بارہ بنکی مسجدکا انہدام غیرقانونی،سماجوادی پارٹی اورکانگریس کااحتجاج

بارہ بانکی:کوروناوبامیں حکومت کی جم کرکرکری ہوئی ہے ۔عدالت سے لے کرعوام پھٹکارلگارہی ہے۔سمجھاجاتاہے کہ ذہن بھٹکانے کے لیے اب مسجدکی شہادت کرائی گئی ہے تاکہ نئی بحث شروع ہو۔سوشل میڈیاپراوراپوزیشن ایساکہہ رہاہے ۔یوپی کے ضلع بارہ بنکی میں مسجدکی شہادت پرسماج وادی پارٹی کے بعد کانگریس نے بھی احتجاج کیا ہے۔ در حقیقت ایودھیا لوک سبھا حلقہ میں ایس ڈی ایم رہائش گاہ کے سامنے مسجدکوضلعی انتظامیہ نے 17 مئی کو بھاری فورس کی موجوگی میں شہیدکردیا۔ اس معاملے میں سنی سنٹرل وقف بورڈ نے ہائی کورٹ جانے کااعلان کیاہے۔ اس کے بعد ایس پی اور کانگریس پارٹی بھی سامنے آکرمخالفت کرہی ہیں۔سماج وادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کی ہدایت پر تشکیل دیے گئے سماج وادی پارٹی کے 9 رکنی نمائندگی بورڈ نے بارہ بنکی ڈی ایم کو ایک میمورنڈم پیش کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔اسی کے ساتھ ہی اس معاملے میں اعلیٰ سطح کی تحقیقات کے بعد ، قصوروار افسران سے بھی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔ سابق کابینہ کے وزیر اروند سنگھ گوپ نے کہاہے کہ عوام سیکڑوں سال پرانی قدیم مسجد کو منہدم کرنے پر ناراض ہیں۔ سماج وادی پارٹی اس پر آخر تک لڑے گی۔ ایس پی کی نو رکنی ٹیم میں سابق وزیر فرید محفوظ قدوائی ، سابق ممبر پارلیمنٹ رام ساگر راوت ، صدر کے ایم ایل اے سریش یادو شامل تھے۔پولیس انتظامیہ نے کانگریس پارٹی کے وفد کو کیمپس پر جانے پرحراست میں لے لیا۔ اس معاملے میں کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمارللوکاکہنا ہے کہ حکومت آمرانہ رویہ اپنانے کے لیے کوشاں ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ 100 سالہ قدیم مسجد کو حکام کے روکنے کے باوجود مسمار کردیا گیا۔ کانگریس پارٹی اس معاملے کے خلاف ایوان سے سڑک تک احتجاج کرے گی۔ کانگریس کے ریاستی صدر اجے کمار للوکی سربراہی میں مسجدکی جگہ پر جانے والے کانگریس راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور ترجمان پی ایل پنیا ، سابق وزیر نسیم الدین صدیقی سمیت متعدد کانگریسی رہنماؤں کو پولیس انتظامیہ نے تحویل میں لے لیا۔