Home خاص کالم باٹا کی کہانی – سرورغزالی

باٹا کی کہانی – سرورغزالی

by قندیل

فیس بک کے دوستو اور قارئین آج ہم آپ کو باٹا پور کی کہانی سنانا چاہتے ہیں۔ دراصل ہم باٹا پور کی کہانی آپ کو اس لیے سنا رہے ہیں کہ ہم خود باٹا پور کے بارے میں کچھ جاننا چاہتے ہیں۔
باٹا کے جوتے آپ سب نے کبھی نہ کبھی ضرور استعمال کیے ہوں گے۔ اور جس طرح ہمارا بچپن باٹا کے شوز پہن کر کھیلتے کودتے گزرا ہے آپ نے بھی
"بچو سیکھو ایک اصول پہلے باٹا پھر اسکول” پر ضرور عمل کیا ہوگا ہے۔
باٹا سے ہماری اس کے علاوہ ایک اور بھی نسبت ہے جس کے بارے میں ہم آپ کو اس مضمون کے آخر میں بتائیں گے۔
باٹا پور کی کہانی کا سلسلہ جوڑتے ہوئے ہم آپ کو اس کمپنی کے اصل ڈانڈے ملاتے ہوئے چیک ریپبلک کے شہر زیلن لیے چلتے ہیں۔
جب تک ہم آپ کو اس شہر کے تمام خوبصورت مقامات سے روشناس کرائیں پہلے آپ کو باٹا کی کہانی سناتے ہیں۔
جوتے کی اس کمپنی کی بنیاد سن 1894 میں ایک تھامس باٹا نامی شخص نے چیک ریپبلک کے گاوں زیلن میں رکھی۔ ان کا خاندان کئی نسلوں سے پاپوش کی تیاری کے ہنر سے نہ صرف بہر آور تھا بلکہ ہنر مندی میں اپنا ایک مقام رکھتا تھا۔
تھامس باٹا نے جوتےکو ہاتھ سے سی کر تیار کرنے والے اس کارخانے کو، اپنے والد کے انتقال کے بعد اپنے ایک بھائی اور بہن کے ساتھ مل کر ایک جدید خطوط پر مشین سے جوتے تیار کرنے کی کمپنی میں بدل ڈالا اور اس کی بنیاد ٹی اینڈ اے باٹا، یعنی تھامس اور اینتھونن باٹا کے نام سے کمپنی کی داغ بیل ڈالی جو اس سے قبل صرف ہاتھ سے جوتے بنانے کا کارخانہ تھا۔ تھامس اور اینتھونن کی بہن انا اس کمپنی کے حساب کتاب کی ذمہ دار تھی۔ اور اس نے اپنی شادی ہونے تک یہ ذمہ داری بخوبی نبھائی۔
تھامس باٹا کی یہ کمپنی یورپ میں اس وقت کی پہلی جدید ترین جوتے بنانے کی کمپنی تھی جو نہایت سے ترقی کرنے لگی۔
کمپنی کی کہانی نہ صرف ایک کمپنی کی تیزی سے ترقی کرنے اور دنیا میں پھیل جانے کی داستان ہے بلکہ اس سے جڑی وہ شعور کی بالیدگی اور سوچ کی اٹھان کا افسانہ بھی ہے، جو معاشی طور پر ترقی کرتے ہوئے انسان کی انسان دوستی اور عام لوگوں کی بھلائی کی کہانی لیے ہوئے ہے۔ تھامس باٹا نے نہ صرف اپنی کمپنی کو ساری دنیا میں پھیلا دیا بلکہ اس نے سب سے پہلے اپنے گاؤں میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس سے انسان کی زندگی میں سہولیات اور کام کرنے والے افراد کی بہتر زندگی کا اغاز ہوا۔ اس نے کمپنی کے کارخانے کے قرب و جوار میں رہائشی مکانات کمپنی کی اعلی عمارت اور کارخانے کی دیگر سہولیات پر خصوصی توجہ دی۔
زیلن شہر میں آج بھی اپنے زمانے کی یورپ کی سب سے بلند عمارت ایک یادگار عمارت کے طور پر محفوظ کر دی گئی ہے جو 1939 میں مکمل تعمیر ہوکر باٹا کمپنی کا صدر مقام قرار پائی تھی۔
اس کے علاوہ یہاں ایک باٹا کے جوتوں کا میوزم بھی ہے۔
زلین نامی یہ شہر دارالحکومت پراگ سے صرف 300 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع آج بھی چیک ریبلک کا معاشی مرکز ہے۔
باٹا کمپنی کے اپنے ملازمین کی سہولیات اور ساری دنیا میں پھیلاو کے ساتھ ساتھ اس کی کلکتہ اور لاہور میں آمد پر معلومات کے لیے تیار رہیں !

You may also like