برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

 

مفتی محمد ثناء  الہدیٰ قاسمی 

نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

گذشتہ چند دہائیوں سے ملک کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سیاست زوروں پر چلی ہے ، اور اب بھی چل رہی ہے ، فرقہ پرست طاقتوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ایک خاص فرقہ کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر اپنی حکومت کو استحکام بخشا جا سکتا ہے، اس سوچ نے ہندوستان کے جمہوری قدروں کو سخت نقصان پہونچا یا ہے ، صورت حال یہ ہے کہ ایک خاص فرقہ اور پارٹی کا شخص بھڑکاؤ بھاشن دے کر فسادات کرادے تو حکومت کوئی دار وگیر نہیں کرتی اور وہ آزادانہ گھومتا رہتا ہے اور دوسرے فرقہ کا کوئی آدمی ان بیانات پر نکیر کرتا ہے تو اس کی گرفتاری عمل میں آجاتی ہے ، اس کی وجہ سے مخصوص فرقہ اور مذہب کے بہت سارے لوگ آج جیلوں کے اندر زندگی گذار رہے ہیں،فرقہ پرست طاقتوں کا شیوہ اور گودی میڈیا کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ ہر فتنہ کا رخ مسلمانوں کی طرف کر دیتے ہیں، کورونا وائرس کا پھیلاؤ ہندوستان میں پہلے ہو چکا تھا اور مزدور سماجی فاصلہ کی ہدایت کو نظر انداز کرکے سڑکوں پر آگیے تھے، حکومت پر تنقیدیں ہو رہی تھیں کہ بغیر منصوبہ بندی کے اس لاک ڈاؤن نے لوگوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے ، ایسے میں اس بیماری کا رخ بنگلہ والی مسجد کی طرف کر دیا گیا ، اور تبلیغی جماعت کو مورد الزام ٹھہرا کر ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جانے لگا، ذرائع ابلاغ نے اس معاملہ کو اس قدر طول دیا کہ ہندوستان کے عام شہری جو ایک خاص فکر سے متاثر تھے ، داڑھی ٹوپی والوں کو ہی اس کا ذمہ دار سمجھنے لگے ، لوگ بھول گیے کہ اس مرض کا پھیلاؤ تو پہلے سے ہی جاری تھا ، ایسا کریک ڈاؤن ان کے خلاف کیا گیا جیسا ایمرجنسی کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا ، حد یہ ہو گئی کہ وزارت صحت اور کیجریوال حکومت کی جانب سے جاری خبر نامے میں صراحت کی جانے لگی کہ اتنے فی صد لوگوں کا اضافہ جماعتیوں کی وجہ سے ہوا ہے ، اس تفصیل کا مقصد سوائے مسلمانوں کے بارے میں منافرت پیدا کرنے کے اور کچھ نہیں تھا ، جب اقلیتی کمیشن کے چیرمین نے خط لکھ کر اس طریقہ کی مخالفت کی او راپنی ناگواری دکھائی تو ان پر ایک ٹوئٹ کا سہارا لے کر ایف آئی آر درج کردیا گیا اور عہدے سے ہٹانے کے لئے مہرے تیار کیے جانے لگے ، وہ تو عدالت نے انہیں مہلت دیدی اور بعض سیاسی لوگ ان کی گرفتاری کے خلاف کھڑے ہو گیے ، اس لیے وہ بچ گیے ، حالاں کہ شکنجہ ان پر پوری طرح کس دیا گیا تھا ، اور اب بھی کچھ کہا نہیںجا سکتا کہ کب وہ ان سازشوں کے نتیجے میں ابتلائ وآزمائش میں مبتلا، پھر جب جماعتیوںکی رپورٹیں نیگیٹیو آنے لگیں اور انہوں نے اپنے امیر کی ہدایت پر مریضوں کو پلازما دینا شروع کیا ، تب کچھ صورت حال بدلی ، لیکن اس کے بعد بھی میڈیا نے اس طرح کوریج نہیں دیا، جیسا اس نے بنگلہ والی مسجد سے جماعتیوں کو نکالنے کی منظر کشی کی تھی، میڈیا کے پھیلائے اس نفرت انگریز رویے نے پورے ملک میں ایسا ماحول بنا دیا کہ ماب لینچنگ ہونے لگی ، یہ افواہ بھی پھیلائی گئی کہ یہ بھیس بدل کر کورونا ہندو آبادیوں میں پھیلا تے ہیں، سبزیاں تھوک لگا کر بیچتے ہیں اور اسپتالوں میں معالج کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں، کپڑے اتار دیتے ہیں وغیرہ ، اس کی وجہ سے لوگوں نے اس سے سبزیاں خریدنا چھوڑ دیا اور کئی جگہ ٹھیلہ لگا نے والوں کو زد وکوب کیا گیا ۔باوجودیکہ دنیا جانتی ہے کہ تبلیغی جماعت کا کام منصوبہ بند اور ڈیسی پلین کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ ایسا کچھ کر ہی نہیں سکتے، جس کا ذکر میڈیا نے بار بار کرکے نفرت کی دیوار کھڑی کی ہے۔

