بات بس اتنی سی ہے- کامران غنی صبا

کلمہ طیبہ ایک رسید ہے کہ آپ کو داخلہ مل گیا اب اس کے بعد آپ کو نصاب پڑھنا ہے، امتحانات دینے ہیں تب کہیں جا کر آپ کو "تکمیل” کی سند ملے گی۔ اب اگر کوئی طالب علم صرف رسید لے کر خود کو سند یافتہ سمجھنے لگے تو اسے نادان سمجھا جائے گا۔
ایسا ہی کچھ معاملہ عبادات کا ہے۔ عبادات صرف حاضری Attendance ہے کہ میں حاضر ہوں، جس طرح صرف سو فیصد حاضری درج کر لینے سے کوئی طالب علم ضروری نہیں ہے کہ کامیاب ہو ہی جائے اسی طرح صرف عبادات کامیابی کی ضمانت نہیں ہو سکتیں، حاضری تو سب سے نچلا درجہ ہے کہ آپ نے پچھتر فیصد حاضری درج کر لی اب آپ امتحان میں بیٹھنے کے اہل ہو گئے۔اس سے کم حاضری ہوتی تو امتحان میں بیٹھنے ہی نہیں دیا جاتا۔ اصل مرحلہ تو اس کے بعد کا ہے کہ آپ صرف حاضر ہوتے رہے یا نصاب کو پڑھا اور سمجھا بھی۔ اب اگر ہم یا آپ صرف حاضری (عبادات) کو ہی ضروری سمجھتے رہے، اصل چیز یعنی نصاب syllabus پر کوئی توجہ ہی نہیں دی کہ نصاب میں معاملات بھی ہیں، اخلاقیات بھی ہیں، حقوق العباد بھی ہیں،تو ہماری حالت بھی اس طالب علم جیسی ہوگی جو اسکول میں صد فی صد حاضری کے باوجود امتحان میں فیل ہو جاتا ہے۔
بس یہی مسئلہ ہم میں سے بیشتر کا ہے۔ ہماری ساری توجہ حاضری پر ہے۔ یعنی عبادات میں تو ہم کسی سے پیچھے نہیں ہیں لیکن معاملات ہمارے ایسے ہیں کہ بھائی بھائی کو دیکھنا گوارا نہیں کرتا، ہماری کوئی محفل غیبت سے خالی نہیں، ہم میں سے ہر شخص کے پاس ایک دوسرے کے لیے شکایتوں اور کدورتوں کی دنیا آباد ہے۔ عفو و درگزر، عاجزی و انکساری، خلق خدا کے لیے خدمت کا جذبہ، یہ سب معاملات ہیں، عبادات اس نقطہ نظر سے آسان ہیں کہ ان میں اپنی انا کو کچلنا نہیں پڑتا ہے، پیسے نہیں لگانے پڑتے، زیادہ دوڑ بھاگ کی ضرورت پیش نہیں آتی لیکن جیسے ہی ہم "معاملات” کی سرحد میں قدم رکھتے ہیں گھر سے لے کر باہر تک مختلف قسم کے چیلنجز ہمارے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں، نماز میں اگر ہم سے غلطی ہو جائے تو ہم سجدہ سہو کرتے ہیں کہ اللہ پاک مجھے معاف کر دیجیے، کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کبھی کسی کی انا نے اسے سجدہ سہو کرنے سے روکا ہو؟ سجدہ سہو کیا ہے "اقرار جرم” ہے۔ اقرار جرم کے بعد جھک جانا ہے،غلطی تسلیم کر لینا ہے،ہم نماز میں غلطی ہونے پر بہت آسانی سے سجدہ سہو کر لیتے ہیں، لیکن جیسے ہی بات معاملات کی آتی ہے تو انسان کی انا سر اٹھانے لگتی ہے کہ دیکھو اگر تم نے غلطی کی بھی ہے تو جھکنا ہرگز نہیں ہے ورنہ دنیا کیا کہے گی؟
تو بس بات اتنی سی ہے کہ ہم اس زمانے میں پیدا ہوئے ہیں کہ جس زمانہ میں اہمیت صرف حاضری کی ہے، اسی لیے مسجدیں تو بھری پڑی ہیں،مگر دل کی دنیا میں ویرانی ہی ویرانی ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*