برِ صغیر کے جعلی "سید”-محمد فہد حارث

ایک دوست نے سوال کیا کہ نبی ﷺ کی آل اولاد کے لئے "سید” کا لفظ کیوں استعمال کیا جاتا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟اس پر ہم ان کی جناب میں گویا ہوئے کہ نبی ﷺ کی اولاد نرینہ تو تھی نہیں اسی لئے قرآن نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ یعنی تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ تاہم آپ ﷺ تمام امت کے روحانی باپ ہیں اور ساتھ ہی آپ ﷺ کی بیٹیوں سے بھی نسل چلی لیکن یہ نسل آپﷺ کی نہیں بلکہ آپﷺ کے دامادوں کی نسلیں تھیں۔ برصغیر پاک و ہند میں شیعی پروپیگنڈہ کے زیر اثر سیدہ فاطمہ ؓ کے بطن سے ہونے والی سیدنا علی ؓ کی اولادوں کو "سید” کہا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آل علیؓ یا سیدہ فاطمہؓ کی اولادوں کے لئے کبھی متقدمین میں سے کسی نے نسبی تعلق کے لئے ’’سید‘‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی ۔ متقدمین کی چھوڑئیے اسلام آنے کے ۷۰۰، ۸۰۰ سالوں کے بعد تک سیدنا علی و فاطمہؓ کی اولادوں کے لئے نسبی تفاخر و تعلق کی نسبت سے کبھی ’’سید‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔نبی ﷺ کی بیٹیوں کی اولادوں کو یا تو اہلبیت رسولﷺ کہہ کر مخاطب کیا جاتا رہا یا پھر آپﷺ کے دامادوں کی نسبت سے مخاطب کیا جاتا رہا جیسے سیدنا علیؓ کی اولاد اسلام کے اوائل دور میں ہمیشہ علوی کہہ کر مخاطب کئے گئے۔ بعض لوگوں نے سیدہ فاطمہؓ کی نسبت سے خود کو فاطمی بھی کہلوایا جن میں بدنام زمانہ عبیدی حکمران مشہور ہیں جن کو مصر اور اس کے قرب و جوار میں حکومت قائم کرنے کا موقع مل گیا تھا لیکن تاریخ اسلام میں "سید” کے لفظ کا استعمال نسبی تعلق کے لئے ہمیشہ مفقود ہی رہا۔

ہوسکتا ہے کہ ہماری ان گزارشات پر کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ خود نبی ﷺ نے سیدنا حسن ؓ کو ’’سید‘‘ قرار دیا ہے جو کہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے مابین صلح کروائیں گے تو اس پر عرض ہے کہ یہ لقب آپﷺ نے نسبی تعلق سے نہیں بلکہ مدحت کے طور پر سیدنا حسنؓ کی صلح کے کارنامے کے اعزاز میں ان کو نوازا ہے جہاں اس کا لغوی مطلب سردار کے معنی میں ہے۔ لہٰذا اس سے ان کی آل اولاد کے لئے مروجہ ’’سید‘‘ کا لفظ استعمال کرنا ، صرف شیعی نظریات سے متاثر ہونے کا شاخسانہ ہی ہوسکتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ خود قدیم مؤرخین اور ماہر انساب نے کبھی اس لفظ کو سیدنا علیؓ کے صاحبزادوں یا ان کی آل اولاد کے لئے مخصوص نہیں کیا بلکہ عرب کے ہر اس معروف انسان کے لئے اس لفظ کا استعمال عام تھاجو کہ سیادت و سرداری کے مرتبے پر فائز ہوتا۔جیسا کہ کتاب نسب قریش صفحہ ۴۹۱ پر عبداللہ بن زید بن جدعان کے لئے آتا ہے کہ ” وکان عبداللہ بن زید بن جدعان سید قریش فی الجاھلیۃ ” یعنی عبداللہ بن زید بن جدعان جاہلیت میں قریش کا سردار تھا۔ قرآن میں بھی لفظ سید کہیں بھی نسبی تعلق کے لئے استعمال نہیں ہوا جیسا کہ سورۂ آل عمران :۳۸، سورۃ الاحزاب: ۶۷، سورۃ یوسف: ۳۵ وغیرہ سے واضح ہوتا ہے۔
پہلی دو آیتوں میں یہ لفظ سردار کے معنی میں آیا ہے جبکہ تیسری آیت میں یہ لفظ آقا و خاوند کے معنوں میں آیا ہے۔ ہماری ناقص معلومات میں ان تین مقامات کے علاوہ قرآن میں کہیں اور یہ لفظ کسی دوسرے معنی میں نہیں آیا اور نہ ہی اس کو قرآن میں کسی نسبی تعلق کے ذیل میں لایا گیا ہے۔ اسی طرح سے احادیث رسولﷺ اور اقوال صحابہؓ و تابعین و اتباع تابعین میں بھی سید کا لفظ زیادہ تر اوپر مذکورہ معنی میں ہی استعمال ہوا ہے، اس کو نسبی تعلق کے لئے سیدنا حسن و حسینؓ کی آل اولاد کے لئے کبھی کسی نے استعمال نہیں فرمایا جیسا کہ آجکل مشہور ہوا پڑا ہے۔ المختصر بنو ہاشم ہوں یا بنو امیہ، قریشی قبائل کے کسی گھرانے نے نسبی نسبت کے اظہار کے لئے خود کو کبھی ’’سید‘‘ نہیں کہلوایا اور نہ ہی کسی عرب نے کبھی یہ لفظ ان خاندان کے افراد کے لئے نسبی تعلق سے استعمال کیا۔ البتہ احتراماً قبیلۂ قریش کے لوگ ایک دوسرے کو سیدی و سیدنا کہتے رہے ہیں لیکن قریش کا کوئی گھرانا نہ اسلام سے پہلے اور نہ اسلام کے بعد کبھی نسباً سید کہلایا اور نہ ان قبائل و خاندان کے کسی شخص نے اظہار نسب کے لئے اپنے منہ سے خود کو سید کہا۔ جبکہ آج یہ حال ہے کہ ہر دوسرا آدمی خود کو "سید” باور کروانے اور ضعیف الاعتقاد لوگوں سے مالی منفعت بٹورنے میں لگا ہوا ہے۔ (الا ماشاءاللہ )برصغیر پاک و ہند کی تمام خانقاہوں کے سجادہ نشین "سید” ہیں ۔ پڑھے لکھے لوگوں میں بھی ہر تیسرے کو چھوڑ کر چوتھے صاحب "سید” بنے ہوتے ہیں، خاص کر پاکستان کی بہاری فیملیز میں ہر دوسرا خاندان ہی "سید” ہوتا ہے اور رشتہ کرتے ہوئے یہ مانگ سامنے رکھی جاتی ہے کہ لڑکا یا لڑکی "بہاری سید” ہونا چاہیے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنی تیزی سے دنیا میں شاید کوئی خاندان نہ بڑھا اور پھلا پھولا ہوگا جتنا یہ "سید” خاندان پھلا پھولا ہے کہ صرف پاکستان میں ہی ان کی تعداد کروڑوں نہیں تو لاکھوں میں تو ہوگی۔ واقعی ایک صاحب علم نے سچ ہی کیا تھا کہ پاکستان بننے سے پہلے جو "ایسے ویسے” تھے، پاکستان بننے کے بعد وہ "کیسے کیسے ” ہوگئے۔ خیر ہمیں کیا، جس کی جو مرضی خود کو نسبت دے ـ بس یہ حدیث نبوی ﷺ یاد رکھے کہ جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*