بات اور بڑھی تو بڑا نقصان ہوگا-محمد اویس سنبھلی

گذشتہ۶۷؍دن سے کسان عدم تشدد کے ساتھ منظم انداز میں حکومت کے بنائے ہوئے نئے ’زرعی قانون‘ کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ اس درمیان سو سے زیادہ لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ لیکن حکومت انھیں یکلخت نظر انداز کررہی ہے۔افسوس! میڈیا جسے جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، اس نے حکومت کی آواز میں آواز ملا کر بلکہ اسے سے کہیں آگے بڑھ کر اپنے ہی ملک کے ان کسانوں کو دہشت گرد تک کہہ دیا اور ان کے تار ’خالستان‘ تحریک سے وابستہ افراد کے ساتھ جوڑ دیے۔معروف دانشور میلکم ایکس نے لکھا ہے کہ ـ’اگر آپ ہوشیار نہیں رہیں گے تو اخبار (میڈیا) آپ کو ان لوگوں سے نفرت کرنا سکھا دیں گے جن کو ہراساں کیا جارہا ہے اور ان لوگوں سے پیار کرنا سکھا دیں گے جو ہراساں کررہے ہیں‘۔ ہمارے ملک کا میڈیا بالکل اسی ڈگر پر ہے۔آپ غور کیجیے کہ گذشتہ ۶؍برس سے وطن عزیز میںکیا ہورہا ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں پر پردہ ڈالنے میں میڈیا پیش پیش رہتا ہے۔اس کی خامیوںکو چھپانے کے لیے خبر کا رُخ دوسری طرف موڑنے کی ہرممکن کوشش کی جاتی ہے اور جو بھی حکومت کے خلاف یا اس کے کسی فیصلے، غلط پالیسی نیز پارلیمنٹ میں محض تعداد کی بنیاد پر بن رہے نئے نئے قوانین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے، اسے سیدھے ’دہشت گرد‘ قرار دے دیا جاتا ہے اور ملک سے غداری کے مقدمات اس کے خلاف دائر کردیے جاتے ہیں۔
۲۶؍جنوری یعنی’گڑتنتر دیوس‘ کی صبح صدر جمہوریہ ہند اور وزیر اعظم کی موجودگی میں دنیا ہماری طاقت اور ہندوستانی تہذیب و تمدن کے الگ الگ رنگوںکوبہ نظرِغائر دیکھ رہی تھی۔ اس وقت کسی کے ذہن میں شاید ہی یہ بات آئی ہو کہ اب سے چند گھٹنے بعدملک کے کسان مرکزی حکومت کی من مانی اور صدارتی حکم نامے کے ذریعے سے نافذکیے گئے تینوں زرعی قوانین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے نیز اپنی طاقت دکھانے کے لیے کسان ٹریکٹرپرسوار ہوکر دہلی کی چنندہ سڑکوں پر ’ٹریکٹر پریڈ‘ نکالیں گے تو انھیں کسانوں کے درمیان میں چند ایسے شر پسند عناصر شامل ہوجائیں گے جو حالات کو بگاڑنے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔ یہی ہوا بھی کہ ان شر پسند عناصر نے حالات ایسے کردیے کہ نہ ’گَڑ‘ کا پتا ررہانہ ’تنتر‘ کا اوررہی بات ’دیوس‘کی تووہ تو یوں بھی تاریخی ہی بن گیا۔
۲۶؍جنوری کو جو کچھ ہوا وہ غلط تھا، اس کے لیے جو لوگ بھی ذمہ دار ہیں ، انھیں یقینا سزا ملنی چاہیے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے؟ کیونکہ اس دن جو کچھ غلط ہوا ، وہ تو حکومت کی منشا پر ہوا۔ جن لوگوں نے کیا ان کا تعلق سیدھے اعلیٰ حکام سے تھا۔ ۱۲؍بجے سے لے کر ۴؍ بجے تک پوری دنیا نے ہمارے ملک کا تماشہ دیکھا۔ شر پسند عناصر نے کسانوں کا بھیس اختیار کرکے کس طرح دہلی پولیس اور فوجی دستوں کی پٹائی کی وہ منظرنہ صرف شرمناک تھابلکہ قابل مذمت بھی۔ہم نے دیکھا کہ کسانوں کے نام پر اس احتجاج میں شامل ہوئے یہ شرپسند عناصر سیدھے ’جوانوں‘ کے سامنے تھے اور ’جے جوان ، جے کسان‘ نعرے کی دھجیاں اُڑا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ’لال قلعہ‘ کے اندر ان لوگوں کا پہنچ جانا نیز ترنگے کے قریب ’نشان صاحب‘ یا’ کسان تحریک ‘کا جھنڈا لگا دینا تو ہندوستان کی عزت کے ساتھ کھلواڑ سے کسی طور کم نہیں ۔ میں نے جس وقت ان شر پسند عناصر کے ذریعہ کیے گئے لاٹھی چارج سے بھاگتے اورلال قلعہ کی دیواروں سے گودتے پولیس اہلکاروں کو دیکھا تو تو میرا جسم کپکپانے لگا۔سردی کے اس موسم میں جسم کے جس حصہ پر لاٹھی پڑی ہوگی وہ خواہ جوان کے پڑی ہو یا کسان کے یاکسان کے بھیس میں شریک ہونے والے کسی بھی شخص کے، اس کی تکلیف کا اندازہ کرپانا بھی ہمارے لیے مشکل ہے۔
