بشیر بدر :منزل پہ حیات آکے ذرا تھم سی گئی ہے-ضیافاروقی

یادش بخیر ساتویں دہائی کے آس پاس ہم طالب علموں کو جن شاعروں کا کلام بہت متاثر کرتا تھا ان میں بشیر بدر کا نام یقیناٗ اہم ہے ۔ اس زمانے میں جہاں ایک طرف اختر شیرانی، ساحر لدھیانوی ،مجاز ،جاں نثار اختر اور فیض جیسے رومانی شعراء کی نظمیں ہماری محفلوں کی زینت بنتی تھیں وہیں دوسری طرف بشیر بدر کے اس طرح کے اشعار بھی نوک زبان پر رقص کرتے رہتے تھے :

آنکھیں آنسو بھری پلکیں بوجھل گھنی جیسے جھیلیں بھی ہوں نرم سائے بھی ہوں

وہ تو کہئے انھیں کچھ ہنسی آ گئی بچ گئے آج ہم ڈوبتے ڈوبتے

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

بے وقت اگر جاؤں گا سب چونکہ پڑیں گے

اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا

مری نگاہ مخاطب سے بات کرتے

تمام جسم کے کپڑے اتار لیتی ہے

دراصل بیسویں صدی کے نصف آخر کی پہلی دہائی میں اردو زبان و ادب میں جو تغیر اور تبدل کی فضا قائم ہوئی اور خصوصا٘ غزل جس نئے رنگ و آہنگ کے ساتھ ابھر کر سامنے آئی اس نے جدیدیت کے حوالے سے شاعروں کے ایک بڑے طبقہ کو متاثر کیا ۔ اس طبقہ میں وہ نسل بھی تھی جس کی تحویل میں غزل کی کلاسیکی اقدار بھی تھیں اور جدید علامتوں اور استعاروں کا ایک وسیع اور شاداب جہاں بھی ۔ ناصر کاظمی ،منچندا بانی ، زیب غوری ،شہریار ،عرفان صدیقی ظفر اقبال اور بشیر بدر وغیرہ اسی فکر کے نمائندہ شاعر ہیں ۔ بشیر بدر ان معنوں میں خوش قسمت ہیں کہ انھیں شروع سے ہی اہم ادبی شخصیات کا ساتھ ملا اور اس عہد کے تمام بڑے ادبی رسائل میں اپنا کلام شائع کرانے کے مواقع ملے ، یہی وجہ ہے کہ نوجوانی میں ہی ان کئ شاعرانہ حیثیت اتنی مستحکم ہوچکی تھی کہ شعر وادب کی مقتدر شخصیات کے درمیان بھی ان کے اشعار موضوع گفتگو رہتے ۔ان کی غزل علی گڑھ یونیورسٹی کے ایم اے کے نصاب میں اس وقت بھی داخل تھی جب وہ خود علی گڑھ گریجویشن کرنے پہنچے۔

یہ ایک کلیہ ہو یا نہ ہو لیکن عام طور پر ہر فنکار کی زندگی میں پندرہ بیس سال ایسے ضرور ہوتے ہیں جب وہ اپنی تخلیقی توانائیوں کا بھرپور استعمال کرتا ہے اور پھر یہی سرمایہ اس کی ادبی شناخت کا ضامن بن جاتا ہے ۔ میں یہ تو نہیں جانتا ہوں کہ ان کے مقبول عام اشعار کا دورانیہ کیا ہے لیکن یہ سچ ہے کہ علی گڈھ جانے سے قبل بھی وہ اپنی ایک شناخت بنا چکے تھے پھر علیگڈھ میں تعلیم کے دوران جہاں انھیں ایک بیحد شاداب ماحول ملا وہیں آل احمد سرور اور خلیل الرحمان اعظمی ،رشید احمد صدیقی اور قاضی عبدالستار جیسے ثقہ حضرات کی قربت نے سونے پر سہاگےکا کام کیا چنانچہ وہاں رہتے ہوئے انھوں نے اپنی فکری صلاحیتوں کا بھرہور استعمال کیا ، پھر میرٹھ میں قیام کے دوران ملک اور بیرون ملک کے مشاعروں نے انھیں بیحد فعال رکھا مگر دیکھا جائے تو میرٹھ میں قیام کے دوران وہ جہاں پزیرائی سے تشہیر تک کی بلندیوں تک پہنچے وہیں ذہنی شکست و ریخت سے بھی دوچار ہوئے ۔ پہلی بیوی کا انتقال ،اور فسادات میں گھر کی بربادی کا احساس ایسا تھا کہ وہ شاعرجو تعلیمی دور سے ہی اپنے اسلوب اور لفظیات سے جدید شعری منظرنامے کو نیا رنگ و روغن عطا کررہا تھا ذہنی انتشار کا شکار ہوگیا ۔حالانکہ بعد میں وہ اس صدمہ سے ابھر آئے اور انھوں نے اپنی بساط غزل کو اسی طرح خوش رنگ بنائے رکھا جو ان کا خاصہ تھا لیکن فکری طور پر تبدیلی کی ایک تہہ نشیں لہر کا احساس بھی ہوتا ہے جو بہرحال خصوصی مطالعہ کا متقاضی ہے کیونکہ دیکھا جائے تو ان کے زبان زد اور مقبول اشعار وہی ہیں جو انھوں نے ملازمت کے ابتدائئ عہد سے لے کر میرٹھ کے قیام کے دوران تک کہے تھے ۔

