بطورہندوستانی شہری بابری مسجد کی جدوجہد میں آپ کا کیا کردار ہے؟- محمد مجاہد سید

بحیثیت صحافی ، میں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوں کہ ظفریاب جیلانی ہمارے پورے سیاسی اور قانونی ڈھانچے کے قابل رحم حالات کو عام لوگوں سے بہتر جانتے ہیں۔ وہ نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی عزت بچانے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں بلکہ ہندوستانی عدالتی نظام کی بھی۔ بابری مسجد کا معاملہ انسانیت، جمہوریت اور سیکولرازم کی علامت صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ تمام ہندوستانیوں کے لیے بن گیا ہے۔ ہم سب اس کے لئے ان کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم لوگ ہر معاملہ ظفریاب جیلانی کے لیے چھوڑتے رہیں اور مسلم پرسنل لا بورڈ کو محض ایک غیر فعال تماشائی کی حیثیت سے دیکھتے رہیں؟ مجھے پختہ یقین ہے کہ ہندوستان کے شہریوں کو نہ صرف اپنے جمہوری حقوق کے لئے بلکہ خود جمہوریت کے لئے بھی چوکنا رہنا چاہئے۔ جیلانی اپنا فریضہ بخوبی انجام دے رہی ہیں، وہ وہی کر رہے ہیں جو انہیں کرنا چاہیے ۔ نا ہی وہ اس جدوجہد میں تنہا تھے اور نہ ہی ہیں۔ مقبول و معروف ہندو وکلا نے اس کیس میں حصہ لیا ہے تاکہ وہ ہندوستان کے ٹو ٹے پھوٹے اور مرتے ہوئے سیکولر تانے بانے کو بچا سکیں۔ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل، راجیو دھون، راجو رام چندرن اور دیگر وکلا نے اس کیس میں حصہ لیکرایک سچے محب وطن کی حیثیت سے اپنا نام درج کروا دیا۔
ایک ذمے دار ہندوستانی شہری کی حیثیت سے بابری مسجد سے متعلق جدوجہد کے دوران آپ نے کیا کیا؟ کیا آپ فقط ایک مبصر ہیں؟ کیا آپ نے اپنے گھر اور اپنی عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے کچھ منصوبہ بنایا ہے؟ ہمارے غیر مسلم بھائیوں، کیا آپ بھی ظلم اور ناانصافی کے خلاف اس جنگ میں تعاون کریں گے؟
عرب ممالک اب خود بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کر رہے ہیں۔ یروشلم اور ایودھیا کے معاملے کو دیکھتے ہوئے ان دونوں معاملات میں حیرت انگیز مماثلت موجود ہے۔ کیا اب یروشلم کی بھی اسی طرح جانے کی باری ہے؟
ظفریاب جیلانی کے لیے میری چھوٹی سی تجویز یہ ہوگی کہ وہ خود کو معاشرے کے قریب رکھیں، تاکہ لوگ انہیں صرف مسلم پرسنل لا بورڈ یا بابری مسجد کے معاملے پر کھڑا ہونے والا نا سمجھیں۔ انہیں اپنے آپ کو لوگوں کے ساتھ جوڑنا چاہئے اور ہندوستانی عوام کے ہر مسئلے پہ کھڑا ہونا چاہیے ۔ جہاں تک معاشرے کا تعلق ہے تو اسے انفرادی اور اجتماعی طور پہ اپنے لئے آواز اٹھانی چاہیے ۔ جب ہر ذرہ حرکت میں ہوتا ہے، تو پورا نظام اٹوٹ ہوجاتا ہے۔ ہندوستان، اس کی جمہوریت، ظفریاب جیلانی اور قوم کے لیے میری انتہائی مخلص خواہشات اور دعائیں۔

نوٹ:یہ مضمون بابری مسجد انہدام کی 28 ویں برسی کے موقع پر 6 دسمبر 2020 بروز اتوار ٹائمز آف انڈیا کے ذریعے شائع شدہ ظفریاب جیلانی کے ایک بیان کے حوالے سے لکھا گیا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*