بینک آف انڈیاسے 67 کروڑ کی دھوکہ دہی،بی جے پی لیڈرسمیت4 دیگر کے خلاف ایف آئی آر

نئی دہلی:سی بی آئی نے بینک آف انڈیا سے لئے لئے گئے 67کروڑ روپے کے قرض سے متعلق مبینہ مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی اور جعل سازی کے الزام میں بی جے پی کے لیڈر موہت کمبوج اور چار دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ سی بی آئی نے اپنی ایف آئی آر میں پہلے اویا اوورسیز پرائیویٹ لمیٹڈ اور کے بی جے ہوٹلس گوا پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام بھی درج کئے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سی بی آئی نے ممبئی کے پانچ مقامات پرچھاپہ مارکی کی، جس میں کمبوج سمیت ملزمان کی رہائش گاہ اور دفاتر شامل تھے۔ سی بی آئی ایف آئی آر کے مطابق، کمبوج کا نام جتیندر گلشن کپور، نریش مدن جی کپور (آنجہانی)، سدھانت بگلہ اور ارتیش مشرا کے ساتھ شامل ہے۔ بینک نے الزام عائد کیا ہے کہ کمبوج ایوان اوورسیز پرائیوٹ لمیٹڈ کے ضامن اور منیجنگ ڈائریکٹر تھے جو نے دبئی، سنگاپور، ہانگ کانگ اور دیگر ممالک میں ہاتھ سے تیار سونے کے زیورات کی تیاری اور برآمد میں مصروف عمل تھا۔ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کی ممبئی یونٹ کے صدر کمبوج نے بتایا کہ کمپنی نے 2018 میں ایک بار کی ادائیگی کے لئے بینک کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور اس کے تحت بینک کو 30 کروڑ روپئے کی ادائیگی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ بینک نے کمپنی سے ادائیگی وصول کرنے اور ہمیں ’نو ڈیوز سرٹیفکیٹ‘ دینے کے ڈھائی سال کے بعد ایک کیس درج کیا ہے،اس میں کوئی ایجنڈا ہے،یہ ذاتی دشمنی کا معاملہ بھی ہوسکتا ہے، میں سی بی آئی کی تحقیقات میں تعاون کروں گا۔عہدیداروں کے مطابق ایجنسی بینک آف انڈیا کی دفعہ 120بی (مجرمانہ سازش)، 406 (اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی)، 420 (دھوکہ دہی)، 468 (جعل سازی)، 471 (جعلی دستاویزات کو بطور حقیقی ظاہر کرنا) اور انسدادبدعنوانی ایکٹ کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروائی ہے۔ سرکاری سطح پر چلنے والے بینک آف انڈیا نے الزام عائد کیا ہے کہ قرض وصول کرنے والوں اور ضامنوں نے مبینہ طور پر اپنے عہدیداروں کے ساتھ مل کر سرکاری رقوم، دھوکہ دہی اور جعلسازی کا غلط استعمال کیا۔ سی بی آئی کے ترجمان نے کہاکہ ایک سازش کے تحت، مبینہ نجی کمپنی نے مبینہ طور پر فنڈز کی منظوری دے کر اسے ریلیز کردیا۔ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ مبینہ حد سے فائدہ اٹھانے کے بعد، ملزم کمپنی نے رقم دوسرے میں منتقل کردی اور اپنے دعوے کی حمایت میں جعلی دستاویزات پیش کئے۔