے کی کوشش کرتے تھے۔ کبیر داس نے اسے بھاکھا کہا اور خسرو نے ہندوی کا علاقہ بھی متعین کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس زبان میں تکثیریت اور انجذاب کے گہرے عناصر موجود تھے جس کی وجہ سے وہ زبان پورے ملک کی شناخت نامہ بن گئی تھی۔ رسم الخط کا بھی کوئی جھگڑا نہیں تھا ورنہ رام چرت مانس، پدماوت اور بعد میں رانی کیتکی کے لیے فارسی کو نہیں آزمایا گیا ہوتا مگر اٹھارہویں صدی سے اردو اور ہندی کے مزاج میں تبدیلی آنے لگتی ہے۔ پہلے انگریزوں نے پھر مختلف طرح کے سماج سدھار کے نام کی تحریکوں نے نفرت کے بیج زبان اور پھر مذہب کے نام پر بوئے جس کی وجہ سے ہندوی کا کردار بدل گیا ۔ اب عربی فارسی الفاظ کی بہتات پر اردو کہاجانے لگا اور سنسکرت لفظوں کی شمولیت سے اسے ہندی قرار دیا جانے لگا۔ ڈاکٹر پارتھیشور نے بتایا کہ اس دور میں تنازعات تو بہت کھڑے ہوئے مگر زبانوں کے بیچ مشاورت اور لین دین کے ماحول میں کمی آئی جس نے زبان کی خوب صورتی اور اردو کے تاریخی مزاج کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ انھوںنے پریم چند کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے لیے پریم چند نے ہی وہ مثالی نثر پیش کی جس کا کردار تکثیری ہے اور جس میں مقامی بولیوں ٹھولیوں کے الفاظ اور محاورات کی شمولیت ہوئی ہے۔ انھوںنے ختمِ کلام کے طور پر یہ سندیش دینا چاہا کہ زبانوں اور زبانوں کے بولنے والوں کے مابین گفت و شنید اور رشتوں کی بات آج کے مشکل زمانے میں ایک لازمی شے ہے اور اس سے می نار میںیہ بات ایک نئی گفتگو کے آغاز کا ذریعہ بنے گی۔
اردو زبان کے عربی اور فارسی زبانوں سے رشتوں کے سلسلے سے بھی سے می نار میں مقالات پیش کیے گئے۔ ڈاکٹر وصی الحق وصی نے اردو اور عربی زبان کے رشتوں کو گوشت اور ناخن کا رشتہ کہا۔ انھوںنے غیر مسلم افراد کے اردو تراجم کو بہ طور مثال استعمال کرتے ہوئے اس بات کو ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کی کہ کس طرح عربی زبان کے الفاظ اور محاورات اردو داں طبقے کے لاشعور میں بسے ہوئے ہیں۔ انھوںنے سید سلیمان ندوی کے نقطۂ نظر کو قبول کرتے ہوئے دونوں زبانوں کے الفاظ اور تراکیب میں حسبِ ضرورت تبدیلی کرنے کے حق کو معقول قرار دیا۔ اردو کے عربی زبان سے رشتے کی وضاحت کے سلسلے سے جناب وقار احمد نے اپنے مقالے کی تلخیص پیش کی۔ انھوںنے اردو حروف تہجی میں عربی کے تمام اٹھائیس حروف کی شمولیت سے اس بات کو ثابت کیا کہ اردو تحریر اور صوت دونوں اعتبار سے عربی کے اصول کو قبول کرتی ہے اور عربی کے حروف اورآوازیں اردو معاشرے میں اب بھی پورے طور پر رائج ہیں۔ انھوںنے تراجم اور زبان کی سطح پر لین دین کے حوالے سے متعدد مثالیں دے کر اپنی باتوں کو استحکام عطا کیا۔ اردو قواعد پر عربی کے اثرات کے سلسلے سے بھی انھوںنے اپنے مقالے میں کارآمد باتیں پیش کیں۔
تہران یونی ورسٹی میں شعبۂ فارسی کی استاد ڈاکٹر وفا یزداں منش نے اردو اور فارسی کے دیرینہ رشتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے یہ بتایا کہ صوفیاے کرام اور ایران کے شعراے کرام کے ہندستان میں پھیلنے کی وجہ سے فارسی کے الفاظ اور فارسی کی اصطلاحیں ہندستانی عوام میں بہت دور تک پھیلیں۔ انھوںنے فارسی کے محاورات کے بڑے پیمانے پر اردو میں ترجمے کی بات بتاتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آج ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ الفاظ اور فعلیہ مادے ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں جو حقیقتاً فارسی تھے اور اہلِ اردو نے ان کا ترجمہ کیا۔ انھوںنے بتایا کہ ہندستان میں ایک طویل مدت تک فارسی چوںکہ اقتدار کی زبان بھی رہی، اس لیے اسے عوامی زبان بننے کی سہولت حاصل ہوگئی اور جس کی وجہ سے اسی خطے میں پَل بڑھ رہی اردو پر اس کے دیرپایہ اثرات قائم ہوئے۔ انھوںنے بتایا کہ لفظوں کے لین دین میں صرف ظاہری صورت ہی نہیں رہی بلکہ اردو والوں نے جہاں جہاں ضرورت پڑی معانی میں بھی تصرف کیا۔ انھوںنے ایک خاص بات یہ کہی کہ ہندستانی معاشرے نے ایک زمانے میں فارسی کی ترقی میں بڑا کارنامہ انجام دیا تھا۔ اب اس احسان کا بدلہ چکانے کے لیے ایران اور ایرانیوں کو اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں بنیادی کردار ادا کرنا چاہیے۔
