مولانا عتیق الرحمان سنبھلی کی وفیاتی تحریروں کا مجموعہ ’’بزم رفتہ‘‘ – مولانا یحییٰ نعمانی

’’ ایسا صاحب نظر جب کسی شخصیت پر لکھتا ہے تو وہ صرف سوانح وخاکہ نگاری نہیں کرتا،بلکہ سبق آموزی کی ایک محفل سجا دیتا ہے۔ لہٰذا اس’بزم رفتہ‘ میں فکر و نظرکے لیے بھر پور تغذیہ ملتا ہے‌ اور شاید اس کی اصل اہمیت اسی پہلو سے ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہاں شخصیات کے آئینہ میں تاریخ کا نظارہ بھی ہے اور تبصرہ بھی،آپ سرود رفتہ بھی سنیں گے اور نغمہ حال بھی۔ اس میں خوشیوں کی ترنگیں بھی ہیں اور دل کے داغ بھی،حسرتوں کی تپش بھی محسوس ہوگی اور آرزؤوں کا چمن بھی نظر آئے گا۔ ساتھ ہی اس مجموعہ‌بزم رفتہ میں آپ کو اسلوب کی تابانی اور ادب کی چاشنی بھی ملے گی اور ملّت کے امراض کی نشاندہی بھی۔ غرض یہ مجموعہ فوائد کی آماجگاہ ہے۔
وفیات نگاری میں مولانا کا اسلوب خاص امتیاز رکھتا ہے۔ عموما ًانہوں نے نہایت اختصار سے لکھا ہے اور شخصیات کے اصل کمالات ومحاسن اور قابل نظر امتیازات وحالات کا ذکر کیا ہے، کہ ان کا اصل مقصود سبق آموزی تھی۔ اپنے محبوب استاد حضرت مولانا حسین احمد مدنی،ؒ جن کی عقیدت ان کے رگ وپے میں پیوست تھی، کا تذکرہ بھی بس تین صفحات میں کیا ہے، مگر ان ہی میں خون آگیں قلم سے الم وحسرت کا دریا بہا دیا ہے۔ ان تحریروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر شخصیت کے کردار وصفات کے امتیازی پہلو نہایت خوب صورتی سے سامنے آتے اور قاری کو دعوت غور واتباع دیتے ہیں۔ خصوصاً دینی شخصیتوں پر انہوں نے جو لکھا ہے،وہ پتہ دیتا ہے کہ ان کے نزدیک انسانیت کی سب سے گراں مایہ متاع خدا طلبی وربانیت اور اخلاص و عبدیت کی صفات ہیں۔ حضرت مدنیؒ، ڈاکٹر مولانا عبد العلیؒ، مولانا ابوالحسن علی ندویؒ اور اپنے والد ماجد مولانا محمد منظور نعمانی ؒپر لکھے گئے مضامین اس کی مثال ہیں۔
مولاناعتیق الرحمن سنبھلی ؒہر پہلو سے دیانت وامانت کا مرقع تھے۔ بزم آرائی یاکسی کو خوش کرنے کے لیے خلاف واقعہ بات کہنا یا مبالغہ، ان کے مزاج سے قطعاًخارج تھا۔ کھرے سچ اورحقیقت پسندی کی اِس خصوصیت نے اِن مختصر تحریروں کی قدر وقیمت ہزارہا ہزار صفحات سے ]جن میں مبالغہ آرائی اور محض تحسین ومداحی سے کام لیا گیا ہو اور کمیوں سے سبق آموزی کی طرف کوئی توجہ نہ دی گئی ہو[ بڑھا دی ہے۔ مگر نقد وتبصرے میں سچائی اور امانت کا حق بھی اداکرنے کے ساتھ وہ شرافت ومروت اور اعلیٰ معیار کی ایسی پاسداری کرتے ہیں، جس کے نمونے بہت کمیاب ہیں اور یقینا اس کے لیے جہاں اعلیٰ درجے کی بے نفسی اور شرافت ومروّت چاہیے، وہیں زبان وبیان اور ادا واظہار پر غیر معمولی قدرت بھی۔ کتاب میں مولانا آزادؒ، ڈاکٹر ذاکر حسینؒ اور ڈاکٹر عبد الجلیل فریدیؒ پر جو تحریریں آپ پڑھیں گے وہ اس امتیاز کی بہترین عکاس ہیں۔‘‘
مولانا مرحوم اقدار کے کس اعلیٰ مقام پر تھے اور کس درجہ صفائے نیت اور پاکیزگی ئ قلب سے لکھتے تھے، اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ وقت کے شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری کے تذکرے میں انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت نعمانی رحمتہ اللہ علیہ کا نام تک نہیں لیا۔ اگرچہ مولانا نعمانی حضرت رائے پوری کے اس درجے کے خلیفہ ومنظور نظرتھے کہ ایک مرتبہ فرمایا: اگر اللہ نے قیامت کے دن پوچھا کہ میرے لئے کیا لائے ہو، تو دو آدمیوں کا نام لیا کہ ان کو پیش کردوں گا۔ ان میں پہلا نام مولانا منظور نعمانی صاحب کا تھا۔] راوی حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی[۔ کیسی احتیاط اور اعلیٰ معیار کی بات ہے!!
اس سراسر فائدہ وآگہی والی تحریریں ”الفرقان“ اور”ندائے ملت“ کی فائلوں میں دبی ہوئی تھیں۔ بڑا خسارہ ہوتا اگر یہ یونہی دبی رہ جاتیں۔ خصوصا ًاب جب کہ پرانی قیمتی کتابوں اور مجلات کا انٹرنیٹ پر آجانا نہایت آسان ہوچکا ہے، مگران دونوں کی فائلیں ابھی تک نہیں آسکی ہیں۔ اللہ جزائے خیر دے ہمارے عزیز بھائی محمد اویس سنبھلی کو، کہ وہ کئی اور دیگر مفید کاموں کی طرح اس سعادت کی طرف بھی پیش قدمی کرگئے۔محمد اویس سنبھلی ادب وصحافت کی دنیا میں معروف ہیں۔ اپنی تمام مشغولیتوں کے ساتھ وہ علمی وادبی کام کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کرے ان کا ادبی وعلمی سفر تیزگامی سے جاری رہے اور اہل شوق کے لیے وہ گونا گوں تحفے پیش کرتے رہیں۔