بر صغیر کے نامور محقق ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری کا انتقال،جمعیۃ علماء ہند کا اظہار تعزیت

نئی دہلی:حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ سے متعلق آٹھ جلدوں پر مشتمل ’’ سیاسی ڈائری ‘‘ کے مو لف ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری نے آج کراچی میں زندگی کی آخری سانس لی ۔ان کا خاندان اصلاً یوپی کے شاہ جہاں پور سے تعلق رکھتا ہے جہاں وہ ۱۹۴۰ء میں پیدا ہوئے۔جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد میں حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی اور وہیں ابتدائی عربی اور فارسی کے درس لیے۔آپ شروع ہی سے اپنے چچا مولانا عبدالہادی خانؒ جو مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کے شاگرد ِرشید تھے ،کے زیر تربیت رہے۔تقسیم وطن کے بعد 1950ء میں پاکستان چلے گئے اورباقی زندگی وہیں گزاری ۔پاک وہند کی سیاسی تاریخ، تحریک ولی اللہی ،آزادی کی تحریکات، تنظیمات، شخصیات اور ان تحریکوں کے نشیب وفراز ان کی تحقیق کے خاص میدان رہے۔ان موضـوعات پر ایک سو پچاس سے زائد کتابوں کی تالیف کے کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر امیر الہند مولانا قاری سید محمدعثمان منصورپوری او رجنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے ڈاکٹر صاحب مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا ہے ۔مرحوم کی تحقیق کا خاص موضوع ، جمعیۃ علماء ہند اور اس کے اکابر کی تحریکات ونظریات رہا ، انھوں نے جمعیۃ علماء ہند کے اکابر بالخصوص حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ ، مفتی اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ ؒ، حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ، قطب عالم حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ ، حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ ، مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒوغیرہ کی زندگی ، فکر ، فلسفے اور سیاست پر وقیع کتابیں لکھیں۔انھوں نے بر صغیرکی دو اہم شخصیات شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ سے متعلق آٹھ جلدوں پر مشتمل ’’سیاسی ڈائری‘‘ اسی طرح حضرت مولانا ابوالکلام آزاد ؒ پر ’ ’ آثار و نقوش ‘‘ لکھ کران کی سیاسی ، مذہبی خدمات و جد وجہد پر انسائیکلو پیڈیا مرتب کیاہے ۔ صدر جمعیۃ علماء ہند اور ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند نے مولانا مرحوم کے اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کی ہے، دعاء ہے کہ اللہ رب العزت مرحوم کو جنات علیا میں مقام اعلی عطا فرمائیں اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل مرحمت فرمائیں ۔ سبھی جماعتی احباب اور ارباب مدار س سے گزارش ہے کہ مرحوم کے لیے دعائے مغفرت او رایصال ثواب کا اہتمام کریں ۔