میں اس منظر کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرا ذہن ’فلیش بیک‘ میں چلا گیا۔بہت پیچھے نہیں بس ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ ۔ میں نے اپنی آنکھوں کو بند کیا تو مجھے یہی دہلی پولیس نظر آئی ، اس وقت بھی ان کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں، تعداد بھی اتنی کہ جیسے کسی جنگ کے لیے جارہے ہوں ۔ میری آنکھوں کے سامنے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا گیٹ تھا۔ کس بے دردی سے دہلی پولیس نے جامعہ کے نونہالوں پر لاٹھیاں برسائی تھیں، آنسوں گیس کے گولے داغے تھے۔حد تو اس وقت ہوگئی جب لائبریری میں پڑھائی کررہے بچوں کو بے دردی سے مارا پیٹا گیا، انہیں بری طرح زخمی کردیا گیانیز لائبری کے ہر حصہ کو نقصان پہنچایا گیااورلڑکیوں کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے حد سے زیادہ بدتمیزی کی تھی۔ میرا ذہن اسی میں الجھا ہوا تھا کہ اچانک پولیس کو چیلنج کرتی ہوئی چندایادو کی تصویر میرے ذہن میں ابھری ، پھر عائشہ اور لدیدہ فرزانہ کا اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے پولیس سے لڑجانے والی تصویرسے پل بھر کے لیے سکون ملا ہی تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ہوئے دل دہلا دینے والے واقعات ذہن کے پردے پر تازہ ہونے لگے اور میں سوچنے لگا کہ اس ملک کی پولیس کے دو رُخ کیسے ہوسکتے ہیں؟۔ کل یہی پولیس ظلم ڈھا رہی تھی، بے جا ظلم۔ آج مظلوم کیسے ہوگئی؟ میں اس سوال کا جواب تلاشنے میں لگاہی تھا کہ داڑھی بڑھا کر ٹیگور کی شکل اختیار کرلینے والے ایک شخص کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے آگئی اور مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔
میں سوچتا ہوں کہ ۲۶؍جنوری ۲۰۲۱ء کے دن دہلی میں جو کچھ ہوا اگر اس واقعہ کا تعلق مسلمانوں سے ہوتا تو بنا کچھ سوچے سمجھے شوٹ ایٹ سائٹ کے آرڈر دے دیے گئے ہوتے ۔ دہلی کی سڑکوں پر خون کی ندیا بہہ گئی ہوتیں۔ لیکن یہاں معاملہ دوسرا تھا، مسلمان دور دور تک اس میں شامل، اُس وقت نہیں تھے۔ لہٰذاخیال تو رکھا گیا لیکن گولی تو یہاں بھی چلی اور ایک کسان کے ماتھے پرجالگی۔ یہ کسان اسی وقت موت کے آغوش میں سوگیا۔پھر مجھے خیال آیا کہ آج جس فکر کے لوگ پورے ملک پر حاوی ہونے کی کوشش کررہی ہے یہی تو وہ فکرہے جس نے گاندھی پر بھی گولی چلائی تھی۔بس! میرے ذہن میں سردار پٹیل کے یہ جملے گردش کرنے لگے کہ ’۔۔۔اس نے گولی کس کے اوپر چلائی؟ اس نے ایک بوڑھے جسم پر گولی نہیں چلائی ، یہ گولی تو ہندوستان کی ’دھڑکن‘ پر چلائی گئی ! اور اس سے ہندوستان کو جو بھاری زخم لگا ہے، اس کے بھرنے میں بہت وقت لگے گا۔ بہت برا کام کیا! لیکن اتنی شرم کی بات ہوتے ہوئے بھی ہمارے بدقسمت ملک میں کئی لوگ ایسے ہیں ، جو اس میں بھی کوئی بہادری سمجھتے ہیں یا خوشی کی بات سمجھتے ہیں ۔ جو ایسے پاگل لوگ ہیں وہ ہمارے ملک میں کیا نہیں کریں گے؟ اور جب گاندھی کے تن پر گولی چل سکتی ہے تو سوچئے کہ کون سلامت ہے؟ اور کس پر گولی نہیں چل سکتی؟‘‘
گوڈسے کی فکر سے متاثر افراد ،خواہ ان کا تعلق عوام سے ہو یا اقتدار اعلیٰ سے ، ہم صرف اتنا کہنا چاہتا ہیں کہ فی زمانہ حکومتیں عوام کی مرضی اور ان کی رائے کے احترام کے ساتھ ہی چل سکتی ہیں ۔ عوام کی رائے کو سرے سے نظر انداز کردینا سوائے اناپرستی کے کچھ نہیں ۔ یہ دور ہٹلر، مسولینی کا دور نہیں ہے بلکہ رائے عامہ کے احترام اور افہام و تفیم کا ہے لہٰذا کسانوں سے نتیجہ خیز بات چیت کا استقبال کیا جاسکتا ہے لیکن اگر کسانون کو عدالتوں میں الجھا نے کی کوشش کی گئی تو اس سے انتشار پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جائے گا ۔ ہمارے نزدیک کسانوں کے ساتھ حکومت کے اس رویہ کا ایک مطلب یہ بھی سمجھ میں آرہا ہے کہ اگر حکومت کسانوں کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے تینوں زرعی قانون منسوخ کردیتی ہے تو مستقبل قریب میں سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے سلسلہ میں بھی حکومت کو قانون واپس لینا پڑے گا، ورنہ شاہین باغ اور اس کے طرز پر پورے ملک میں چلنے والی تحریک جووبائی مرض کورونا کی وجہ سے وقتی طور پر احتیاط میں ہے، دوبارہ زور پکڑسکتی ہے ۔اس شدیدخوف نے ہی حکومت کو کسانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کرنے پر مجبور کردیا۔ بقول فاروق ارگلی ’معاملہ یہیں پر سلٹا لیں سرکار جی۔۔۔بات اور بڑھی تو بڑا نقصان ہوگا‘‘۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)