بشر کو مار دیتا ہے بہت حساس ہونابھی!

ثمریاب ثمر

بہت زیادہ حساس طبیعت بھی انسان کو تباہ بنا دیتی ہےـ جمعہ کے روزایک بہت پرانی موٹر سائیکل ہیرو ہونڈا اسپلینڈر 1998 موڈل لیکر گھر سے سہارنپور کے لیے روانہ ہواـ ہیلمیٹ کی ضرورت محسوس نہیں کی، وہ اس لئے کہ اتنی پرانی بائک پر ہلیمیٹ پہن کر بیٹھنا کہیں عار کا باعث نہ بن جائے،یعنی کوئی کیا کہے گا!
حالانکہ ہلیمیٹ اپنی ہی سیفٹی کے لیے ہوتا ہے اس کے لئے نئی پرانی بائک ہونا کوئی معنی نہیں رکھتاـ گاؤں سے دوسرے گیئر میں نکلا، اس کے بعد اس کے بریک وریک چیک کیے اور پھر دوڑا دی ـ
راستے میں جمعہ کا وقت ہوگیا تھا، سوچا کہ پہلے جمعہ کی نماز ادا کرلی جائےـ آن روڈ ہی مسجد تھی چنانچہ بائک تھامی اور گیٹ پر کھڑی کر نے کے بعد مسجد کے احاطے میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ پیچھے سے ایک نوجوان نے آواز لگائی:بھائی صاحب! بائک لاک کردینا!جو لوگ نماز کے لئے آتے ہیں ان کی بھی بائک اٹھائی جاتی ہے؟دل ہی دل می‍ں سوچنے لگا!
ہاں جولوگ مساجد سے نمازیوں کے جوتے اٹھا لیتے ہیں، انھیں بائک اٹھانے میں کونسا خوف خدا مانع آتا ہوگا!!
لیکن من ہی من میں یہ کہہ کر اس سوال کو خارج کردیاکہ یار کون پانچ ہزار کے لوہے پر اپنا ایمان خراب کرے گا؟اللہ مالک ہےـ
مسجد کے احاطے میں داخل ہوگیا جوتے اتارے اور وضو کیا،میری بغل میں بیٹھا ایک نوجوان وضوسے فارغ ہوکر اپنے جوتوں کی طرف بڑھا، دیکھنے میں بڑا پڑھا لکھا اور مہذب اور شریف معلوم ہوتا تھا؛لیکن جیسے ہی اس نے اپنے جوتے پہننے کے لئے اپنے گیلے اور پانی سے تربتر پاؤں میرے جوتوں پر رکھے تو دل بیساختہ چیخ اٹھاکہ یار بڑا جاہل انسان ہےـ اپنے جوتے پہن نے کےلئے میرے جوتوں کا کچومر بنا ڈالاـ ابھی تو میرے جوتوں کی پالش بھی میلی نہیں ہوئی تھی! سب برباد کرکے چلا گیا! میری طبعِ لطیف پر یہ واقعہ بڑا گراں بار ہواـ
میں بھی وضو سے فارغ ہو چکا تھا اور میری نظریں اسی نوجوان کا پیچھا کر رہی تھیں،دیکھا کہ اپنے جوتے ہاتھ میں اٹھاکر مسجد میں داخل ہوا اور جوتے بڑی احتیاط سے ایک کونے میں رکھے، تاکہ جوتے محفوظ رہیں اور کوئی ان پر پاؤں بھی نہ رکھ پائےـ
سوچ رہا تھا کہ بھائی سے ملاجائے لیکن پھر دل نے کہاارے چھوڑو یار!!
سنتوں سے فارغ ہوکر امام صاحب کا بیان سن نے لگا،اچھا لہجہ، خوبصورت اسلوب، سحر بھری آواز،لہجے کا نشیب وفراز بڑا دلچسپ، کبھی موضوع اور کبھی موضوع سے ہٹ کر گفتگو، کبھی حوالہ اور کبھی غیر مستند باتیں، دیکھنے میں نئے نئے فارغ التحصیل معلوم ہوتے تھےـ دل نے کہا چلو خیر….ہمیں تو نماز ہی ادا کرنی ہے!
نماز کے بعد قافیہ بند دعاؤں کا اہتمام، روانی اور شتابی کا بھر پور مظاہرہ،ایسا لگتا تھا کہ جیسے دعا نہیں، بلکہ مال غنیمت سمیٹا جارہا ہو، جو جس کے ہاتھوں لگ رہا ہےلیکر بھاگ رہا ہے،مقتدی بھی جلدی جلدی آمین آمین بولے جارہے تھے،ایک مقام پر عجیب و غریب دعا پر آمین کہتے کہتے خود کو روک لیا،دعا تھی "اے اللہ ہماری باعزت موتوں میں برکتیں عطافر ما”ـ
سوچنے لگا کہ یاریہ ہوکیا رہا ہے!!
خیراللہ اللہ کرکے دعا کا دور پورا ہوا اور میں باقی نمازیں پوری کرکے سہارنپور کے لئے نکل گیا،تاہم
دو روز ہوگئے اب تک اسی دعا کا پس منظر تلاش کر رہا ہوں ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*