19 C
نئی دہلی
Image default
تراجم

بات چیت سے حکومت کا تغافل اوردہلی فساد



تحریر: جوہر سرکار(سابق سی ای او، پرسار بھارتی)
ترجمہ: عبدالعزیز

دسمبر کے مہینے میں بنگلہ اخبار (آنند بازار پتریکا) میں میرا ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون میں امتیازات کے خلاف جو احتجاج اور مظاہرے شروع ہوئے ہیں اس کو مودی شاہ کی جوڑی برداشت نہیں کرے گی۔ حالات بگڑ سکتے ہیں اور فرقہ وارانہ فسادات بھی رونماہوسکتے ہیں۔
اب جبکہ فساد ہوچکا ہے اور انسانی جانوں کا اتلاف ہوا ہے،تو اب ہمیں سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہماری لڑائی کس سے ہے اورکس کے خلاف ہے؟ سارے مذاہب کے لوگوں کی طرف سے احتجاج، دھرنے اور مظاہرے پورے ملک میں ہورہے ہیں اور چند ہفتوں سے لوگوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔ اب لڑائی فرقہ پرستی اور آمریت کے خلاف ہے۔ مسلمان جو انتہائی نظم و ضبط، احتیاط اور صبر و تحمل کے ساتھ پر امن طریقہ سے ساری مخالفتوں، تلخیوں اور ناخوشگوار یوں کو برداشت کرتے ہوئے ’سی اے اے، این آر سی اور این پی آر‘ کے خلاف کر رہا ہے۔ اب اسے مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ سڑکوں پر اترے اور کالے قانون کے خلاف مخالفت درج کرائے۔ اس وقت وہ نشانے پر ہے۔
گزشتہ پانچ ساڑھے پانچ سال سے مسلمانوں کو ہر طرح سے دبایا، مارا پیٹا اور ستایا جارہا تھا۔ جیسے ہی ان لوگوں نے سڑک پر مظاہرے شروع کئے، سیکولر انڈیا نے ان کا دل و جان سے ساتھ دینا شروع کردیا۔ یہی سیکولر انڈیا ہے، جس نے اکثریت کے ظلم و جبر کی آندھی اور تاریکی کو تہس نہس کیا ہے۔ تاریکی چھٹ گئی اور اتحاد و اتفاق کا چراغ روشن ہوا ہے۔ جس چیز نے لوگوں کو دلدادہ اور گرویدہ بنالیا وہ ہے عام مسلم گھریلو عورتیں اپنے بچوں اور ناراض دکھی نوجوان پڑھی لکھی لڑکیوں کے ساتھ جو کبھی بھی اقتدار کی طاقت و اختیارات کے خلاف میدان میں نہیں اتری تھیں مردِمیدان بن گئیں اور اس لڑائی کی رہبری اور رہنمائی کرنے لگیں۔ یہ کریڈٹ ان کو بھی جاتا ہے جو پہلی مرتبہ حکومت کی غلطیوں کے خلاف سڑکوں پر اترے ہیں جنھوں نے خوف و دہشت کو شکست فاش دے دی۔ یہی چیز حکمراں جماعت کیلئے دردِ سر بن چکی ہے۔ اب ہندستان کی ایک تاریخ بن چکی ہے جسے کوئی فراموش نہیں کرسکتا کہ سکھ اور ہندو جنھوں نے احتجاجیوں کے ساتھ یکجہتی کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ کھانے کا سامان اور کمبل کی سپلائی کی اور لنگر جاری کیا کپکپاتی اور لرزہ خیز ٹھنڈک میں۔ شاہین باغ سے پارک سرکس تک سیکڑوں مقامات پر دھرنے اور مظاہرے کا اہتمام و انعقادہونے لگا۔ لاتعداد ہندو، سکھ، بدھسٹ، عیسائی مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی اور امتیازکے خلاف کھڑے ہوگئے۔