 ۶۱ñ اپریل۰۲۰۲ئ کو اسی درمیان گادجن جالے ضلع پال گھر مہاراشٹر میں چکنے مہاراج کلپ برکچھا گری عمر ستر سال سوشیل گری مہاراج عمر پینتیس سال اور گاڑی ڈرائیور نیلش تیل گاڑے عمر ۰۳ سال کو ہجومی تشدد کے ذریعہ ہلاک کر ڈالاگیا ، یہ لوگ اپنے گرو شری مہنت رام گری کے آخری رسوم میں شرکت کے لیے سورت جا رہے تھے، ممبئی سے ایک سو ستر کلو میٹر کی دوری پر واقع اس گاؤں میں بے دردی کے ساتھ ان تینوں کا قتل ہوا ، اس موقع سے بھی فرقہ پرست طاقوں نے اس کا رخ مسلمانوں کی طرف کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور قریب تھا کہ مہاراشٹر فرقہ وارانہ فسادات سے جل اٹھتا ، لیکن وہاں کے حکمرانوں نے بڑی چابک دستی ، مستعدی اور سرعت کے ساتھ کام کرکے صرف آٹھ گھنٹے میں ایک سو ایک لوگوں کو گرفتار کر لیا، اور محکمہ پولس نے واضح کر دیا کہ یہ سب ایک ہی فرقہ کے لوگ ہیں، بلکہ ایک ہی گاؤں کے ہیں اور ان میں کوئی مسلمان نہیں ہے ، حکومت وہاں چوں کہ مہااگاری کی ہے اس لیے یہ ممکن ہوا، ورنہ حکومت اگر بی جے پی کی ہوتی تو شاید حالات پر قابو پانا مشکل ہوتا۔

 اور اب تازہ واقعہ ۷۲ñ مئی ۰۲۰۲ئ کو پالکاڈ ضلع کے سب ڈویزن منار کارڈ کے ایک گاؤں تیری وزام کونو کا ہے ، جہاں ایک ہتھنی سائلنٹ ویلی نیشنل پارک سے نکل کر گاؤں میں داخل ہوگئی تھی گاؤں کی کاشت کو جنگلی جانور نقصان پہونچارہے تھے ، اس لیے ان کو بھگا نے ، ڈرانے کی مہم پہلے سے چل رہی تھی، اس ہتھنی کو بھی کسی نے انناس میں ہائی پاور پٹاخہ رکھ کر کھلا دیا کھاتے ہی وہ ہتھنی کے منہ میں پھٹ گیا ، جس سے اس کے جبڑے ٹوٹ گیے اور وہ موت کے گھاٹ اتر گئی ، مرنے سے پہلے وہ تین دن ندی میں پڑی رہی ، کسی نے اس کو بچانے کی کوشش نہیں کی اب اس کے مرنے پر واویلا مچا یا جا رہا ہے اور سارا زور اس پر ہے کہ کسی طرح اس کا مجرم مسلمان کو قرار دے کر کیرالہ کی فضاکو خراب کیا جائے ، کیرالہ وہ ریاست ہے جہاں اب تک بی جے پی کی دال نہیں گلی ہے ، اس نے وہاںمندر پر سیاست کرکے دیکھ لیا ، اب ہتھنی پر سیاست ہو رہی ہے، ہتھنی کا قتل جس نے بھی کیا وہ انتہائی غلط ہے ، لیکن اس پر سیاست وہ لوگ کر رہے ہیں جو سولہ مزدوروں کے ریل کے ذریعہ کٹ جانے پر خاموش رہے، جنہوںنے نو مزدوروں کی خود کشی پر ہونٹ سلے رکھا ، جو نقل مکانی کے درمیان سینکڑوں مزدوروں کی آبلہ پائی، ہلاکت اور ٹرینوں کے راستہ بھول جانے کے حیران کن واقعات پر بھی زبان نہیں ہلاسکے، جن کے نزدیک ماب لینچنگ میں مرے لوگوں کے لیے افسوس ظاہر کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا، اب وہ ایک جانور کی ہلاکت پر آسمان سر پر اٹھا رہے ہیں، جانوروں کی ہلاکت افسوسناک ، لیکن یہ انسانوں کی عظمت وحرمت کے مقابل تو نہیں، انسانی خون کی ارزانی پر جن لوگوں کے دل بے چین نہیں ہوتے وہ ایک ہتھنی کی موت پر انتہائی بے چین ہیں، بڑی کوشش کے باوجود بھی اس واقعہ میں وہ مسلمانوں کا ہاتھ ثابت کرنے میں ناکام رہے، ورنہ اس نام پر بھی طوفان بد تمیزی کا نیا دور شروع ہو جاتا ۔لطیفہ یہ ہے کہ یہی لوگ ہماچل پردیش میں اسی انداز میں گائے کی ہلاکت پر خاموش ہیں، دہرہ دون میں سانڈ پر تیزاب پھینکنے میں ان کو کوئی بُرائی نظر نہیں آ رہی ہے ، اس لیے کہ ان معاملات میں ملزم ان کے اپنے بھائی بندے ہیں، اب انہیں گئو ماتا کے تحفظ کی بات نہیں سمجھ میں آتی ہے اور بے زبان سانڈ پر جو ظلم ڈھایا گیا اس کا انہیں کچھ ملال نہیں ہے، ملک کو اس دہرے رویہ سے جو نقصان پہونچ رہا ہے وہ جگ ظاہر ہے، کل ملا کر اس ملک کاجو ماحول ہے ، اس میں رویہ وہ اختیار کیا جا رہا ہے جو ایک شاعر نے کہا ہے کہ

جب کوئی فتنہ زمانہ میں نیا اٹھتا ہے

 وہ اشارے سے بتادیتے ہیں تربت میری