باوقار معلم اور باکمال متعلم – محب اللہ قاسمی

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ پٹنہ رہتا تھا۔ یوں تو میری ابتدائی تعلیم اپنے دادی کے ساتھ رہ کر فاطمہ چک میں میرے پہلے استاذ مولوی ہاشم صاحب (نیپالی) کے زیر نگرانی ہوئی۔ قرآن، اردو اور حساب کی ابتدائی چیزیں میں نے ان سے ہی پڑھیں۔ چوں کہ ہم لوگ اکثر پٹنہ میں رہتے تھے اس لیے گاؤں میں بہت کم ہی رہنے کا اتفاق ہوا مگر ایک ایسا زمانہ بھی آیا جب دادی نے مجھے ڈومری مدرسہ پڑھنے کے لیے بھیجا وہ خود ہی میرا ٹیفن تیار کرتیں اور کپڑے کے سلے تھیلے میں کتاب رکھ کر بھیجتی تھیں۔ مولانا جمال الدین صاحب سے عربی، مولانا شاہ عالم صاحب سے اردو اور فارسی پڑھی، کوئی ماسٹر صاحب تھے نام یاد نہیں آ رہا ہے، ان سے حساب وغیرہ پڑھنے کا موقع ملا۔
پھر مدرسہ کی پڑھائی چھوٹ گئی اور ہم لوگ پٹنہ میں رہنے لگے۔ غالباً 97 کی بات ہے جب ہم لوگ پٹنہ چھوڑ کر پوری طرح گاؤں میں شفٹ ہوگئے تو میری تعلیم کے لیے غور ہونے لگا؛ کیوں کہ میں نے پانچویں کلاس تک اسکول میں پڑھائی کی تھی تو آگے کیسے پڑھنا ہے یہ پوری طرح مجھ پر چھوڑ دیا گیا. والد صاحب نے کہا کہ شیوہر اسکول میں ایڈمیشن کرا دیتے ہیں، سائکل سے آنا جانا۔ مگر میں نے انکار کردیا، اس کی وجہ جو مجھے اچھی طرح یاد ہے یہ تھی کہ میں نے اپنے ہم عمر دوستوں کو دیکھا اور کچھ اور بچے تھے کہ وہ گلے میں عربی رومال ڈالے کرتا پاجامہ میں ملبوس ہوتے،وہ بوڑھے لوگوں کو، جو سڑک کے کنارے کھاٹ پر بیٹھے ہوتے، ان کے پاس جاتے، سلام اور مصافحہ کرتے، مجھے ان کی یہ ادا بے حد بھا گئی۔ اگر چہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ مدرسہ میں کس طرح ماں باپ اور گھر خاندان سے دور رہ کر تعلیم حاصل کرنی ہوتی ہے. میں نے ابا سے کہا کہ میں اسکول میں نہیں، مدرسہ میں پڑھوں گا۔ چنانچہ میرے لیے بکسہ پیٹی تیار کر کے مجھے سیتا مڑھی مدرسہ میں داخلہ کرایا گیا، وہاں رہ کر تین سال پڑھائی کی. پھر میں جامع العلوم مظفرپور، مدرسہ قادریہ ہماچل پردیش اور بالآخر دارالعلوم دیوبند پہنچ کر سند فضیلت حاصل کی۔
اس دوران میرے بہت سے مخلص اساتذہ نے میری بہتر تعلیم و تربیت پر زور دیا، میں ان سب کا احسان مند ہوں اور ان کے لیے دعاے خیر کرتا ہوں.

دارالعلوم دیوبند سے فضیلت کے بعد جب میں 2008 میں مرکز جماعت اسلامی ہند سے وابستہ ہوا اور یہاں کے بہت سے مخلص ذمہ داران و کارکنان سے میرا تعارف ہوا تو ان میں سے ایک صاحب کو میں نے بہت ملنسار، خوش مزاج اور مرکز کے تمام کارکنان سے اپنے رشتہ داروں جیسا معاملہ کرنے والا، منکسرالمزاج، عالی ظرف پایا۔ وہ تھے جناب محمد اشفاق احمد صاحب، جو 20 اکتوبر 2018 کی صبح اپنے بہت سے محبین و متعلقین کو روتا بلکتا چھوڑ، اس دار فانی سے رخصت ہو کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے. إنا للہ و انا الیہ راجعون.
جناب اشفاق صاحب سے متعلق تھوڑی سی تفصیلات بھی بیاں کر دوں، آپ شعبۂ تعلیمات کے مرکزی سکریٹری ہونے کے ساتھ رکن مجلس نمائندگان، بانی و صدر الحرا ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی اورنگ آباد اور سابق صدر ایس آئی او بھی رہ چکے ہیں. خلوص و للہیت کے ساتھ اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کی انجام دہی، اللہ پر بھروسہ اور جہد مسلسل میں یقین رکھتے ہوئے آخری سانس تک متحرک رہنے کا عزم اور دوسروں کو ایسے ہی تیار کرنا ان کا خاصہ تھا.
ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ آپ کو عربی زبان سیکھنے کا بہت شوق تھا، جو جنون کے درجے تک پہنچا ہوا تھا. لہٰذا کچھ لوگوں کو جوڑ کر باقاعدہ عربی زبان سیکھنے کے لئے موصوف نے چار لوگوں کا ایک گروپ تیار کر کے ایک ایسے نوجوان استاذ کا انتخاب کیا جس کے آپ خود مربی تھے۔ اکثر دفتر سے نکل کر مسجد جاتے ہوئے اس سے اس کے احوال پوچھتے اور صلاحیتوں کو پروان چڑھانے پر زور دیتے تھے، مرکز جماعت کے کیمپس میں واقع مسجد اشاعت اسلام کے مکتب کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے اکثر اسے مختلف درجوں کے معائنے کا حکم دیتے تھے، جسے وہ بہ رضا و رغبت قبول کرکے اپنے لیے باعث فخر محسوس کرتا. مگر عربی زبان سیکھنے کے لیے انھوں نے اسے حکم نہیں دیا، بلکہ اپنے عالی ظرف ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اس سے کچھ وقت نکالنے کی بات کی اور حسب توقع وہ نوجوان اس کام کے لیے تیار ہو گیا.
اس طرح ایک باوقار مربی نے ایک با کمال متعلم بن کر تقریباً دو سال تک عربی کی بنیادی کتابیں پڑھیں اور قرآن میں غور و فکر کرنے کے لیے سورہ ٔبقرہ کے ابتدائی رکوع کا ترجمہ پورا کیا ۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی تعلیمی خدمات میں لگاتے ہوئے اپنے اس عمل سے یہ ثابت کیا کہ علم حاصل کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ جب بھی موقع ملے کچھ نہ سیکھتے رہنا چاہیے.
راقم کے لیے ان کا دنیا سے رخصت ہوجانا ایک بڑا سانحہ ہے۔ وہ مجھ سے بہت سے نوجوانوں کے معلم و مربی تھے اور مجھ سے عربی سیکھنے والے متعلم بھی. اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میرے تمام فوت شدہ اساتذۂ کرام کی مغفرت فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے اور ہمیں بہترین انسان بنائے اور خدمت دین کی توفیق بخشے آمین. یا رب العالمین.

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*