شعبۂ اردو ، ڈھاکہ یونی ورسٹی کی استاد محترمہ حفصہ اختر نے بنگلا زبان اور اردو کے رشتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بالخصوص سرمایۂ الفاظ پر بحث کی۔ انھوںنے اردو کی پرانی اور نئی کتابوں کو موضوعِ بحث بنایا اور ان میں استعمال کیے جانے والے ایسے الفاظ کی نشاندہی کی جو حقیقتاً بنگلا کے آزمائے ہوئے الفاظ تھے اور اس زبان کے اثر سے اردو میں انھیں استعمال کیا گیا۔ انھوںنے میر امن کی ’باغ و بہار ‘ کی خاص طور سے مثال پیش کی اور اس کے متعدد الفاظ پر بنگلا کے اثرات کی نشاندہی کی۔ انھوںنے اس بات پر بھی زور دیا کہ ذرا سی تبدیلی اور فرق کے ساتھ بنگلا اور اردو میں ہزاروں کی تعداد میں الفاظ اور محاورات ایک دوسرے کے گھر آنگن میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
اس بین الاقوامی سے می نار کی صدارت کرتے ہوئے بزمِ صدف کے ڈائرکٹر اور پٹنہ کالج آف کامرس کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر صفدر امام قادری نے اس سے می نار کی موزونیت کو تاریخ ساز بتایا۔ انھوںنے بتایا کہ آج جب کہ زبانوں اور قوموں کے درمیان علاحدگی کے بیج بوئے جارہے ہیں اور سب اپنی دیڑھ اینٹ کی مسجدیں تیار کر نے میں لگے ہوئے ہیں، اس زمانے میں اس سے می نار میں زبانوں اور قوموں کے درمیان اشتراک اور آپسی لین دین یا تبادلۂ خیالات کے امور کو پہچاننے کی جو کوشش ہوئی ہے، وہ بے حد قیمتی ہے۔ انھوںنے کہا کہ ایک ایسے علمی مذاکرے کا حصہ ہونا ان کے لیے خوش گوار تجربہ تھا جہاں دنیا بھر کی مختلف زبانوں کے ماہرین ہماری مادری زبان کی وسعت اور تکثیریت کو نئے نئے پہلو اور نئی نئی دلیلوں سے واضح کررہے ہوں۔ انھوںنے کہا کہ آنے والے دور میں ایسے اور سے می نار بھی منعقد کیے جائیںگے جن میں اردو پر اور دوسری زبانوں کے جو اثرات ہوئے، ان کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے گی۔ خاص طور پر انھوںنے جنوبی ہندستان کی زبانوں، کشمیری، سندھی، مراٹھی اور پہاڑی زبانوں کے ساتھ ساتھ یورپ کی دوسری زبانوں کے تعلق سے بھی تفصیل سے گفتگو کے مواقع تلاش کرنے کی بات کہی۔ انھوںنے اس بات پر بھی زور دیا کہ زبان اور علمِ زبان کے حوالے سے اردو داں طبقے کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور اپنی زبان کی بین الاقوامی حیثیت اور معیار کے حوالے سے مزید گفتگو کا موقع نکالنا چاہیے۔
ا س سمینار کا افتتاح بزمِ صدف کے چیرمین جناب شہاب الدین احمد کے خطاب سے ہوا۔ انھوںنے بنگلا دیش کے دوستوں کو ان کے ملک کی گولڈن جوبلی اور بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمان کے صد سالہ جشن کی مبارک باد دی۔ ڈھاکہ یونی ورسٹی کے اساتذہ کو ان کی یونی ورسٹی کے سو برس پورے ہونے پر بھی مبارک باد پیش کی۔ انھوںنے اپنے خطاب میں بنگلا دیش کے لوگوں کو علمی اور ادبی سطح پر مکمل اردو آبادی سے جڑنے کے لیے ایسے انعقادات بار بار کرنے کا مشورہ دیا۔ انھوںنے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس سے می نار کے موضوع کے انتخاب کے لیے جس بڑے پیمانے پر دنیا بھر کے ملکوں سے اصحابِ قلم نے داد دی، اس سے ہمارا حوصلہ بڑھا ہے اور ہم وبائی دور سے گزرنے کے بعد بے شک اس بات کی کوشش کریںگے کہ بنگلا دیش میں ہی اس موضوع پر ایک عالمی سے می نار منعقد ہو۔ اس سے می نار کی کامیاب نظامت ڈھاکہ یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو کے استاد جناب غلام مولیٰ نے کی ۔ بزمِ صدف بنگلا دیش شاخ کے سکریٹری جناب عنایت اللہ صدیقی کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے اس سے می نار کا آغاز ہوا اور محترمہ جنت الفردوس نے بنگلا دیش کی بزمِ صدف شاخ کی طرف سے تمام حاضرین و ناظرین کاشکریہ ادا کیا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*