بشیر بدر کے شعری سروکار کے مطالعہ میں ان کی مشاعروں میں مقبولیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ مشاعروں میں ان میں ان کا خصوصی ترنم ان کی حاضر جوابی اور وہ اشعار جو زبان سے نکلیں اور سامع کے دل میں پیوست ہوجائں یقینا٘ اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس روش نے جہاں ایک وسیع حلقہ کو ان کا گرویدہ بنادیا وہیں مشاعروں کی اہمیت اور افادیت میں بھی اضافہ کیا ۔ روزمرہ کے عام الفاظ کو تخلیقی سطح پر برتنے کا ہنر بشیر بدر کوخوب آتا ہے۔انھوں نے عربی فارسی کے ثقیل الفاظ یا تراکیب سے شعوری طور پر اجتناب کرتے ہوئے انھی لفظوں سے،پیکر تراشی کی جو آج کی روزمرہ زندگی میں مستعمل ہیں:

یہ مرا عہد ہے کہ میں آج سے کوئی منظر غلط نہ دیکھوں گا

میری بیٹی نے مری پلکوں کو بڑی پاکیزگی سے چوما ہے

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی

کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

چراغوں کی لو سے ستاروں کی ضو تک

تمھیں میں ملوں گا جہاں رات ہوگی

دنیا ہے بے پناہ تو بھر پور زندگی

دو عورتوں کے بیچ میں لپیٹا ہوا ہوں میں

کتنے ہی لوگ چوم کے فنکار ہوگئے

جس ریشم لحاف میں لپیٹا ہوا ہوں میں

یہاں یہ تذکرہ غالبا٘ غیر ضروری نہ ہوگا کہ بشیر بدر صاحب بسلسلۂ اعلی تعلیم علی گڑھ جانے سے قبل یو پی پولس میں تھے اس سلسلے میں کئی اضلاع مثلا٘ فتحپور ،الہ آباد ، لکھیم پور ،سیتاپور وغیرہ میں بھی کار منصبی انجام دیتے رہے ۔ اور ہر جگہ بحیثیت شاعر بھی مقبول و محترم رہے ۔ ان کی طرز آفرینی اور شستہ بیانی کا اعتراف ان علاقوں کے صاحبان علم وادب اس وقت بھی کر رہے تھے اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ لکھیم پور کھیری کے تعلقدار خاں بہادر سید مسعود حسن ریٹائرڈ ڈپٹی کلکٹر نے تاریخی قطعات پر مشتمل اپنی کتاب "عندلیب التواریخ ” مطبوعہ 1963 عیسوی میں جہاں ملک کی اہم شخصیات کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کے قطعات تاریخ لکھے ہیں وہیں بشیر بدر کا قطعہ تاریخ پیدائش بھی صفحہ نمبر 91 پر درج کیا ہے ۔۔ اس قطعہ سے جہاں بشیر صاحب کی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں ان کے،سنہ پیدائش کا علم بھی ہوتا ہے :

مذاق خاص میں ہوتا ہے شعر کا عنواں

ہیں ایک شاعر طرز آفریں و شستہ بیاں

یہ ان کا سال ولادت ہے عیسوی مسعود

"بشیر بدر علو ہمت و گہر افشاں”

آخری مصرع سے 1932 نکلتا ہے جبکہ آجکل ان کی تاریخ پیدائش 1935 لکھی جارہی ہے ۔وللہ اعلم

بشیر صاحب کی دوسری شادی 1988 میں بھوپال کے ایک معزز گھرانے میں سید فتح علی کی صاحبزادی راحت سلطان کے ساتھ ہوئی اور اس طرح وہ 1994 میں مستقل قیام کی غرض سے بھوپال آگئے ۔ ہرچند کہ ادھر کئی سال سے اپنی علالت اورضعف یادداشت کے سبب وہ مجلسی زندگی سے دور ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آج بھی ان کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے جو ان کو قریب سے دیکھنے یا ان کے ساتھ فوٹو کھنچوائے کی متمنی رہتی ہے یہ الگ بات کہ آج جب انھیں دیکھتا ہوں تو خود ان کا ایک شعر ذہن کے کسی گوشے میں روشن ہوجاتا ہے :

منزل پہ حیات آکے ذرا تھم سی گئی ہے

معلوم یہ ہوتا ہے بہت تیز چلی ہے

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)