باپ زینہ ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تک- عرشیہ انجم

اگر آپ کو اس کائنات کی سب سے حسین تصویر دیکھنی ہو تو کبھی بغور اس با پ کا چہرہ دیکھیں جو اپنی بیٹی کی کامیابی کے بعد خوشی اور فخر سے لبریز احساس کی ترجمانی کے لیے لفظ تراشتا رہ جاتا ہے۔ قربانیوں کو فراموش کر کے اپنی محنت و مشقت کو ثمر آور ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو ساکت و جامد خوشی کی انتہا میں گنگ صرف مسکراہٹ پہ ہی اکتفا کر کے ره جاتا ہے۔ یقیناً بیٹے کی کامیابی بھی فخر اور خوشی کا باعث ہوتی ہے، مگر جب بیٹی کامیابی حاصل کرتی ہے تو والد کو معاشرے میں علیحدہ وقار و عزت ملتی ہے۔
بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا ا ن کے کیرئیر کی فکر کرنا بیٹے کی بنسبت زیادہ مشکل کام ہے۔ ایک طرف معاشرے کی بوسیدہ اور دقیانوسی سوچ ،دوسری طرف حفاظتی تدابیر کو لے کر فکر مندی،ان سب کے باوجود اگر والد ہمت و حوصلہ برقرار رکھتا ہے اور اپنی بیٹی کو نہ صرف اعلی تعلیم بلکہ کیریئر سازی میں بھی معاونت فراہم کرنے میں پیش پیش رہتا ہے، تو یہ اس کی عظمت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
ہمارے سماجی نظام میں بیٹیاں شادی کے بعد مکمل طور پر شوہر کے گھر کی ہو کر رہ جا تی ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بیٹی گھر میں مہمان ہوتی ہے؛ اگر ایک والد اپنی بیٹی کو کامیاب دیکھنے کا خواہش مند ہو، اس کے خواب پورا کرنے میں انتھک محنت کرے تو یہ والد کے ایثار کی معراج ہے۔بیٹے والدین کے ساتھ تا عمر رہ سکتے ہیں، مگر بیٹیاں ایسا نہیں کر سکتیں۔ان سب کے باوجود والد کا بغیر کِسی توقع کے بیٹیوں کو آگے بڑھانے ، اُنھیں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں معاون و مددگار ہونا میری نگاہ میں اُن کی عظمت دو گنا کر دیتا ہے۔میں اپنے والد کے ساتھ دنیا کے سارے والد کو سلام کرتی ہُوں جنہوں نے بیٹیوں کے حوصلوں کو آسمان بخشا اور خوابوں کو پرواز دی۔ایک کامیاب بیٹی کے لبوں پر خوشی ،سکون و اطمینان دیکھ کر اُس کے والد کے چہرے پر جو فخر اور مان ہوتا ہے، وہ دنیا کی سب سے خوبصورت تحریر ہے۔ جذبات کی ترجمانی کا سب سے خوش نما منظر ہوتا ہے۔ محنت اور لگن کے نتیجے میں اُبھرے یہ رنگ اتنے حسین اور طاقتور ہوتے ہیں کہ جو جھونپڑی کی محرومی کو محل کی خوش حالی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ غریب کی بے بسی کو سرداری میں بدل سکتے ہیں۔
قابلِ تعریف ہیں وہ باپ جو بیٹی کو بوجھ نہیں سمجھتے۔ اُن کے "ہاتھ پیلے” کرنے کی جلد بازی نہیں کرتے۔ یقین و اعتماد کی دولت سے سرفراز کرکے اعلیٰ تعلیم سے قدموں کو مضبوط کرتے ہیں۔ عزم و ارادے کی طاقت دے کر شخصیت اور کردار کی بلندی پر پہنچا دیتے ہیں۔
خواب سبھی کی آنکھوں میں بستے ہیں مگر کم لوگ ہی اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کا اِرادہ کر پاتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ حالات کے سامنے سپر ڈال دیتے ہیں۔ خود کو مجبور، ہے بس تسلیم کرکے شکست قبول کر لیتے ہیں، مگر جو اپنے عزائم میں مضبوط ہوتے ہیں۔سختی سے قدم جمائے رہتے ہیں، و ہی منزل پر پہنچ پاتے ہیں:
آسانیوں سے پوچھ نہ منزل کا راستہ
اپنے سفر میں راہ کے پتھر تلاش کر
ایسا نہیں ہے کہ یہ کامیاب لوگ رکاوٹوں، مشکلوں سے مایوس نہیں ہوتے۔ فرار کا راستہ ان کے سامنے بھی ہوتا ہے، مگر "مسلسل کوشش” کا دامن تھام کر ایک دن منزلِ مقصود تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ "منزل پر نظر،عزم و استقلال،جوش و جنون، یقین کی طاقت، حوصلوں کی اُڑان” یہی کامیابی کی راہ کے سامان ہیں :
یقینں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*