بربادی کے دہانے پر منریگا: خزانے میں نہیں بچاپیسہ، 90 فیصد بجٹ ختم، ابھی 5 ماہ باقی

نئی دہلی: ملک کے دیہاتوں میں روزگار کے لیے لائف لائن کے طور پر کہی جانے والی مہاتما گاندھی نیشنل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا) میں کام کرنے والے مزدوروں کی دیوالی اس بار دھندلی رہ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی منریگا اسکیم کے خزانے میں کوئی پیسہ نہیں بچا ہے جس کی وجہ سے 21 ریاستوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف دیہی ترقی کی وزارت نے ہفتے کے روز کہا کہ حکومت اس پروگرام کے مناسب نفاذ کے لیے اجرت اور مادی ادائیگیوں کے لیے فنڈز جاری کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وزارت نے کہا کہ جب بھی اضافی فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے، وزارت خزانہ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اسے فراہم کرے۔
دوسری طرف پیپلز ایکشن فار ایمپلائمنٹ گارنٹی (پی اے ای جی) ورکنگ گروپ کے رکن نکھل ڈے نے کہا کہ کورونا وائرس وبائی امراض کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن کا ملک بھر کے کارکنان پر غیر معمولی اثر پڑا ہے۔ پچھلے سال پہلی لہر کے دوران لاکھوں دیہی غریبوں نے منریگاکارخ کیا کیونکہ یہ بنیادی آمدنی کی حفاظت کا واحد ذریعہ تھا۔ مالی سال 2020-21 میں اس کے تحت کل 7.75 کروڑ خاندانوں کو کام دیا گیا تھا۔ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس) ڈیٹا پر مبنی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے ڈے نے کہاکہ اس سال کے لیے مختص بجٹ کا تقریباً 90 فیصد اب تک استعمال ہو چکا ہے، پروگرام کے پانچ ماہ باقی ہیں۔