ملک میں دس بارہ ہفتے سے جو کچھ ہوا اسے گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھنا اہم ہے کہ جمہوری راستے سے جو بات چیت اور مکالمہ کا ہوتا ہے اسے رد کرکے دہلی کا فساد پہلا رد عمل ہے۔ اس رد عمل سے ظاہر ہوا کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ نقاب پوش جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں اختلاف اور انحراف کو دبانے کیلئے مسل پاور اور غنڈہ گردی کا بے دریغ استعمال کئے۔ یہ پہلا ’پی پی پی‘ (Private Public Partnership) ماڈل ٹیلر (فلم کا نمونہ) ہے جو اس علاقہ کیلئے تھا۔ اس نئے ماڈل میں تجربہ کار مجرموں نے تشدد اور دہشت گردی کا مظاہرہ کیا۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ ثابت کیا گیا کہ ان کو ہنگامہ آرائی اور تشدد کرنے کی پوری آزادی ہوگی اور پولس کی انھیں سیکوریٹی بھی فراہم کی جائے گی۔حکمراں یہ بھی چاہتے ہیں کہ جج بھی ان کے وفاداروں میں سے ہوں، ورنہ ان کو ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔ پی پی پی کو پھر کچھ مخصوص جگہوں میں بھیجا گیا، جیسے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور گوہاٹی، بنگلور، لکھنؤ، چنئی جیسی جگہوں میں یہ تشدد دہراتے گئے اور پولس نے خوشی میں آتش بازی کی۔ یہ مودی کا انڈیا نمبر 2ہے۔
ڈکٹیٹر اندرا گاندھی نے اپوزیشن کو بالکل کچل دیا تھا اور یہ سچ ہے کہ اس نے سازش کا جال بچھا دیا تھا، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جس نظام نے اسے سنبھالے رکھا تھا وہ زہر آلود (Poisoned) نہیں ہوا تھا لیکن یہ کیمو تھیراپی (Chemotherapy) ہے اسے برسوں باقی رکھے گی۔نریندر مودی کے بعد بھی یہ ایک بھیانک خواب بنا رہے گا۔ یہ پہلی بار ہے کہ فرقہ پرستی کو اس قدر عزت بخشی جارہی ہے جس سے آنے والے دنوں میں ہندستان میں رینگنے والے جانوروں کے بے شمار سوراخ ہوجائیں گے جو زیر زمین رہ کر لوگوں کو ڈستے رہیں گے۔ دوسرا اہم فرق یہ ہے کہ نہرو اور واجپئی کو جو ذمہ داری کا جمہوری احساس اور شعور تھا آج کے حکمراں اس سے نابلد ہیں۔ کوئی نہیں چاہتا ہے کہ یہ کس طرح تباہ و بربادکر دیں گے؟ آمر اندرا گاندھی کو 1977ء کے الیکشن میں شرمناک ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔
اس سے پہلے ہندستانی شہریوں کو ہتھیار بند فوج اور سلطنت کو پرستش کرنا نہیں سکھایا گیا۔ یہ چیز اس حکومت کے اندر شروع ہوئی ہے۔ یہ محض اس لئے ہے کہ جنگ آزادی پر پردہ پڑ جائے (کیونکہ سنگھ پریوار والوں نے آزادی کی لڑائی میں حصہ نہیں لیا بلکہ حکومت برطانیہ کی وفاداری کی)۔دراصل ملک گیر سطح پر شہریت کے غلط ترمیمی قانون کے مخالفین کے خلاف حکمراں جماعت نے بہت جلد حالیہ فساد کے ذریعہ اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔ دہلی کے ووٹروں نے حالیہ اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کو رر کر دیا۔ حکمرانوں نے اپنی بے اطمینانی اور غیر تشفی کا رد عمل بھی ظاہر کیا ہے۔
آپ غور کریں کہ ہندو، مسلم دہشت گردی کے سامنے کس قدر بے یار و مددگار تھے۔ پولس محکمہ کے دواہلکاروں کی موت اس کا بین ثبوت ہے۔ قومی سطح پر اس حقیقت سے احتراز کیا گیا کہ خاص طور سے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ فساد کو ڈیلنگ (Dealing) کرنے کا جسے تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ اطلاع جمع کرنا کتنا اہم کام ہے، جیسے ہی فساد کا پہلا دھواں شروع ہوتا ہے اگر تیزی کے ساتھ گرفتاریاں بغیر تاخیر کے ہوجائیں تو علاقہ تباہی و بربادی سے بچ سکتا ہے۔
23فروری کو بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا کو جعفر آباد اور چاند باغ کے مظاہرین کے خلاف جارحانہ پروپیگنڈہ کرنے کی کھلی چھوٹ (Freehand) دے دی گئی، اس کے بعد ہی حملے شروع ہوئے۔ نمایاں طور پر ایک چھوٹے سے علاقے شمال مشرقی دہلی تک میں محدود رہا۔ اس علاقہ کو مقامی زبان میں جمناپار کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ اس علاقہ میں دس فیصد ووٹر اور سیٹیں جمنا کے کنارے کنارے پائی جاتی ہیں۔ بی جے پی کو آٹھ اسمبلی سیٹوں میں سے چھ سیٹیں اسی علاقے سے ملی ہیں۔ جو علاقے تباہ و برباد ہوئے مثلاً موج پور، کرنول نگر، سیلم پور، بھجن پورہ یہاں بی جے پی کا بہت ہی غلبہ (Stronghold) ہے۔ اسی علاقہ میں سنگھ پریوار والوں نے زیادہ تر مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنایا اور یہیں پر پولس تماشائی بنی ہوئی تھی۔ کپل مشرا کی تقریر اور ٹوئٹس نصف درجن سے زیادہ ہیں جو قابل جرم سزا ہیں۔ ’گولی مارو……‘ کا نعرہ بی جے پی کے انوراگ ٹھاکر نے شروع کیا تھا، اس نے اس کی حمایت کی تھی۔ اب یہ آر ایس ایس اور بی جے پی کا پکا عقیدتمند بن چکا ہے، اسے استثنائی حیثیت (Impunity) دی جارہی ہے۔ اب اسے تیزی کے ساتھ ریاستی سطح سے قومی سطح کا لیڈر بنانے کی کوشش ہورہی ہے کیونکہ اس نے کامیابی کے ساتھ خون خرابے اور فساد کا تجربہ کیا ہے۔
اگر دہلی کے جج صاحبان زہرآلود تقریروں کے ویڈیو کو نہیں دیکھیں گے اور سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان اگر دہلی پولس کی کارکردگی کی سختی سے مذمت نہیں کریں گے تو فساد بغیر کسی رکاوٹ کے ہوتا رہے گا۔
اس لمبے بحران کو مختصر طورپر لکھنا آسان نہیں ہے۔ ہم لوگوں کو منصوبہ بند گرفتاریوں سے اپنے آپ کو بچانا ہوگا اور پھر اسٹیٹ کے دورہ دوم کی دہشت گردی شروع ہوجائے گی۔ غیر سیاسی مظاہرے عوامی چندے سے محدودپیمانے پر ہی ممکن ہے، لیکن یہ یاد کرنے کے قابل ہے کہ یہ صرف احتجاج نہیں ہے۔ فلاسفر روسو کے الفاظ میں ”یہ عام آدمیوں کی خواہش ہے“ (This is the will of Common masses)۔ یہ در اصل فرقہ پرستانہ دہشت گردی کا بہت ہی انتظارکے بعد جواب (Much awaited Answer) ہے۔ پولس نے اپوزیشن کو کچلنے کی لمبی چال چلی ہے۔ CCTV کیمرہ کو بھی تہس نہس کر دیا تاکہ ثبوت باقی نہ رہے۔ عام طور پر جو پولس کا ہتھیار نہیں ہوتا وہ مظاہرین جو رکھتے ہیں وہ بھی پھینک دیتے ہیں۔
ہم لوگ ایک تاریخی واقعہ کی گواہی دے رہے ہیں جب سوسائٹی فرد کو کچل دیتی ہے۔ اس وقت فرقہ یا کمیونٹی سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہوجاتا ہے جہاں ہنسی مذاق، آنسو، غم اور خوشی کے لمحات ایک دوسرے سے بانٹے (Share) جاتے ہیں۔ کچھ پوجا کے خیمے (Pavilions) کمیونٹی کے اس استحکام کی عکاسی کرتے ہیں مگر مظاہرے کی حکمت عملی بہت ہی گہری ہوا کرتی ہے۔ احتجاج ایک کلچر ہے یہ آناً فاناً جنم لیتا ہے۔
احتجاج کی پیاری نظمیں، نغمے اور طنزیہ نعرے ہر جگہ ہر مقام پر سنائی دیتے ہیں۔ دیوار پر تیز و طرار تحریریں اور مقبول و محبوب فن اور آرٹ طاقت کو پاش پاش کر دیتی ہے۔ یہ سب ثابت کرتے ہیں کہ فرد کی بڑی اہمیت و طاقت ہوتی ہے اور اس کا مفاد مفادِ عظیم کا حامل ہوتا ہے۔وہ آخری دم تک لڑنے کیلئے تیار ہوتا ہے۔ انجام جو بھی ہو جیسا بھی ہو اس کی اسے پرواہ نہیں ہوتی۔

E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں ہے)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment